Saturday , December 16 2017
Home / Top Stories / عام آدمی پارٹی وزرا کے خلاف کارروائی کرنے مودی کو کھلا چیلنج

عام آدمی پارٹی وزرا کے خلاف کارروائی کرنے مودی کو کھلا چیلنج

نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت ‘ دوسروں کی طرح ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتی ۔ ڈپٹی چیف منسٹر دہلی منیش سیسوڈیا کا بیان
نئی دہلی ۔ 15 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز کی مودی حکومت کے خلاف اپنے سب سے بڑے ٹکراؤ میں دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت نے سی بی آئی اور مرکزی حکومت کے ان ادعا جات کو مسترد کردیا کہ چیف منسٹر اروند کجریوال کو سی بی آئی دھاوے کا نشانہ نہیں بنایا گیا ہے ۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر سیکریٹریٹ میں ایک کمرہ میں یہ کارروائی کی گئی جہاں اہم فائیلس اور دستاویزات تھے اور ان کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے چیف منسٹر اور تمام کابینی وزرا کی شمولیت والے ایک اعلی سطح کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کو کھلا چیلنج کیا کہ وہ عام آدمی پارٹی وزرا کے خلاف کوئی کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ مرکزی حکومت ہمیں خوفزدہ کرسکتی ہے ۔ سیسوڈیا نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کھلا چیلنج ہے ۔ مرکزی حکومت کسی بھی کرپشن کے معاملہ میں جتنے چاہے سوال کرسکتی ہے ۔ ماضی میںجو کرپشن ہوا ہے اس پر بھی تفصیلات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ تمام ضروری فائیلس دی جاسکتی ہیں۔ لیکن اگر ان کے سکریٹری کا بہانہ کرتے ہوئے چیف منسٹر اروند کجریوال کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو آپ ( مرکز ) کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ جب سی بی آئی کو کجریوال کے خلاف کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا تو انہوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اصل نشانہ ان کے پرنسپل سکریٹری تھے ۔ انہوں نے سوال کیا جب ایسا ہی تھا کہ پھر متعلقہ محکمہ جات کی ضروری فائیلوں کا مشاہدہ کیوں نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ ہمیں دہشت زدہ یا خوف زدہ کرسکتے ہیں۔

ہم اس طرح کی حکمت عملی سے خوفزدہ نہیں ہوسکتے جس طرح سے دوسری ریاستی حکومتوں کو کیا گیا ہے ۔ ہم انہیں نہیں بخشیں گے جو ہمارے ساتھ کام کرنے والے دیانتدار عہدیداروں کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہیں۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اس نے پرنسپل سکریٹری کے دفتر کی دہلی سیکریٹریٹ میں تلاشی ہے اور چیف منسٹر کے دفتر کی تلاشی نہیں لی ہے ۔ پرنسپل سکریٹری بھی سابق آئی آئی ٹی تعلیم یافتہ ہیں اور سی بی آئی کا الزام ہے کہ انہوں نے سرکاری کنٹراکٹس کے الاٹمنٹ میں کچھ کمپنیوں کی بیجا تائید کی ہے ۔ یہ کنٹراکٹس 2007-14 کے درمیان دیئے گئے تھے ۔ سیسوڈیا نے کہا کہ ان تمام معاملات پر 2006 سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور اچانک ہی خود آپ کے ہی ایک عہدیدار نے اینٹی کرپشن میں شکایت درج کروائی ۔ یہ شکایت چیف منسٹر سے نہیں کی گئی ۔ اے سی بی کی شکایت پر سی بی آئی اچانک حرکت میں آگئی ہے اور یہ کوشش کی جا رہی ہے ایک جمہوری منتخبہ حکومت اور ایک دیانتدار چیف منسٹر کو خوفزدہ کیا جائے ۔ جس طرح سے کانگریس سی بی آئی کا بیجا استعمال کیا کرتی تھی بی جے پی بھی وہی طریقہ اختیار کر رہی ہے ۔ سیسوڈیا نے کہا کہ اگر کسی عہدیدار کے کندھے پر بندوق رکھ کر چیف منسٹر کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو ہم شدید احتجاج کرینگے ۔ اس سوال پر کہ کجریوال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو بزدل کہا ہے سیسوڈیا نے کہا کہ مرکزی حکومت اپنے کاموں کیلئے معذرت خواہی کرے ہم اپنے الفاظ کیلئے معذرت کرنے تیار ہیں۔واضح رہے کہ چیف منسٹر دہلی کے سکریٹریٹ پر آج صبح سی بی آئی نے دھاوا کیا تھا اور ان کے پرنسپل سکریٹری کے دفتر کی تلاشی لینے کا ادعا کیا ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے چیف منسٹر کے دفتر پر کوئی دھاوا نہیں کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT