Tuesday , June 26 2018
Home / Top Stories / عالمی تنظیم تجارت میں ہندوستانی بیانات ’’غیرمستقل‘‘، اپوزیشن کا الزام

عالمی تنظیم تجارت میں ہندوستانی بیانات ’’غیرمستقل‘‘، اپوزیشن کا الزام

نئی دہلی۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کا اجلاس آج وقفۂ سوالات کے دوران دو مرتبہ ملتوی کیا گیا،کیونکہ کانگریس نے یہ کہتے ہوئے عالمی تنظیم تجارت نے حکومت کے بیانات ’’غیرمستقل‘‘ تھے، ایوان کے اجلاس میں ہنگامہ کھڑا کردیا تھا حالانکہ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے تضاد بیانی کی تردید کردی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بی جے پی

نئی دہلی۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) راجیہ سبھا کا اجلاس آج وقفۂ سوالات کے دوران دو مرتبہ ملتوی کیا گیا،کیونکہ کانگریس نے یہ کہتے ہوئے عالمی تنظیم تجارت نے حکومت کے بیانات ’’غیرمستقل‘‘ تھے، ایوان کے اجلاس میں ہنگامہ کھڑا کردیا تھا حالانکہ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے تضاد بیانی کی تردید کردی۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی بی جے پی گزشتہ سال ڈسمبر میں سابق یو پی اے حکومت اور عالمی تنظیم تجارت کے بالی اجلاس میں معاہدہ پر دستخط کے بارے میں غیرمستقل موقف کا مسئلہ اُٹھا چکی ہے اور وہ اپنے موقف پر قائم ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ ہفتہ یو پی اے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ بالی اجلاس میں غریبوں کے مفادات قربان کردیئے گئے ہیں۔ نئی حکومت غذائی صیانت کے موقف پر اٹل ہے۔ عالمی تنظیم تجارت کے حالیہ جنیوا مرحلے کے مذاکرات میں اس نے اپنا یہ موقف برقرار رکھا تھا۔ اس کے برعکس کانگریس نے کہا کہ اس نے عالمی تنظیم تجارت کے اجلاس میں غذائی صیانت پر سخت موقف اختیار کیا تھا، جبکہ وزیراعظم نریندر مودی ، مرکزی وزیر تجارت نرملا سیتا رامن کے ایوان کے اجلاس میں بیان کے برعکس بیان دے چکے ہیں۔ مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ وزیر تجارت اور وزیراعظم کے بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے جبکہ ایوان کا اجلاس 10 منٹ کے التواء کے بعد دوبارہ شروع ہوا تھا۔ صدرنشین حامد انصاری نے کہا کہ یہ مسئلہ وقفہ سوالات کے بعد اُٹھایا جاسکتا ہے لیکن کانگریس ارکان اپنے موقف پر اٹل رہے چنانچہ ایوان کا اجلاس دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔ سابق رکن ایکناتھ کے ٹھاکر، کی موت پر سوگ منایا۔ سابق وزیر تجارت اور سینئر کانگریس قائد آنند شرما نے کہا کہ وہ وقفہ سوالات معطل کرنے کی نوٹس دے چکے ہیں تاکہ حکومت کی تضاد بیانی پر مباحث کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو مرکزی وزیر تجارت نے ایوان میں یہ بیان دیا تھا کہ وزیراعظم کا ہفتہ کے دن کا بیان اس کے متضاد ہے۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے کہا کہ یہ مسئلہ وقفہ سوالات کے بعد اُٹھایا جاسکتا ہے،

لیکن آنند شرما اور دیگر کانگریس ارکان اپنے موقف پر اٹل رہے۔ شرما نے سوال کیا وزیراعظم اپنے بیان کو درست کریں یا مرکزی وزیر تجارت و صنعت اپنے بیان میں ترمیم کریں گی۔ حامد انصاری نے کچھ کہا لیکن شوروغل کے دوران کچھ بھی سنا نہیں جاسکا۔ انہوں نے ارکان سے اپیل کی کہ وقفہ سوالات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور پرکاش جاؤدیکر نے کہا کہ وزیراعظم نے وہی کہا ہے جو وزیر تجارت کہہ چکی تھیں۔ دونوں بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ اس پر شوروغل ہوا جس کے دوران حامد انصاری نے اجلاس 10 منٹ کیلئے ملتوی کردیا ۔ اجلاس دوبارہ شروع ہونے پر شوروغل کے مناظر جاری رہے۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ بالی میں ہندوستان نے جو رویہ اختیار کیا تھا، اس کی پوری دنیا نے ستائش کی تھی۔ غذائی صیانت اور غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کے بارے میں ہندوستان کے موقف کی ستائش کی گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT