Thursday , December 13 2018

عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے ممالک کا ابتدائی معاہدے پر اتفاق

لیما۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پیرو کے دارالحکومت میں عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے جاری کانفرنس میں 190ممالک میں ابتدائی معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے،جس کے تحت تمام ممالک کومارچ 2015تک گرین ہائوس گیسز کے اخراج کی روک تھام کیلئے اقدامات کے حوالے سے منصوبہ جمع کرانا ہوگا،ابتدائی مسودے میں کہا گیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے ممکن

لیما۔ 15 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) پیرو کے دارالحکومت میں عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے جاری کانفرنس میں 190ممالک میں ابتدائی معاہدے پر اتفاق ہوگیا ہے،جس کے تحت تمام ممالک کومارچ 2015تک گرین ہائوس گیسز کے اخراج کی روک تھام کیلئے اقدامات کے حوالے سے منصوبہ جمع کرانا ہوگا،ابتدائی مسودے میں کہا گیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے ممکنہ نتائج سے نمٹنے کیلئے غریب ممالک کو زیادہ رقوم دی جائیں گی، جبکہ ماحولیات کیلئے کام کرنے والوں نے ابتدائی معاہدے کو کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے، ابتدائی معاہدے کی تفصیلات آئندہ برس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحولیات پر ہونے والے عالمی سربراہی اجلاس میںپیش کی جائیں گی، پیرس میں ہونے والے مذاکرات میں جامع عالمی معاہدہ ممکن ہوسکے گا، تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی عالمی کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے ابتدائی معاہدے پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے،جس کے تحت درجہ حرارت بڑھنے کے اثرات کا مقابلہ کرنے کیلئے غریب ممالک کیلئے زیادہ فنڈ دینے کا وعدہ کیا گیا ہے،پیرو کے دارالحکومت لیما میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں تنظیم کے رکن ممالک شریک تھے جنہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں پر آئندہ سال ہونے والی بات چیت کیلئے وسیع تر خاکے کی منظوری دی گئی ہے،ابتدائی مسودے میں کہا گیا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے ممکنہ نتائج سے نمٹنے کیلئے غریب ممالک کو زیادہ رقوم دی جائیں گی جبکہ ایک طریقہ کار سے معلوم کیا جائیگا کہ امیر ممالک کس حد تک آلودگی میں کمی کا وعدہ پورا کر رہے ہیں،ماہر ماحولیات نے ابتدائی معاہدے کو کمزور اور غیر موثر قرار دیا ہے،ماحولیاتی تبدیلیوں کے متعلق اس کانفرنس میں ایک 190ممالک شریک تھے اور بات چیت میں امیر اور غریب ممالک کے درمیان واضح تقسیم سے ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا تھا،اجلاس کی صدارت کرنیوالے پیرو کے وزیرِ ماحولیات مینوئل پلگر نے کہا کہ ابتدائی معاہدے سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہوا ہے،’مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کہ سارا مسودہ مکمل طور پر درست نہیں ہے لیکن اس میں اراکین کی نقطہ نظر کا احترام ضرور کیا گیا ہے اور یہ ہمارا اپنا ترتیب دیا ہوا متن ہے جس کی بنیاد کانفرنس کے صدر کو ملنے والی تجاویز پر ہے۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تمام ممالک طے شدہ ہدف کے علاوہ بھی آلودگی میں کمی کیلئے اپنے اہداف مقرر کریں گی اور آئندہ سال نومبر تک ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق اقوام متحدہ کا ادارہ تمام ممالک کی کارکردگی رپورٹ جمع کروائے گا، ابتدائی معاہدے کی تفصیلات آئندہ سال فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ماحولیات پر ہونیوالے عالمی سربراہی اجلاس میں پیش کی جائیںگی۔ توقع ہے کہ پیرس میں ہونے والے مذاکرات میں جامع عالمی معاہدہ ممکن ہوسکے گا۔

TOPPOPULARRECENT