Sunday , December 17 2017
Home / ہندوستان / عالمی معاشی طوفان سے نمٹنا ہندوستان کیلئے بڑا چیلنج

عالمی معاشی طوفان سے نمٹنا ہندوستان کیلئے بڑا چیلنج

دنیا بھر میں ماضی کے تجربات کی روشنی میں اقدامات ناگزیر، کام کٹھن مگر ناممکن نہیں

نئی دہلی ، 25 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) یہ حقیقت تو سب پر عیاں ہے کہ دیسی طور پر عمومی صورتحال اس کے مقابل بظاہر کافی بہتر ہے جو دو سال قبل تھی، جب ہندوستان ایسی رفاقت میں تھا جیسے ترکی، برازیل، انڈونیشیا اور جنوبی افریقہ۔ یہ پانچ نازک معیشتیں ہیں۔ روپیہ ایسی کرنسیوں میں سے تھا جو سب سے زیادہ متاثر ہوئیں، بالخصوص اُن ہفتوں میں جب امریکہ نے پہلی مرتبہ اشارہ دیا کہ وہ غیرمعمولی مالیاتی توسیع کی اپنی پالیسی معیاری نرمی لاتے ہوئے ترک کردے گا۔ تب سے بہت کچھ تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ افراط زر میں گراوٹ آئی ہے۔ موجودہ کھاتہ خسارہ گھٹ چکا ہے۔ مالیاتی صورتحال کافی بہتر ہے۔

بہ الفاظ دیگر تشویشناک معاشی عدم توازن کے تین سب سے نمایاں عناصر اب پریشان کن نہیں ہے۔ لہٰذا ہندوستان پہلے کے مقابلے کسی بھی عالمی طوفان سے نمٹنے کے بہتر موقف میں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ بقیہ دنیا سے مربوط کوئی بھی معیشت اس طرح کی مراعات نہیں رکھتی ہے، اسے بڑھتی عالمی منڈی سے فائدہ ہوتا ہے لیکن عالمی معاشی پریشانیوں سے منفی رجحانات کا امکان بھی برقرار رہتا ہے۔ مالیاتی منڈیوں میں پہلے ہی چین کی معاشی پریشانیوں کے بڑھتے اثرات سے اتھل پتھل ہوچکی ہے۔ یہ صرف اقتصادی قیمتوں کا معاملہ نہیں ہے، حصص، بانڈس اور کرنسیاں تمام پر اثر پڑتا ہے۔ آخر میں جو چیز کی اہمیت ہوتی ہے وہ حقیقی معیشت پر پڑنے والا اثر ہے۔ ہندوستان نازک معاشی بحالی کے دور سے گذر رہا ہے۔ آیا یہ عالمی معاشی حالات کی ابتری کے جوکھم میں خود کو سنبھال پائے گا، بڑا سوال ہے۔ گذشتہ 35 برسوں کے دوران عالمی معاشی ترقی اور ہندوستانی معاشی ترقی سے متعلق اعداد و شمار دلچسپ حقائق پیش کرتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ غیرحقیقت پسندانہ ایقان کہ ہندوستان بقیہ دنیا سے دگنا طور پر متاثر ہوتا رہا ہے، درست نہیں ہے جیسا کہ 2008ء کے پہلے نصف میں دیکھا گیا۔ آج زیادہ تر لوگ قبول کریں گے کہ ہندوستان دیگر خطوں میں ہونے والی تبدیلیوں سے کچھ متاثر ضرور ہوتا ہے۔

ماضی کے اعداد وشمار یہ بھی بیان کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہیکہ ایسے برس بھی گذرے ہیں جب ہندوستانی معیشت عالمی معیشت سے بہت زیادہ مربوط نہیں رہی۔ چنانچہ عالمی معیشت کے منفی اثرات کا ہندوستانی معیشت پر اثر نہیں پڑا۔ مثال کے طور پر 1984ء میں عالمی بڑھوتری غیرمعمولی رہی لیکن ہندوستان اس کا شاید ہی کوئی فائدہ اٹھا سکا۔ ہندوستانی شرح ترقی میں گراوٹ 1991ء میں عالمی سست روی کے مقابل زیادہ دیکھنے میں آئی جس کا سبب دیسی سطح پر معاشی بحران رہا۔ درحقیقت ہندوستانی معیشت میں تیزی 1998ء میں دیکھنے میں آئی حالانکہ عالمی سطح پر شرح ترقی سست روی کا شکار تھی۔ 2009ء کے بعد تیز تر معاشی بحالی نے عالمی شرح کو پیچھے چھوڑا۔ تیسری اہم بات یہ ہیکہ گذشتہ 35 سال میں صرف 4 مواقع ایسے آئے جب ہندوستان مجموعی عالمی معیشت کے مقابل سست روی سے ترقی کیا۔ یہ سال 1984ء ، 1991ء ، 1997ء اور 2000 ء کے رہے۔ عمومی فائدہ یہی رہا ہیکہ ہندوستان عالمی معیشت کے مقابل تیز تر ترقی کرتا رہا ہے۔ دنیا بھرمیں ماضی کے تجربہ سے استفادہ کریں تو موجودہ چیلنج مشکل ضرور ہے ، مگر ناممکن نہیں۔

TOPPOPULARRECENT