Saturday , September 22 2018
Home / پاکستان / عالمی سطح پر ترک اسلحہ کا رجحان تاہم ہندوپاک پر اس کا کوئی اثر نہیں

عالمی سطح پر ترک اسلحہ کا رجحان تاہم ہندوپاک پر اس کا کوئی اثر نہیں

کراچی ۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوپاک کے بارے میں اگر عالمی سطح پر گشت کررہی رپورٹس پر اعتبار کیا جائے تو یہ پتہ چلے گا کہ دنیا بھر ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف جو رجحان پایا جاتا ہے، دونوں ممالک اس کے برعکس اپنے نیوکلیئر توانائی کو مزید مستحکم کررہے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) نے یہ بات کہی۔ سوڈیش انسٹیٹیوٹ کی جانب

کراچی ۔ 15 جون (سیاست ڈاٹ کام) ہندوپاک کے بارے میں اگر عالمی سطح پر گشت کررہی رپورٹس پر اعتبار کیا جائے تو یہ پتہ چلے گا کہ دنیا بھر ہتھیاروں کی دوڑ کے خلاف جو رجحان پایا جاتا ہے، دونوں ممالک اس کے برعکس اپنے نیوکلیئر توانائی کو مزید مستحکم کررہے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (SIPRI) نے یہ بات کہی۔ سوڈیش انسٹیٹیوٹ کی جانب سے ہتھیاروں سے دستبرداری کی ایک سالانہ رپورٹ تیار کی گئی جو دراصل دنیا میں پائی جانے والی ہتھیاروں کی دوڑ پر کنٹرول اور دیگر معاملات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ 2010 تا 2015ء کے درمیان نیوکلیئر ہتھیاروں (وارہیڈس) 22,600 سے کم ہوکر 15,850 ہوئی ہے۔ تاہم ہندوستان میں وارہیڈس 90 سے بڑھ کر 100 اور پاکستان میں 100 سے بڑھ کر 120 ہوگئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہیکہ دونوں ممالک اپنے اپنے طور پر اپنی نیوکلیئر توانائی میں اضافہ ہی کرتے جارہے ہیں۔ SIPRI کے محقق شنان کالے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے نیوکلیئر توانائی کے حامل ممالک مستقبل قریب میں ہتھیاروں کی دوڑ سے دستبردار ہونا نہیں چاہتے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہیکہ نیوکلیئر توانائی کے حامل دیگر تین بڑے ممالک جنہیں 1968ء نیوکلیئر نان پرالیفریشن ٹریٹی کے ذریعہ مسلمہ قرار دیا گیا ہے ان میں فرانس (300 وارہیڈس)، (چین 266 وار ہیڈس) اور (برطانیہ 215 وار ہیڈس) شامل ہیں۔ البتہ یہ ممالک اپنی نیوکلیئر توانائی میں کوئی اضافہ نہیں کررہے ہیں اور نہ ایسے کسی منصوبے کا انہوں نے اعلان کیا ہے۔ البتہ چین کے بارے میں کہا گیا ہیکہ اس نے اپنی نیوکلیئر توانائی میں معمولی سا اضافہ کیا ہے۔ انسٹیٹیوٹ کے ذریعہ تیار کی گئی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہیکہ شمالی کوریا بھی 6 تا 8 وار ہیڈس کے ساتھ اپنی نیوکلیئر توانائی میں اضافہ کررہا ہے۔ تاہم تکنیکی فروغ کے بارے میں اندازۃ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ یہ رپورٹ دراصل اس پس منظر میں تیار کی گئی ہے جہاں نیوکلیئر توانائی کے حامل اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ رکن ممالک امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس اور ساتھ ہی ساتھ جرمن، ایران کے ساتھ مسلسل بات چیت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں جہاں وہ ایران سے یہی مطالبہ کررہے ہیں کہ ایران کے خلاف ان ممالک کی عائد کردہ تحدیدات کی برخاستگی کے عوض ایران اپنا نیوکلیئر توانائی پروگرام ترک کردے۔

TOPPOPULARRECENT