Thursday , December 14 2017
Home / دنیا / عالمی دہشت گردی سے نمٹنے ’’اصطلاحات‘‘ درست کرنے کی ضرورت

عالمی دہشت گردی سے نمٹنے ’’اصطلاحات‘‘ درست کرنے کی ضرورت

دہشت گردی نہ تو جہاد ہے اور نہ دہشت گرد جہادی۔ مغرب کی اصطلاح گمراہ کن : رپورٹ
برسلز ۔ 14 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) برسلز اور لاہور میں حالیہ دنوں میں جو خونریز حملے ہوئے اس سے بین الاقوامی دہشت گردی کو جس طرح اندھادھند انداز میں انجام دیا جارہا ہے، اس کا پتہ چلتا ہے۔ 9/11 کے بعد مغرب کی آنکھیں کھل گئیں اور اس نے افغانستان اور پاکستان کے کچھ حصوں پر فضائی حملے کرکے انہیں تہس نہس کر ڈالا، جہاں طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں افراد کو صرف 9/11 کا انتقام لینے کے لئے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا لیکن ہوا کیا؟ دہشت گردانہ واقعات میں کمی نہیں آئی بلکہ آج بھی یہ واقعات کہیں نہ کہیں ضرور رونما ہورہے ہیں اور آج پوری دنیا کیلئے دہشت گردی ایک خطرہ بنی ہوئی ہوئی ہے۔ وجہ یہ ہیکہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جو طریقہ کار استعمال کئے جارہے ہیں ان میں خامیاں ہیں۔ مثال کے طور پر دہشت گردوں کو آج کل ’’جہادی‘‘ کہا جارہا ہے جو دراصل عربی لفظ جہاد سے بنا ہے جس کے لفظی معنی جدوجہد کے ہیں۔ ہر انسان کیلئے سب سے بڑا جہاد خود اپنے نفس سے لڑنا ہے جبکہ سب سے چھوٹا جہاد اپنے بچاؤ کیلئے لڑنا ہے۔ قرآن مجید میں جہاد کا لفظ ایک دو بار نہیں بلکہ پورے 41 بار استعمال کیا گیا ہے۔ لہٰذا  برسلز اور لاہور میں جو کچھ ہوا اسے ہم ’’جدوجہد‘‘ تو نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ پوری طرح دہشت گردانہ کارروائی تھی جس میں معصوم افراد کا قتل کیا گیا۔ دہشت گردوں کو جہادی کہنا ہے بالکل ایسا ہی ہے جیسا کسی قتل عام میں ملوث قاتلوں کو جہدکار کہا جائے یا جدوجہد کرنے والا کہا جائے۔ اگر عربی زبان کی اصطلاح کا ہی پابند بنتا ہے تو پھر اندھادھند قتل کے عمل کو فساد کہا جائے گا اور جو اس پر عمل کرتے ہیں انہیں فسادی کہا جائے گا۔ قرآنی آیات کے مطابق بھی کسی معصوم کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ دہشت گردوں کو جہادی کہہ کر ہم خود ان کے ہاتھوں کا کھلونا بن گئے ہیں

کیونکہ اس طرح وہ اپنی اس جنونی حرکتوں کو بجا قرار دینے لگے ہیں۔ آج امن پسند شہریوں کیلئے چاہے وہ مسلمان ہوں یا کوئی اور دہشت گردی کے خلاف لڑائی جتنی مسلمانوں کی ہے اتنی ہی ان کی بھی ہے۔ دہشت گردانہ کارروائیوں سے جتنا نقصان مسلم قوم کو پہنچا ہے اتنا کسی اور قوم کو نہیں پہنچا۔ کچھ روز قبل اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی یہی بات کہی تھی۔ مزید برآں شیعہ مسلمان جہاد کو اسلامی تعلیمات کے سات اہم ستونوں میں سے ایک ستون سمجھتے ہیں۔ شیعہ مسلمان جہاد کو اس اصطلاح کے مطابق استعمال نہیں کرتے جیسا کہ مغرب نے اسے پیش کیا ہے۔ اب جبکہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے جنگجو یکے بعد دیگرے قابض علاقوں سے پسپا ہوتے جارہے ہیں اور فرار ہونے پر مجبور ہیں، وہ اسی جہاد کا نتیجہ ہے۔ جہاد یعنی اپنے دفاع کیلئے لڑائی۔ اس لڑائی کیلئے ہزاروں عراقیوں نے (چاہے وہ کسی بھی مسلک کے ہوں) آیت اللہ السیستانی کی آواز پر لبیک کہا جہاں انہوں نے خود کے دفاع کیلئے جہاد کی ضرورت پر زور دیا تھا اور دولت اسلامیہ کے خلاف جدوجہد یا مزاحمت کیلئے خود کو تیار کرلیا ہے۔ جون 2014ء میں السیتانی نے دولت اسلامیہ کے خلاف مزاحمت کرنے کی بات کہی تھی۔ اب تک دولت اسلامیہ کے خلاف جو بھی کامیابیاں ملی ہیں وہ اس وقت تک ممکن نہیں ہوسکتی تھیں جب تک السیتانی نے ’’جہاد‘‘ کا صحیح نعرہ بلند نہ کیا ہوتا۔ کربلا میں حضرت امام حسین ؓ کے مزار کے قریب ایک ڈونیشن باکس نصب کیا گیا ہے جہاں لوگ صرف دولت اسلامیہ سے نبردآزما ہونے کیلئے درکار فنڈس کیلئے اپنی جانب سے کوئی نہ کوئی رقم اس باکس میں ضرور ڈالتے ہیں۔ کربلائے معلی عالم اسلام کا مقدس ترین مقام قرار دیا جاتا ہے۔ ڈونیشن باکس پر جلی حرفوں میں تحریر ہے۔ ’’برائے مہربانی دولت اسلامیہ کے خلاف نبردآزما فوج کے ساتھ اپنا مالی تعاون عطا کریں‘‘۔ نجف اور کربلا میں حضرت علی ؓ اور امام حسین ؓ کے علاوہ حضوراکرم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارکان خاندان کے مزارات پر بھی ایسے ڈونیشن باکس نصب ہیں جو بڑی بڑی رقومات سے بھرے ہوئے ہیں۔ آج ضرورت ہے دہشت گردی کو صرف دہشت گردی کے ہی نام سے پکارنے کی ناکہ اسے جہاد کہا جائے اور نہ ہی دہشت گردوں کو جہادی۔ اگر ہم اپنی اصطلاحات کو ترجیحات میں شامل کرلیں تو سب کچھ مثبت انداز میں بدلا ہوا نظر آئے گا۔

TOPPOPULARRECENT