عام آدمی پارٹی رکن اسمبلی امانت اﷲ خان خودسپرد

دہلی چیف سکریٹری انشو پرکاش پر مبینہ حملہ کیس میں ایف آئی آر درج ، معاملے میں مداخلت سے دہلی ہائیکورٹ کا انکار

نئی دہلی ۔ 21 فبروری ۔( سیاست ڈاٹ کام ) عام آدمی پارٹی رکن اسمبلی امانت اﷲ خان نے دہلی کے چیف سکریٹری انشو پرکاش پر مبینہ حملہ کے سلسلے میں آج پولیس کے سامنے خودسپردگی اختیار کی ۔ اس واقعہ کے بعد دہلی کی تین سالہ اروند کجریوال حکومت اور سٹی کی بیوروکریسی کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔ امانت اﷲ خان حکمراں پارٹی کے دوسرے رکن اسمبلی ہیں جنھیں دہلی پولیس نے چیف سکریٹری انشو پرکاش کو مبینہ طورپر زدوکوب کرنے کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ یہ ہاتھا پائی پیر کی شب چیف منسٹر اروند کجریوال کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک اجلاس کے دوران ہوئی تھی ۔ جنوبی دہلی کے حلقہ دیولی سے تعلق رکھنے والے پارٹی رکن اسمبلی پرکاش جارول کو پولیس نے پہلے ہی گرفتار کرلیا ہے ۔ اروند کجریوال کے مشیر وی کے جین سے بھی پولیس نے آج تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی جو چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر منعقدہ اجلاس میں موجود تھے ۔ آج تقریباً 11:30 منٹ پر اُوکلھا کے رکن اسمبلی امانت اﷲ خان کو جامعہ نگر پولیس اسٹیشن میں حراست میں لیا گیا۔ ان کے خلاف ایف آئی آر 54 جاری کرتے ہوئے تحقیقات کی جارہی ہے۔ چیف سکریٹری پر حملے کے سلسلے میں پولیس نے یہ کارروائی کی ۔ انشوپرکاش نے الزام عائد کیا کہ اُوکلھا ایم ایل اے اور دیگر ملکر انھیں زدوکوب کیا اور کئی گھونسے رسید کئے ۔ ان کے سرپر بھی گھونسے مارے گئے ۔

انھوں نے حکومت کی تین سالہ کارکردگی سے متعلق کارناموں کو روشناس کرانے ٹی وی اشتہارات کی اجرائی کے مطالبہ کو مسترد کردیا تھا ۔ یہ ارکان اسمبلی چیف سکریٹری پر زور دے رہے تھے کہ وہ حکومت کے کارناموں کی تشہیر کیلئے اجازت دیں۔ امانت اﷲ خان اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر اُس وقت درج رجسٹر کیا گیا جب ا نشو پرکاش نے پولیس میں شکایت درج کروائی اور کہاکہ ان پر منظم طریقے سے ایک سازش کے تحت حملہ کیا گیا ہے ۔ اس کے جواب میں دہلی کی حکمراں پارٹی نے کہاکہ 1986 ء بیاچ کے آئی ایس آفیسر اروناچل پردیش ، گوا ، میزورم اور مرکزی زیرانتظام علاقہ میں خدمات انجام دینے والے پرکاش نے عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے خلاف ذات پات کے ریمارکس کئے ۔ اس کیس کی سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائیکورٹ نے اس کیس میں عدلیہ کی مداخلت سے انکار کردیا اور کہاکہ پولیس ہی قانون کے مطابق کارروائی کرے گی ، ہم قطعی نتائج کے آنے تک انتظار کریں گے۔ جج نے مزید کہا کہ دونوں جانب کے لوگ اس واقعہ میں ملوث ہیں اور ان دونوں کے تعلق سے اخبارات میں مختلف کہانیاں آرہی ہیں۔ چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر منعقدہ متنازعہ اجلاس کا ایجنڈہ کیا تھا یہ اب تک غیرواضح ہے ، جب کہ پرکاش نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے اجلاس میں عام آدمی پارٹی قائدین کی موجودگی کا سوال اُٹھایا تھا ۔ حکومت کے پبلسٹی شعبے اور پارٹی کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کی رہائش گاہ پر عہدیداروں کو راشن کی تقسیم سے متعلق ملنے والی شکایت غوروخوض کے لئے طلب کیا گیا تھا ۔ عام آدمی پارٹی نے چیف سکریٹری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ پرکاش بی جے پی کی ایماء پر کام کررہے ہیں اور انھوں نے قانون سازوں کیخلاف گندی زبان استعمال کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT