Wednesday , February 21 2018
Home / Top Stories / عام آدمی پارٹی کو الیکشن کمیشن کا جھٹکہ ، 20 ایم ایل ایز عملا ًنااہل

عام آدمی پارٹی کو الیکشن کمیشن کا جھٹکہ ، 20 ایم ایل ایز عملا ًنااہل

نفع بخش عہدہ سنبھالنے کی پاداش میں انتخابی پیانل کی سفارش ، صدرجمہوریہ کی رسمی قبولیت باقی ۔ کجریوال سے استعفیٰ کیلئے اپوزیشن کا مطالبہ
نئی دہلی ، 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی کی برسراقتدار عام آدمی پارٹی کو جھٹکہ والی تبدیلی میں الیکشن کمیشن نے آج معلوم ہوا ہے کہ صدرجمہوریہ سے اس پارٹی کے 20 ایم ایل ایز کو نفع بخش عہدہ سنبھالنے کی پاداش میں نااہل قرار دینے کی سفارش کردی ہے، جس نے اسمبلی سے اُن کے اخراج کی راہ ہموار کی ہے۔ اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ صدر رام ناتھ کوئند کو آج صبح بھیجی گئی اپنی رائے میں الیکشن کمیشن (ای سی) نے کہا کہ یہ ارکان اسمبلی 13 مارچ 2015ء اور 8 سپٹمبر 2016ء کے درمیان پارلیمنٹری سکریٹریز کے عہدہ پر فائز رہتے ہوئے نفع بخش عہدہ سنبھال چکے ہیں، اور اس لئے لیجسلیٹرز کی حیثیت سے نااہل قرار دیئے جانے کے مستوجب ہیں۔ صدرجمہوریہ کیلئے کمیشن کی سفارش کے مطابق فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ قواعد کے تحت قانون سازوں کی نااہلیت کی استدعا کرنے والی صدرجمہوریہ کو موسومہ عرضیاں ای سی سے رجوع کی جاتی ہیں۔ انتخابی پیانل کوئی فیصلہ کرتا ہے اور اپنی سفارش راشٹرپتی بھون کو بھیجتا ہے جسے قبول کرلیا جاتا ہے۔ موجودہ معاملے میں ایسی پٹیشن دی گئی کہ 21 ایم ایل ایز کو نااہل قرار دیا جائے، لیکن ایک چند ماہ قبل مستعفی ہوگیا۔

جیسے ہی صدرجمہوریہ کمیشن کی رائے قبول کرلیں، 20 اسمبلی نشستوں کیلئے ضمنی انتخابات منعقد کرنے پڑیں گے۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کو 70 رکنی دہلی اسمبلی میں 65 نشستوں کے ساتھ زبردست اکثریت حاصل ہے، اور اس ناگزیر نااہلیت سے اروند کجریوال حکومت کو خطرہ نہیں ہوگا، حالانکہ پارٹی ایم ایل ایز کی تعداد 45 تک گھٹ جائے گی۔ آج کی تبدیلی پر برہم برسراقتدار پارٹی نے کہا کہ الیکشن کمیشن کبھی ’’اس حد تک پست نہیں ہوا تھا‘‘، اور دعویٰ کیا کہ وزیراعظم اس کارروائی کے پس پردہ کارفرما ہیں۔ پارٹی لیڈر آشوتوش نے ٹویٹ کیا، ’’ ای سی کو پی ایم او کا لیٹر باکس نہیں بن جانا چاہئے۔ لیکن یہی حقیقت ہے۔‘‘ کانگریس جس نے اس ریاست میں طویل عرصہ حکمرانی کی، اس نے ای سی فیصلہ کا خیرمقدم کیا، جیسا کہ اس کی دہلی یونٹ کے سربراہ اجئے ماکن کا کہنا ہے کہ چیف منسٹر کجریوال اس ای سی فیصلہ کے بعد برسراقتدار رہنے کا حق کھوچکے ہیں۔ بی جے پی کی طرف سے یہ افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہ الیکشن کمیشن کا عام آدمی پارٹی ایم ایل ایز کو معاملے میں ’’بے ضرورت‘‘ التواء قبول کرنا دہلی کے عوام کو بھاری پڑا ہے، پارٹی کے دہلی چیف منوج تیواری نے کہا کہ پارٹی ’’کسی بھی وقت‘‘ انتخابات کیلئے تیار ہے۔ ’’ہم 20 اے اے پی ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے ای سی فیصلہ کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اروند کجریوال کو اخلاقی شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہئے۔‘‘ عام آدمی پارٹی کی دہلی یونٹ کے ترجمان اعلیٰ سوربھ بھردواج نے کہا کہ انتخابی پیانل نے ایم ایل ایز کے کیس کی سنوائی نہیں کی۔ چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اے کے جیوتی پر شدید لفظی حملہ چھیڑتے ہوئے وہ اپنے ریٹائرمنٹ سے قبل وزیراعظم کا ’’قرض چکارہے‘‘ ہیں۔ تاہم، کمیشن کی طرف سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ سی ای سی جیوتی نے ربط پیدا کرنے پر کہا کہ یہ معاملہ زیرغور ہونے کی وجہ سے وہ اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔ یہ 20 ایم ایل ایز آدرش شاستری، الکا لامبا، انیل باجپائی، اوتار سنگھ، کیلاش گہلوٹ (جو وزیر بھی ہیں)، مدن لال، منوج کمار، نریش یادو، نتن تیاگی، پراوین کمار، راجیش گپتا، راجیش رشی، سنجیو جھا، سریتا سنگھ، سوم دت، شرد کمار، شیو چرن گوئل، سکھبیر سنگھ، وجیندر گارگ اور جرنیل سنگھ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT