عالمی تلگو کانفرنس سے محمد محمود علی کا تلگو میں خطاب

مندوبین نے سراہا، اردو کے مقابلہ تلگو سیکھنا آسان: ڈپٹی چیف منسٹر
حیدرآباد۔/16ڈسمبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج عالمی تلگو کانفرنس میں اپنی تلگو دانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک اور بیرون ملک کے مندوبین سے داد و تحسین حاصل کی۔ کانفرنس کے دوسرے دن خطاب کرتے ہوئے محمود علی نے کہا کہ تلگو زبان میں بات چیت کرنا اور اسے سیکھنا اردو زبان سے آسان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگو زبان کو لکھنے میں زیادہ دشواری نہیں جبکہ اردو زبان کو لکھنا قدرے دشوار ہے کیونکہ حروف کو ملا کر لکھنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی میں شمولیت کے بعد انہوں نے تلگو زبان کو سیکھا ہے۔ ہندی کے بعد سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان تلگو ہے اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پہلی تا بارہویں جماعت تلگو کو لازمی قرار دیتے ہوئے اس کے فروغ کے اقدامات کئے ہیں۔ محمود علی نے کہا کہ تلنگانہ گنگا جمنی تہذیب کی علامت ہے اور چیف منسٹر کے سی آر تلگو کے ساتھ اردو کے فروغ میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے ریاست بھر میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ترقی اور فلاحی اسکیمات کے معاملہ میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ 47 سال کے بعد تلنگانہ میں عالمی تلگو کانفرنس منعقد ہوئی ہے اور یہ چیف منسٹر کی خصوصی دلچسپی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلگو زبان سے چیف منسٹر کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سرکاری جائزہ اجلاسوں میں تلگو میں بات کرتے ہیں اور حیدرآباد میں موجود بہار اور آسام کے آئی اے ایس عہدیداروں نے بھی تلگو زبان سیکھ لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کے ساتھ تلگو زبان کا رشتہ دراصل اٹوٹ رشتہ ہے اور تلنگانہ حکومت بیک وقت دونوں زبانوں کو ترقی دے رہی ہے۔ انہوں نے مادری زبان کے تحفظ کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر کسی کو اپنی مادری زبان میں بات کرتے ہوئے فخر محسوس کرنا چاہیئے۔ انگریزی زبان روزگار کے حصول کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ انگریزی میں گفتگو کرنے والے افراد ترقی یافتہ ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان سے نئی نسل کی وابستگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے عالمی تلگو کانفرنس کے انعقاد پر چیف منسٹر کو مبارکباد پیش کی اور مندوبین کا شہر محبت حیدرآباد میں استقبال کیا۔

TOPPOPULARRECENT