Wednesday , August 22 2018
Home / ہندوستان / عالم اسلام میں 150 ملین خواتین روزگار کی حامل

عالم اسلام میں 150 ملین خواتین روزگار کی حامل

گزشتہ 15 برسوں کے دوران 30 مسلم ملکوں میں 50 ملین خواتین ورک فورس میں شامل
نئی دہلی۔ 20 فروری(سیاست ڈاٹ کام) دنیا میں 50 سے زائد مسلم ملک ہیں۔ ان مسلم ملکوں کے بارے میں مغربی دنیا کا عام تاثر یہی ہے کہ مسلم خواتین کو کام کے مواقع نہیں دیئے جاتے۔ افرادی قوت میں ان کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ تجارت میں بھی بہت کم مسلم خواتین دکھائی دیتی ہیں، حالانکہ اسلام میں عورتوں کے تجارت یا کام کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ ہاں اپنے بہت سے کاروبار اور شعبہ حیات ہیں جہاں خواتین پردہ کا اہتمام کرتے ہوئے یعنی پردہ میں رہ کر خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ طب اور تجارت میں خواتین اپنی موجودگی کا احساس دلاسکتی ہیں۔ امریکہ کے بشمول مغربی ممالک کی اکثر یہی شکایت ہوتی ہے کہ مسلم دنیا میں خواتین کو آزادی نہیں۔ انہیں بچے پیدا کرنے والی فیکٹری بنا دیا جاتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہے کہ عالم اسلام میں اب خواتین کو مختلف شعبہ حیات میں خدمات انجام دینے کی اجازت دی جارہی ہے۔ خاص طور پر پیشہ تدریس اور طب میں خواتین کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔ امراض نسواں کی تشخیص و علاج یہاں تک کہ آپریشنس (سرجریز) کیلئے مسلم خاتون ڈاکٹروں کی اہمیت و افادیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ حال ہی میں پاکستانی خاتون سعدیہ زاہدی کی ایک کتاب منظر عام پر آئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ 15 برسوں میں کم از کم 30 مسلم ملکوں میں 50 ملین خواتین افرادی قوت میں شامل ہوئی ہیں اور سرگرم رول ادا کررہی ہیں۔ سارے عالم اسلام میں کام کرنے والی خواتین کی تعداد 150 ملین ہوگئی ہے اور ایک طرح سے یہ خواتین مسلم دنیا کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرنے لگی ہیں۔ مختلف شعبوں میں خواتین کا سرگرم ہوجانا ایک خاموش انقلاب ہی نوید ہی تو ہے۔ پہلے صرف خواتین پیشہ تدریس سے وابستہ تھیں۔ بعد میں پیشہ طب کی طرف ان کی دلچسپی میں اضافہ ہونے لگا۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت بھی تھی۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلم خواتین کی کثیر تعداد آج ہمیں ڈاکٹرس، نرسیس، نیم طبی عملہ اور ٹیکنیشین و آپریٹرس کی شکل میں نظر آرہی ہے۔ یہ سب ایک تہذیبی انقلاب کا حصہ ہے۔ اب حال یہ ہے کہ مسلم خواتین پیشہ تدریس و طب کے علاوہ اختراع، ادویات سازی، آئی ٹی سیکٹر، میڈیا (پرنٹ و الیکٹرانک) سوشیل میڈیا، ویب میڈیا، فیشن ڈیزائننگ (ڈیزائنرس ملبوسات)، آرائش حسن (میک اَپ) مسالہ جات کے کاروبار، نوادرات (نادر و نایاب اشیائ) کی تجارت، کیٹرنگ جیسے شعبوں میں سرگرم دکھائی دے رہی ہیں۔ ماہر اقتصادیات سعدیہ زاہدی نے مسلم ملکوں میں خاتون صنعت کاروبار و برسرروزگار عورتوں سے متعلق انگریزی زبان میں ایک کتاب تحریر کی ہے جس میں کام کرنے والی خواتین کے انٹرویوز بھی شامل کئے ہیں۔ سعدیہ زاہدی کیلئے ان خواتین کی ورک فورس میں شمولیت دراصل تہذیبی انقلاب کا حصہ ہے۔ زاہدی کہتی ہیں کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلم ملکوں میں جو کچھ ہورہا ہے، اس سے یہ خواتین واقف ہی نہیں ہیں۔ ورلڈ اکنامک فورس جنیوا میں اپنے دفتر میں بیٹھے بات چیت کرتے ہوئے زاہدی نے بتایا کہ ان خواتین سے بات کرتے ہوئے انہوں نے دیکھا کہ ان میں فخر کا احساس پایا گیا۔ سعدیہ زاہدی ورلڈ اکنامک فورس جنیوا سوئٹزرلینڈ میں تعلیم، صنف اور کام سے متعلق شعبہ کی سربراہ ہیں۔ زاہدی پاکستان میں پیدا ہوئی اور وہی بڑی ہوئی۔ ان کے خیال میں خواتین تدریس اور طب کے پیشے سے ہی وابستہ رہا کرتی تھیں اور ان تینوں میں سے خواتین کی وابستگی معاشرہ میں قابل قبول بھی ہے۔ زاہدی کے مطابق جب ان کی عمر 10 سال تھیں، اس وقت انہوں نے ایک گیاس فیلڈ میں اپے والد سے ملاقات کے دوران ایک خاتون فیلڈ انجینئر کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ شلوار قمیص زیب تن کی ہوئی تھی اور اس خاتون انجینئر کے سر پر ایک ہیلمٹ بھی تھی۔ اس منظر نے زاہدی کو کافی متاثر کیا۔

TOPPOPULARRECENT