Friday , November 24 2017
Home / دنیا / عالمی کنونشن برائے دہشت گردی منظور کرنے پر زور

عالمی کنونشن برائے دہشت گردی منظور کرنے پر زور

اقوام متحدہ کا دہشت گردی کی لعنت سے نمٹنے میں غیرمؤثر ہونا باعث تشویش : ہندوستان
اقوام متحدہ ۔ 15 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے عالمی کنونشن برائے دہشت گردی کی عاجلانہ منظوری پر زور دیا ہے جس میں مقدمہ چلانے یا مجرم کو حوالے کرنے کے قانونی اصول کی گنجائش رکھی جائے۔ اس کے ساتھ ہندوستان نے اپنی طرف سے تشویش کا اظہار بھی کیا کہ اقوام متحدہ دہشت گردی کی عالمی لعنت سے نمٹنے میں غیرمؤثر ثابت ہورہا ہے۔ اقوام متحدہ کے کام کاج کے بارے میں سکریٹری جنرل کی رپورٹ پر گذشتہ روز یہاں جنرل اسمبلی سیشن میں ہندوستان کے سفیر برائے اقوام متحدہ اشوک مکرجی نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلہ پر اقوام متحدہ غیرمؤثر دکھائی دیا ہے حالانکہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی دونوں نے یا تو قراردادیں تحدیدات منظور کئے یا دہشت گردی کے انسداد کیلئے گذشتہ 15 سال میں مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ہی ایک دو نہیں بلکہ 31 ادارے انسداد دہشت گردی کے کسی نہ کسی پہلو پر کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے ان اداروں کے کام کاج کیلئے کسی کوآرڈینیٹر پر اتفاق کرنے کی ضرورت ہے جسے ہم مزید ٹال نہیں سکتے۔ وقفہ وقفہ سے دہشت گردی کے ذریعہ بے قصور لوگوں کو نشانہ بنایا جانے پر عوامی برہمی پائی جاتی ہے اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک اس معاملہ میں کافی مخدوش ثابت ہوئے ہیں۔ مکرجی نے کہا کہ ہندوستان انسداد دہشت گردی پر سکریٹری جنرل کی پہل کو مثبت انداز سے دیکھ رہا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ پہل کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور بین الاقوامی برادری طویل عرصہ سے معرض التواء جامع کنونشن برائے بین الاقوامی دہشت گردی کو منظور کرلے گی جس میں مجرمین پر مقدمہ چلانے یا انہیں متعلقہ ملک کے حوالے کردینے کی گنجائش رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لڑائیوں اور بحرانوں کے اجتماعی اثر سے لگ بھگ 60 ملین افراد متاثر ہورہے ہیں جن میں بے قصور مرد و خواتین اور بچے شامل ہیں۔ اس کے باوجود یہ رپورٹ اس معاملہ پر حیرت انگیز طور پر خاموش ہے کہ کیوں اقوام متحد ہ سلامتی کونسل نے اس طرح کے بحرانوں کوشدت اختیار کرنے کا موقع دیا۔ مکرجی نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کا غیرمؤثر ہونا 1945ء کے 70 سال بعد بھی اس کے مستقل اراکین کی کی ترکیب میں مناسب نمائندگی کے فقدان کے سبب ہے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل کو 21 ویں صدی کی ضرورت کے مطابق بنانے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT