Friday , November 24 2017
Home / سیاسیات / عالمی قائدین سے مودی کی دوستی کے باوجود کسی نے بھی ہندوستان کی اعلانیہ تائید نہیں کی

عالمی قائدین سے مودی کی دوستی کے باوجود کسی نے بھی ہندوستان کی اعلانیہ تائید نہیں کی

شیوسینا سے دشمنی میں پی جے سی نے چین اور پاکستان کونظرانداز کردیا، داخلی سیاست میں الجھا رہنا قوم سے ناانصافی : ادھوٹھاکرے

ممبئی ۔ 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا کے صدر ادھو ٹھاکرے نے آج کہا کہ وزیراعظم نریندر مدی کی جانب سے کئی عالمی قائدین کو اپنا دوست بنائے جانے کے باوجود چین اور پاکستان کے ساتھ مسائل پر ہندوستانی بین الاقوامی برادری سے تائید حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا۔ ادھو ٹھاکرے نے جن کی پارٹی مرکز اور مہاراشٹرا میں بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے میں شامل ہے، کہاکہ یہ امر ملک کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہوگا کہ اس کی ایک سینئر حلیف محض انتخابات اور داخلی سیاست میں الجھی رہے۔ ٹھاکرے نے اپنی پارٹی کے ترجمان مرہٹی روزنامہ ’’سامنا‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو کے دوسرے حصہ کے دوران استفسار کیا کہ ’’آخر وہ کیا ہوا کہ کشمیرمیں بدترین بے چینی پیدا ہوئی ہے اور آخر وہ کیا ہوا کہ اژدھا (چین) ہمارا دشمن بن گیا؟ آیا ہم میں کہیں کچھ کمی تو نہیں ہورہی ہے؟ وزیراعظم ساری دنیا گھوم رہے ہیں اور کئی دوست بنارہے ہیں۔ تو پھر کیا بات ہیکہ ان دشمنوں (چین اورپاکستان) کے خلاف کوئی بھی کھل کریا اعلانیہ طور پر (ہماری) تائید نہیں کررہا ہے ؟‘‘۔ ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ ’’بی جے پی شاید شیوسینا کو ہی اپنا دشمن نمبر ایک تصور کرتی ہوگی اور شاید اس لئے ممکن ہیکہ (بی جے پی نے) چین اور پاکستان کو نظرانداز کردیا ہوگا۔اگر وہ شیوسینا کو ان دو ملکوں سے بڑی دشمن تصور کرتی ہے تو یہ میری نہیں بلکہ ان (بی جے پی) کی بدقسمتی ہے‘‘۔ سکم سیکٹر میں ہند اور چین کے درمیان تقریباً ایک ماہ سے سرحدی تعطل برقرار ہے، جس کو جوں کا توں موقف تبدیل کرنے کیلئے چین کی حکمت عملی سمجھا جارہا ہے۔ ٹھاکرے کے مطابق چین کی طاقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا اور اس سے برابری کیلئے ہندوستان کو مزید مساعی کی ضرورت ہے۔ شیوسینا کے سربراہ نے کہا کہ ’’حکمراں جماعت اگر محض انتخابات اور داخلی سیاست میں الجھن رہتی ہے تو یہ ملک اور قوم کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ آپ کسی بھی وقت انتخابات جیت سکتے ہیں اور آپ انتخابات جیت بھی چکے ہیں لیکن ایک جنگ، جنگ ہی ہوتیہے او ر وہاں چین مدمقابل ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک طرف وہ (بی جے پی) کشمیر کو پاکستان سے واپس لینے کے اہل ہوسکتے ہیں تو دوسری طرف چین توسیع کی کو شش کررہا ہے‘‘۔ گاؤرکھشکوں کی غنڈہ گردی اور پرتشدد واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے شیوسینا کے سربراہ نے کہا کہ فی الحال ملک کا ماحول ٹھیک نہیں ہے اور سوال کیا کہ ’’بیک وقت آپ کتنے محاذوں پر لڑ سکیں گے‘‘۔ صدارتی انتخابات سے قبل این ڈی اے اجلاس کے دوران مودی سے اپنی ملاقات کے بارے میں ایک سوال پر ٹھاکرے نے جواب دیا کہ وزیراعظم نے بے پناہ چاہت کے ساتھ میرا خیرمقدم کیا۔ وزیراعظم نے کھانے پر مجھے اپنے ساتھ بیٹھنے کی درخواست اور میرے ارکان خاندان کی صحت و سلامتی کے بارے میں انتہائی چاہت کے ساتھ دریافت کیا۔ مودی نے حتیٰ کہ مرہٹی میں بھی مجھ سے بات کی۔ ٹھاکرے نے گذشتہ روز شائع شدہ اپنے انٹرویو کے پہلے حصہ میں وزیراعظم مودی پر ہر ادارہ کے ارتکاز میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔ انہوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی بھی مذمت کی تھی۔ شیوسینا لیڈر نے کہا کہ اخبارات میں شائع ہونے والے سرکاری اشتہارات سے محسوس ہوتا ہیکہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن کسی کو زمینی حقائق کا جائزہ بھی لینا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT