Tuesday , September 25 2018
Home / شہر کی خبریں / عالمی سطح پر ای ۔ کچرا کی پیداوار میں اضافہ

عالمی سطح پر ای ۔ کچرا کی پیداوار میں اضافہ

سالانہ 50 ملین میٹرک ٹن ای ۔ کوڑا کرکٹ کی نکاسی
نئی دہلی ۔ 8 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : ساری دنیا میں ای مینجمنٹ ، ای حکمرانی ، ای سرٹیفیکٹس ، ای دستاویزات ، ای ٹکٹنگ ، ای داخلہ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں الیکٹرانکی طریقہ کو کافی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس سے وقت اور پیسے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی بھی بچت ہوتی ہے ۔ اس میں حقیقت کا عنصر بھی شامل ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ الیکٹرانکس کے استعمال سے جو کوڑا کرکٹ نکلتا ہے وہ انسانوں اور جانوروں کی صحت کے علاوہ پودوں ، درختوں ، حشرات الارض کی بقاء کے لیے بھی بہت مضرت رساں ہوتا ہے ۔ ای ۔ کچرا کا جہاں تک تعلق ہے سال 2016 میں 44.7 ملین میٹرک ٹن کچرا کی پیداوار ہوئی اور امید ہے کہ 2021 میں ای ۔ کوڑا کرکٹ کی پیداوار 52.2 ملین میٹرک ٹن تک پہنچ جائے گی ۔ 2016 میں جو 44.7 ملین میٹرک ٹن ای ۔ کوڑا کرکٹ کی پیداوار ہوئی وہ 4500 ایفل ٹاورس کے وزن کے برابر ہے ۔ حالیہ عرصہ کے دوران منظر عام پر آئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2016 میں ای ۔ کچرا کی پیداوار فی شخص 6.1 کلو گرام رہی اور 2021 میں اس کے 6.8 کلو گرام تک پہنچ جانے کی امید ہے ۔ اس معاملہ میں بھی چین سرفہرست ہے ۔ چین میں 2016 کے دوران 7.2 ملین میٹرک ٹن ای ۔ کوڑا کرکٹ کی پیداوار ہوئی ۔ امریکہ میں ای ۔ کوڑا کرکٹ 2011 میں 6.3 ملین میٹرک ٹن منظر عام پر آیا ۔ ہندوستان میں اس مدت کے دوران 1.96 ملین میٹرک ٹن ای ۔ کوڑا کرکٹ کی پیداوار ہوئی ۔ امریکی باشندے ایکٹرانی ایشیا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں چنانچہ وہاں فی شخص 19.4 کلو گرام ای کوڑا کرکٹ نکلتا ہے ۔ چین میں 5.2 کلو گرام اور ہندوستان میں 1.5 کلو گرام ای کوڑا کرکٹ فی شخص منظر عام پر آتا ہے ۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 8.9mt ای کوڑا کرکٹ باقاعدہ جمع کر کے اس کی مناسب انداز میں ری سائیکلنگ کی جاتی ہے ۔ 4 فیصد ( 1.7mt ) ای کچرا زیادہ آمدنی والے ممالک میں گھریلو کوڑا کرکٹ میں پھینک دیا جاتا ہے ۔ 76 فیصد 34.1mt) ) ای کچرا ویران مقام پر پھینک دیا گیا یا پھر داخلی طور پر اس کی ری سائیکلنگ عمل میں آئی ۔ ایشیا کے 49 ممالک میں جن کی جملہ آبادی 4.4 ارب ہے دنیا کے ای کچرا کا 40.7 فیصد 18.2 ملین ٹن کچرے کی نکاسی عمل میں آئی ہے ۔ گذشتہ سال کے اختتام پر ایک نئی رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں بتایا گیا کہ ای کچرا کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے ۔ ای کچرا عام قسم کے کوڑا کرکٹ سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے ۔ ماحولیات پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی یونیورسٹی ( UNU ) نے گلوبل ای ویسٹ مانیٹر 2017 نای ایک رپورٹ جاری کی جس میں انکشاف کیا گیا کہ 2014 تا 2016 ای کوڑا کرکٹ کی شرح میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے ۔ 2016 میں 44.7 ملین میٹرک ٹن ای کوڑا کرکٹ کی پیداوار ہوئی جو 2014 کی پیداوار 41.4 ملین میٹرک ٹن سے 8 فیصد زیادہ ہے ۔ اس ای کوڑا کرکٹ میں نارکارہ ٹی وی سیٹس ، اسمارٹ فونس ، سولار پیانل ، ریفریجریٹر اور دوسرے کئی آلات ہیں ۔ اس شرح میں 2021 تک 21 فیصد اضافہ کا امکان پایا جاتا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ 2016 میں ای کوڑا کرکٹ کی ری سائیکلنگ سے حاصل ہونے والے خام مال کی مالیت 64.7 ارب ڈالرس رہی جو اکثر ملکوں کی قومی مجموعی پیداوار سے کہیں زیادہ ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT