Thursday , September 20 2018
Home / دنیا / عالم اِسلام کی کوئی یونیورسٹی عالمی معیار کی فہرست میں نہیں

عالم اِسلام کی کوئی یونیورسٹی عالمی معیار کی فہرست میں نہیں

آکلینڈ۔ 28؍ستمبر (سید مجیب کی رپورٹ)۔ بین الاقوامی اعلیٰ سطحی یونیورسٹیوں کے سروے کے بعد 800 یونیورسٹیوں کی ایک فہرست جاری کردی گئی ہے۔ کیو ایس کے مطابق سالانہ یونیورسٹی مہم کے دوران چار اہم شعبوں تدریس، تحقیق، روزگار اور بین الاقوامی نقطہ نظر سے یونیورسٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ان کے محصلہ نشانات کے مطابق ان کی درجہ ب

آکلینڈ۔ 28؍ستمبر (سید مجیب کی رپورٹ)۔ بین الاقوامی اعلیٰ سطحی یونیورسٹیوں کے سروے کے بعد 800 یونیورسٹیوں کی ایک فہرست جاری کردی گئی ہے۔ کیو ایس کے مطابق سالانہ یونیورسٹی مہم کے دوران چار اہم شعبوں تدریس، تحقیق، روزگار اور بین الاقوامی نقطہ نظر سے یونیورسٹیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور ان کے محصلہ نشانات کے مطابق ان کی درجہ بندی کی گئی۔ بہترین درسگاہ کا اعزاز امریکی مساچوسیٹس ٹکنالوجی یونیورسٹی کو حاصل ہوا۔ دنیا کی سرفہرست 20 بہترین یونیورسٹیوں میں برطانیہ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں کے نام موجود ہیں۔ جملہ 800 یونیورسٹیوں کا سروے کیا گیا ہے جن میں اعلیٰ سطحی یونیورسٹیوں میں امریکہ کی 200، برطانیہ کی 29، جرمنی کی 3، نیدرلینڈ اور جاپان کی 10، 10 اور آسٹریلیا کی 8 یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ 800 یونیورسٹیوں کی فہرست میں نیوزی لینڈ کی آکلینڈ یونیورسٹی 92 ویں مقام پر ہے۔ ہندوستان کی یونیورسٹیوں میں ممبئی یونیورسٹی 222 ویں، دہلی یونیورسٹی 235 ویں، کانپور 300 ویں، مدراس 322 ویں مقام پر ہے۔

پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی 400 یونیورسٹیوں کی فہرست میں اپنا مقام نہیں بناسکی، تاہم اسلام آباد یونیورسٹی 401 سے 500 کے زمرے میں، لاہور اور کراچی 501 سے 600 کے زمرے میں شامل ہیں۔ امپیریل کان لندن اور کیمبرج یونیورسٹی بہترین یونیورسٹیاں قرار دی گئی ہیں۔ چوتھے نمبر پر امریکی یونیورسٹی ہاورڈ اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کو مشترکہ طور پر پانچواں مقام حاصل ہوا ہے۔ سرفہرست 20 یونیورسٹیوں میں برطانیہ کی 3 اور امریکہ کی 11 یونیورسٹیاں شامل ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ جس وقت سارا یوروپ جہالت کی تاریکی میں غرق تھا، اسپین میں مسلمانوں نے حکومت قائم کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ معیاری تعلیم اور تدریس کا اہتمام بھی کیا تھا جس کی وجہ سے پورے یوروپ میں علم کی روشنی پھیلی تھی، لیکن موجودہ عالم اِسلام کی کوئی بھی یونیورسٹی معیاری 800 یونیورسٹیوں میں بھی اپنا مقام نہیں بناسکی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسلمان حصولِ تعلیم کی جانب سے لاپرواہی برت رہے ہیں اور دوسروں کو علم کا درس دینے والے آج لاحاصل مباحث میں مصروف ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ عالم اِسلام اس طرف فوری توجہ دے اور سائنسی اور دیگر علوم کے شعبوں میں مہارت حاصل کرے، ورنہ یہی کہا جائے گا کہ
ہنسی کیوں نہ دُنیا ہماری اُڑائے
جگاکر زمانے کو ہم سورہے ہیں

TOPPOPULARRECENT