Sunday , December 17 2017
Home / Top Stories / عام آدمی پارٹی کا بڑا بحران ٹل گیا، وشواس استعفیٰ سے سبکدوش

عام آدمی پارٹی کا بڑا بحران ٹل گیا، وشواس استعفیٰ سے سبکدوش

پی اے سی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ، امانت اللہ خان معطل

نئی دہلی ۔ 3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی برسراقتدار عام آدمی پارٹی کا بڑا داخلی بحران آج ٹل گیا جبکہ سینئر قائد کمار وشواس نے اتفاق کیا کہ وہ اپنے استعفیٰ سبکدوش ہوجائیں گے۔ پارٹی رکن اسمبلی امانت اللہ خان کو کمار وشواس پر تنقید کی وجہ سے معطل کردیا گیا۔ پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے معطلی کا فیصلہ پارٹی کی سیاسی امور کمیٹی نے تین گھنٹہ طویل اجلاس کے بعد کیا۔ ایک دن قبل کمار وشواس نے دھمکی دی تھی کہ اگر اوکلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان کے خلاف سخت کارروائی نہ کی جائے تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ پارٹی میں بغاوت کا الزام عائد کرنے کے علاوہ امانت اللہ خان نے کمار وشواس پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ’’آر ایس ایس اور بی جے پی کے ایجنٹ‘‘ ہیں۔ وہ پیر کے دن پی اے سی سے مستعفی ہوگئے تھے جبکہ کجریوال نے وشواس کے خلاف ان کے تبصروں پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ تنظیم نے کمار وشواس کے عظیم تر کردار کیلئے ارکان اسمبلی کے ایک طبقہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے مطالبہ کے بعد ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ سطحی فیصلہ ساز کمیٹی نے انہیں راجستھان کی ذمہ داری دی ہے جہاں 2018ء کے اواخر میں انتخابات مقرر ہیں۔ استعفیٰ دینے کی کل کمار وشواس کی دھمکی کے بعد کجریوال اور سیسوڈیا نے ان کی غازی آباد کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور رات دیر گئے تک انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ کجریوال نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ کمار وشواس نے پارٹی کے متحد رہنے پر زور دیا کیونکہ مسلسل انتخابی ناکامیوں کی وجہ سے پارٹی بکھر کر رہ گئی ہے۔ کمار وشواس نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ کسی کو بھی یہ اندیشہ نہیں رکھنا چاہئے کہ انا کی خاطر جنگ چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عام آدمی پارٹی کے کنوینر بنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے اور نہ چیف منسٹر یا ڈپٹی چیف منسٹر بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جو تبادلہ خیال قبل ازیں ہونا چاہئے تھا اب ہورہا ہے۔ سیسوڈیا نے کہا کہ پی اے سی نے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو پارٹی کے قومی سکریٹری پنکج گپتا، اتیشی مارلینا اور اشوتوش پر مشتمل ہے، جو امانت اللہ خان کے بیانات کا جائزہ لے گی۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امانت اللہ خان نے کہا کہ یہ پارٹی کا فیصلہ ہے۔ ان کیلئے تین رکنی کمیٹی کے اجلاس پر حاضر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن وشواس اور سیسوڈیا دونوں میں سے کسی نے بھی کجریوال کو گھیرے ہوئے افراد کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ پارٹی میں پھوٹ کل عروج پر پہنچ گئی تھی جبکہ کمار وشواس نے کہاتھا کہ امانت اللہ خان صرف ایک نقاب ہے وہ کجریوال کو گھیرے ہوئے خوشامدیوں کی طرف اشارہ کررہے تھے۔

TOPPOPULARRECENT