Tuesday , February 20 2018
Home / مذہبی صفحہ / عالم عرب کے موجودہ حالات اور اس کا حل

عالم عرب کے موجودہ حالات اور اس کا حل

 

سارا عالم اس وقت سخت کرب واضطراب کی راہ سے گزررہاہے،امن وسکون رخصت ہے ، خاص طورپرعرب دنیا کو جنگ میں جھونک دیا گیاہے۔مصر،شام ،عراق،افغانستان،لیبیا،فلسطین وغیرہ بہت سے ملکوں کو’’انقلاب‘‘کے عنوان سے اورکہیں’’انسداد دہشت گردی‘‘ کے عنوان سے تباہی کے دہانے پرپہونچادیاگیاہے۔سعودی عربیہ بڑی حدتک محفوظ تھا لیکن دشمنان اسلام نے اس کوبھی اپنے پنجہ استبدادمیں دبوچ لیاہے،خواہی نہ خواہی بیرونی جنگوں میں شریک کرکے ملک کوکشمکش کے دوراہے پر لا کھڑاکیاہے،پھر یمن کی جنگ بھی اس پر مسلط کردی گئی ہے،یمن کو حوثی باغیوں کے کنٹرول سے آزادکرانے کے خوش کن عنوان سے سعودی عربیہ اور اتحادی افواج کے آپسی تال میل سے پورے ماحول کوبم وبارود زدہ کردیاہے۔ہزاروں افرادگھر سے بے گھر ہوچکے ہیں،معیشت کے سارے ذرائع ووسائل تباہ وبرباد ہوگئے ہیں۔انگنت معصوم جانیں ضائع ہوگئی ہیں ،اب سعودی عرب میں کئی روایات سے انحراف کی پالیسی اپنائی گئی ہے،سابق میں بھی قطرسے تعلقات کچھ زیادہ خوشگوارنہیں تھے ،لیکن اب قطرسے تمام تعلقات منقطع کرتے ہوئے جو قدم اٹھایاگیاہے ظاہر ہے اس کے اچھے نتائج وثمرات کی امید نہیں کی جاسکتی۔ جوملک تیل کی دولت سے مالامال تھا اورجہاں سونے کے کان دریافت ہونے کی اطلاعات تھیں ،لیکن اب حالات بڑے ناگفتہ بہ ہیں۔الغرض یہ ملک ہر حیثیت سے خوشحال تھا ،رعایا بھی تخت وتاج پر متمکن شاہوں کودعادیتے ہوئے چین وسکون کی زندگی بسرکررہی تھی۔لیکن اس وقت اس ملک کے مصائب ومشکلات میں گھرجانے سے شاہی گھرانے کے ساتھ رعایا بھی پریشان اورامن و سکون سے محروم ہے،اس وقت ایک نوجوان شہزادہ نے اصلاح کی باگ ڈورکیاسنبھالی ہے اس سے ملک نئے حالات سے دوچارہے’’بدعنوانی وکرپشن ‘‘کے نام پر کئی ایک شہزادوں اوروزراء کوآسمان کی بلندیوں سے تحت الثریٰ کی پستیوں تک پہنچادیا گیاہے۔ بیرونی محاذپر جنگی مہم سے نبردآزما ہونا خود ہرجہت سے ملک کو کمزورکرنے کیلئے کافی تھا مزیداندورن ملک جو حالات پیداکئے گئے ہیں آیا وہ حکمت ومصلحت پر مبنی قراردئیے جاسکتے ہیں؟ اورکیا ملک اورملک کی رعایا کو اس سے کوئی فائدہ پہنچ سکتاہے ؟ بعض تجزیہ نگاروں نے تشویش ظاہر کی ہے کے اس سے کرپشن کا خاتمہ مقصود ہے یا اپنے من پسند مقاصد کی تکمیل میں رکاوٹ محسوس ہونے والوں پر گرفت کرنا ہے ،اچانک غیر متوقع حالات پیدا کردیئے جانے کے پیچھے جس مسلم دشمن طاقت کے کارفرما ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،ظاہر ہے وہ بہی خواہ نہیں ہوسکتا ۔اس کریک ڈاون کے بعد جس نے کھل کر مبارکباد دی اس سے خود اس اندیشہ کو تقویت مل رہی ہے ۔ ۲۰۳۰ء؁ ویژن کے تحت سعوی عرب کو قدامت پسندی کے الزام سے بچنے کیلئے نئے اقدامات سے روشن خیالی کی سمت لیجانے کا جو اعلان کیا گیا ہے آیا وہ اسلامی احکامات کی روسے ایک مسلم ملک کے مفاد میں ہوسکتاہے؟

خواتین جواسلامی احکامات کے رائج ہونے کی وجہ اسلام کے محفوظ حصار میں تھیں اب ان کو گھر سے باہر نکلنے ،دفاترمیں کام کرنے ،کھیل کے اسٹیڈیم میں شرکت کرنے اورکارچلانے کی اجازت کا پروانہ مل چکاہے۔اس روشن خیالی کی حدیں آخر کہاں جاکر رکنے والی ہیں کچھ کہا نہیں جاسکتا،تہذیب ِ مغرب کی چاہت کے مطابق خواتین کی آزادی کی مہم کو خدا نخواستہ اور آگے بڑھا یا جائے تو پھر ایک خالص مسلم عرب ملک میںتدریجاً بے حیائی کے کلچرکی سمت بڑھ سکتا ہے۔عرب ممالک خاص طورپر سعودی عربیہ میں مادی انعامات کی بارش کی وجہ نہ صرف وہاں کی رعایا تھنڈی زندگی گزاررہی تھی بلکہ سارے عالم سے غریب غرباء کمزورمعیشت رکھنے والے بلا لحاظ مذہب وملت اس ملک میں اپنے لئے قابل لحاظ معاشی وسائل وذرائع سے بھر پور استفادہ کررہے تھے۔جس کے حوصلہ افزانتائج عالم کی ساری غریب بستیوں میں دیکھے جارہے تھے، ان مادی فوائدکے ساتھ روحانی سرچشمے بیت اللہ شریف مسجد حرام،مسجدنبوی ﷺوروضئہ رسول کریم ﷺ قلب وروح کیلئے سامان تسکین فراہم کررہے تھے۔ سعودی عربیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہاں ایمان والوں کے مقدسات ہیں ،سارے عالم سے لوگ ایمانی کیفیات کے استحضارکے ساتھ بیت اللہ شریف کا حج وعمرہ ادا کرنے کی غرض سے کشاں کشاں کھنچے چلے آتے ہیں،جذبات شوق،محبت ووارفتگی کے والہانہ جذبات کے ساتھ مناسک حج وعمرہ اداکرتے ہیں،اور اللہ سبحانہ کی رحمتوں کی بارش انوار میں نہاتے ہیں، سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ مدینۃ المنورہ میں آرام فرما ہیں،آپ ﷺ کے درباراقدس میں حاضری کی سعادت حاصل کرکے حلاوت ایمانی اورفیضان روحانی سے فیضاب ہوتے ہیں۔لیکن مسلمانان عالم کا مقدس مقامات کی زیارت کیلئے پہنچنا پہلے آسان تھا،بتدریج اب وہ دشوارسے دشوارتراوردشوارترین ہوتا جارہاہے،یہ اہم ترین مسئلہ بھی دعوت غوروفکرکا موضوع بن گیاہے۔ اللہ سبحانہ نے جن مادی وروحانی نعمتوں سے نوازاہے،حق تو یہ ہے اسکے اچھے نتائج وثمرات سارے عالم تک پہنچنا چاہیئے ،شکرانہ اداکرنے کا یہ حق اوراورحقوق شکرانہ اداکرنے کے ساتھ سربراہان مملکت پر واجب ہے ،انعامات کا شکراداکرنے پر ازدیاد نعمت کا وعدہ ہے۔لئن شکرتم لازیدنکم (ابراہیم:۷) اس کی بے انتہاء نعمتوں کی ناشکری زوال نعمت کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ان مشکل اورصبرآزماحالات میں اس جہت سے بھی غورکرنا چاہیئے کہ یہ ناخوشگوار حالات ہمارے افکارواعمال پر گرفت کے طورپر کہیں ہمارے دامن گیرتو نہیں ہو گئے ہیں،خوش حالی واقبال مندی کہیں ان وجوہات کی بناء تو رخصت نہیں ہوگئی ہے؟۔غریبوں ،محتاجوں اوربے نواؤں کونظر انداز کرنے یا ان کو حقیرجاننے ،دیانت وامانت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے سود،رشوت ،کرپشن کا چلن عام کردئے جانے۔عدل وانصاف قائم کرنے کے بجائے ظلم وجورکی راہ اختیارکرنے سے مکافات عمل کاقانون جو اپنا رد عمل ظاہرکرتاہے اس کوہرگز نہیں بھلایا جانا چاہیئے۔

گندم از گندم بروید،جوزجو ازمکافات عمل غافل مشو
دنیامیں مکافات عمل کے قانون پر قدرت کی طرف سے اس وقت عمل ہوتاہے جب خلاف حق اعمال کا زوربڑھ گیا ہو وہ بھی سارے اعمال بد پر گرفت نہیں ہوتی بلکہ بہت سے کرتوتوں سے درگزرکیا جاتاہے،ارشادباری ہے’’جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے وہ تمہارے شامت اعمال کا نتیجہ ہے،اوروہ تمہارے بہت سے بداعمالیوں سے درگزرفرمادیتاہے‘‘(الشوریٰ:۳۰)
اللہ سبحانہ وتعالی نے سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کوخاتم النبیین بناکر مبعوث فرمایا اورآپ ﷺ پر کتاب ہدایت قرآن حکیم نازل فرمائی،اس کتاب ہدایت کی حیات آفریں آیات پاک اورآپ ﷺکا پاکیزہ اسوہ اورمبارک ارشادات ساری انسانیت کیلئے رہبرورہنما ہیں، ایمانیات واعتقادات،عبادات ومعاملات ،معاشرت ومعیشت ،سیاست وحکومت،کردارواخلاق ،بین ملکی وبین الاقوامی تعلقات ہر باب میں وہ زریں ہدایات بخشی گئی ہیں جواہل ایمان کو اپنے خالق ومالک سے نسبت وتعلق کے استحکام اوربندگان خداسے رشتہ وتعلق استواررکھنے میں مددگارہیں۔ الغرض ’’اللہ سبحانہ نے زندگی کے ہر گوشے میں اپنے رخ کو اس دین حنیف کی طرف موڑنے کی ہدایت دی ہے جو ہر طرح کی کجی سے پاک ہے‘‘(یونس مفہوم آیت :۱۰۵)حق بات یہی ہے کہ دینی جہت سے مسلمان اپنی انفرادی ،اجتماعی ،معاشی اور سیاسی جہتوں میں مومنانہ کرداراختیارکریں،نظام اسلامی کورہبرورہنما بنائیں،اللہ سبحانہ نے اپنی اس زمین پر انسانو ںکو ’’خلیفۃ اللہ‘‘کے منصب پرفائزکیا ہے،اس کے حقیقی مستحق ظاہر ہے اس پر ایمان لانے والے ہی ہیں۔ان کا فرض ہے کہ اس زمین پر اسی کے دین کا پرچم نصب کریں،اوراسی کے بخشے گئے اسلامی نظام کوزمین پر نافذ کریں،کفر وشرک ،ظلم وجور کاسد باب کریں ،اس طرح دنیا کو ایمان واسلام کی برکت سے مالا مال کرکے اس کوامن وآمان اورسلامتی کا گہوارہ بنائیں۔اقوام عالم میںیہ امت حق کا علم بلندرکھنے اورتوحیدکی شمع فروزاں رکھنے پر مامورکی گئی ہے،دشمن کی نیت میں کھوٹ ہو قبول حق کے بجائے حق کو پامال کرنے کی اس نے ٹھان لی ہو تو مذکورہ روحانی تیاری کے ساتھ مادی جہت سے تیاری بھی سخت ضروری ہے۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد’’تم ان(کافروں) کے مقابلہ کیلئے اپنی طاقت بھر قوت کی تیاری کرو ،اورگھوڑوں کے تیار رکھنے کی ۔کہ اس سے تم اللہ کے اوراپنے دشمنوں کو ڈراورخوف میں رکھ سکواوران کے سوا اوروں کو بھی جنہیں تم نہیں جانتے اللہ سبحانہ انہیں خوب جانتاہے ‘‘(الانفال:۶۰)

اس آیت پاک میں ’’ من قوۃ‘‘کی تفسیرسے حدیث پاک کی روشنی میں تیراندازی مرادہے(صحیح مسلم، کتاب الامارۃ،باب فضل الرمی والحث علیہ )سابقہ ادوار میں تیراندازی اورگھوڑے جنگ کا ایک اہم ہتھیارمانے جاتے تھے،لیکن موجودہ حالات یکسربدل گئے ہیں نئی تحقیقات کی وجہ نئے نئے جنگی ہتھیاروآلات کی ایجادنے اسکوبے معنی کردیا ہے’’واعدوا لہم مااستطعتم ‘‘کی روشنی میںعصری نہج کے جدید آلات حرب جیسے میزائیل ،ٹینک،بم ،جنگی ہوائی جہاز اوربحری جنگ کیلئے سمندری جہاز وغیرہ کی ضرورت ہے،ظاہر ہے اسلام دشمن طاقتوں سے نبردآزماہونے کیلئے دفاعی تیاری ضروری ہے ،اس عظیم مقصد میں کامیابی کیلئے پہلی بات تو یہ ہے کہ نئے جنگی آلات حرب خود مسلم ماہر سائنسداں تیار کریں، یہ کام اگراسلام دشمن طاقتیں کرتی ہیں تو پھر ہم ان کے آگے مجبورہیں ، دوسری بات یہ کہ مسلم ماہر سائنسدانوں کی ان آلات حرب کی تیاری کے بعد ان کے استعمال کی تربیت وتعلیم بھی ایک اہم ترین مسئلہ ہے،اس میں ہم کو ان کے سہارے اور معاونت کے بغیر اس کام کو انجام دینا چاہئے ۔موجودہ پر خطر حالات چشم خردکو کھولنے اور گوش ہوش کو وا رکھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

 

TOPPOPULARRECENT