Tuesday , January 16 2018
Home / Top Stories / عالم اسلام ،اسرائیل اور امریکہ کی سرزنش میں ناکام

عالم اسلام ،اسرائیل اور امریکہ کی سرزنش میں ناکام

یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے اسلامی قائدین کا زور ، نیتن یاہو نے پرواہ نہیں کی

استنبول ۔ 13 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) یروشلم کے مسئلہ پر عالم اسلام آج اسرائیل اور امریکہ کی سرزنش کرنے میں ناکام رہا۔ مقبوضہ مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ساری دنیا پر اسلامی قائدین نے زور دیا ہے۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان کی جانب سے استنبول میں طلب کردہ ہنگامی چوٹی کانفرنس نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا جواب دیا ہے۔ تنظیم اسلامی کارپوریشن (او آئی سی) کے اجلاس میں مسلم قائدین کی رائے منقسم نظر آئی۔ چوٹی کانفرنس میں شریک قائدین نے اسرائیل یا امریکہ کے خلاف کسی قسم کے سخت تحدیدات لانے سے اتفاق نہیں کیا لیکن چوٹی کانفرنس کے بعد اپنے قطعی بیان میں ان مسلم قائدین نے مشرقی یروشلم کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے پر زور دیا اور تمام ممالک سے کہا کہ وہ فلسطین کو تسلیم کرتے ہوئے مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت کے طور پر قبول کریں۔ عالم اسلام کے ان قائدین نے ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلہ کو ناجائز اور فضول قرار دیا اور کہا کہ ٹرمپ کی یہ کوشش امن کیلئے کی جانے والی تمام تر مساعی کو دانستہ طور پر کمزور کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے انتہاء پسندی اور دہشت پسندی کو ہوا ملے گی۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان نے جو خود کو فلسطینی کاز کا چمپیئن سمجھتے ہیں، اسرائیل کی ایک مملکت کی حیثیت سے مذمت کی جس نے فلسطینی سرزمین پر قبضہ کرلیا ہے اور اسے ایک دہشت گرد ملک قرار دیا۔ ٹرمپ نے اپنے فیصلہ کے ساتھ ہی اسرائیل کی جانب سے انجام دی گئی تمام دہشت گرد کارروائیوں کا انعام دیا ہے۔ ہم اب سے کسی بھی سیاسی عمل میں امریکہ کے کسی رول کو قبول نہیں کریں گے کیونکہ وہ پوری طرح اسرائیل کا دم چھلہ بن گیا ہے۔ او آئی سی کے قطعی بیان میں ملے جلے جذبات کا اظہار کیا گیا۔ 57 رکنی او آئی سی رکن ممالک کے درمیان اسرائیل اور امریکہ کے خلاف سخت اقدامات کرنے پر کوئی اتفاق پیدا نہیں ہوا ۔ مسلم قائدین کے بیانات کا وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ (ابتدائی خبر صفحہ 4 پر)

TOPPOPULARRECENT