عام آدمی حکومت کی تائید سے دستبرداری کا انتباہ : 48 گھنٹے کی مہلت

نئی دہلی 2 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی سے خارج کردہ رکن اسمبلی ونود کمار بنی نے ادعا کیا ہے کہ انہیں کم از کم پانچ ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے اور اگر اروند کجریوال کی قیادت والی حکومت نے ان کے مطالبات کی 48 گھنٹوں کے اندر یکسوئی نہیں کی تو وہ حکومت کو زوال کا شکار کردینگے ۔ انہوں نے جنتادل یو کے رکن اسمبلی شعیب اقبال اور ای

نئی دہلی 2 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی سے خارج کردہ رکن اسمبلی ونود کمار بنی نے ادعا کیا ہے کہ انہیں کم از کم پانچ ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے اور اگر اروند کجریوال کی قیادت والی حکومت نے ان کے مطالبات کی 48 گھنٹوں کے اندر یکسوئی نہیں کی تو وہ حکومت کو زوال کا شکار کردینگے ۔ انہوں نے جنتادل یو کے رکن اسمبلی شعیب اقبال اور ایک آزاد رکن اسمبلی رام بیر شوکین کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یہ ادعا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ رکن اسمبلی شعیب اقبال اور رام بیر شوکین کے ساتھ لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ سے ملاقات کرتے ہوئے حکومت کی تائید سے دستبردار ہوجائیں گے اگر اندرون 48 گھنٹے ان کے مطالبات کی یکسوئی نہ کی جائے ۔

ونود کمار بنی نے کہا کہ عام آدمی پارٹی کے دو دیگر ارکان اسمبلی بھی ان کے ساتھ ہیں اور کچھ میونسپل کونسلرس بھی ان کے حامی ہیں ۔ اگر ان کے مطالبات کی یکسوئی نہیں ہوتی ہے تو وہ ان سب کے ساتھ مل کر ایک نیا سیاسی محاذ بھی قائم کرینگے ۔ عام آدمی پارٹی نے ونود کمار بنی کو ڈسیپلن شکنی کا الزام عائد کریت ہوئے پارٹی سے خارج کردیا تھا ۔ انہوں نے حکومت دہلی سے کئی مطالبات کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہلی حکومت کو امسبلی انتخابات کے دوران عوام سے جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل کرنی چاہئے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برقی اور آبی سربراہی سے متعلق بھی جو مسائل پیدا ہوئے ہیں ان کو بھی حل کیا جانا چاہئے ۔

انہوں نے حکومت سے کہا ہے کہ چونکہ برقی سرچارچ میں آٹھ فیصد کا اضافہ کردیا گیا ہے ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ وہ صارفین کو سبسڈی فراہم کرے ۔ دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن نے جاریہ ماہ فیصلہ کرتے ہوئے برقی سرچارچ کو چھ فیصد سے بڑھا کر آٹھ فیصد کردیا ہے ۔ مسٹر بنی نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ خواتین میں اعتماد اور احساس تحفظ کو بحال کرنے کیلئے اپنے وعدوں کے مطابق وومنس دستے قائم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو یومیہ 700 لیٹر پانی مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سے زائد استعمال پر سارے مستعملہ پانی پر بل وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کی بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ 700 لیٹر سے زیادہ استعمال ہونے والے پانی پر ہی پیسے وصول کرے ۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی کو یاد دہانی کروائی کہ اروند کجریوال نے اعلان کیا تھا کہ ان کی پارٹی کو اقتدار ملتا ہے تو 1,05,200 روپئے کے برقی بلوں کو معاف کردیا جائے کیونکہ یہ اضافی بلز ہیں۔ عوام نے اروند کجریوال کے اعلان کے بعد یہ بلز ادا نہیں کئے تھے ۔ انہو ںنے کہا کہ اب حکومت کو اپنے وعدے کے مطابق یہ بلز معاف کردینے چاہئیں۔

عام آدمی پارٹی کو 50 دن میں 7 کروڑ کے عطیات
اس دوران نئی دہلی سے موصولہ ایک اطلاع کے بموجب عام آدمی پارٹی کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور پارٹی کو صرف پچاس دن میں 7 کروڑ روپئے کے عطیات وصول ہوئے ہیں۔ پارٹی کے عطیہ دہندگان میں رکشہ رانوں سے غیر مقیم ہندوستانی تک شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی واحد جماعت ہے جو اپنے عطیہ دہندگان کے نام جاری کرتی ہے ۔ علاوہ ازیں کہا گیا ہے کہ عام آدمی پارٹی کی رکنیت سازی میں بھی اچھا رد عمل مل رہا ہے اور اس کی رکنیت دس ملین تک پہونچ گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ امریکہ ‘ متحدہ عرب امارات اور برطانیہ میں رہنے والے ہندوستانیوں نے عام آدمی پارٹی کیلئے عطیات فراہم کئے ہیں اور وہ پارٹی کی سیاست پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ ہندوستان میں پارٹی کو جملہ 5.7 کروڑ روپئے کے عطیات ملے ہیں جبکہ امریکہ سے 62 لاکھ روپئے ملے ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے والینٹر بپل ڈے نے یہ بات بتائی ۔ متحدہ عرب امارات سے پارٹی کو 25 لاکھ ‘ سنگاپور سے 19 لاکھ ‘ برطانیہ سے 14 لاکھ اور کناڈا سے چھ لاکھ روپئے موصول ہوئے ہیں۔ پارٹی نے جملہ سات کروڑ روپئے حاصل کئے ہیں۔ عطیات وصولی کی مہم 12 ڈسمبر کو شروع کی گئی تھی ۔ مسٹرڈے نے ‘ جو فینانس دیکھتے ہیں ‘ بتایا کہ سب سے بڑا عطیہ دو کروڑ روپئے مسٹر شانتی بھونش سابق وزیر قانون نے دیا ہے ۔ مسٹر بھوشن پارٹی کے قیام سے مسلسل پارٹی کے ساتھ ہیں اور وہ پارٹی لیڈر و مشہور وکیل پرشانت بھوشن کے والد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت پارٹی قائم کی گئی تھی شانتی بھوشن نے ایک کروڑ روپئے دئے تھے اور ایک ہفتے قبل انہوں نے مزید ایک کروڑ روپئے کا عطیہ دیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ غیر مقیم ہندوستانی بھی جوش و خروش کے ساتھ پارٹی کو عطیات دے رہے ہیں ۔ زیادہ تر ادائیگیاں آن لائین ہوئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT