Friday , August 17 2018
Home / اداریہ / عام آدمی پارٹی کو دھکہ

عام آدمی پارٹی کو دھکہ

ان سے ہے ربط، ترکِ محبت کے بعد بھی
کیا ہوگا پھر سوالِ محبت اگر اٹھے
عام آدمی پارٹی کو دھکہ
ملک میں کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اس سے سیاسی حریفوں کی تباہی اور بربادی ہی ہوگی۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کو نفع بخش عہدہ رکھنے کی پاداش میں الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اے کے جیوتی کی اس سفارش کے بارے میں جو کچھ تبصرے ہورہے ہیں، یہ ایک دستوری ادارہ کے سربراہ کے شایان شان نہیں ہیں کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ دستوری اور کسی بھی پارٹی کی طرفداری و جانبداری سے بالاتر ہوتا ہے، مگر اے کے جیوتی کے تعلق سے کہا جارہا ہیکہ انہوں نے اپنے ریٹائرمنٹ سے چند دن قبل ہی پھر ایک بار موافق بی جے پی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے اپنے دور کمشنری کے دوران متنازعہ رول ادا کیا اور ہمیشہ سرخیوں میں رہے ہیں۔ سابق چیف الیکشن کمشنر ٹی این سیشن نے الیکشن کمیشن کو ایک وقار و احترام بخشا تھا مگر حالیہ دنوں میں اس دستوری ادارہ کو صرف مرکز ہی سیاسی طاقت کے تابع بنادیا گیا ہے۔ سی ای سی جیوتی آئندہ ہفتہ سبکدوش ہورہے ہیں۔ ان کے اقدام سے عام آدمی پارٹی کی بنیادیں ہل گئی ہیں۔ 70 رکنی دہلی اسمبلی میں عام آدمی پارٹی نے گذشتہ سال انتخابات میں 67 نشستیں حاصل کرکے بی جے پی کو شدید دھکا پہنچایا تھا۔ دہلی کی کرسی سے محرومی نے بی جے پی قیادت کو اندر ہی اندر سازش کرنے اور اپنی طاقت اور مرکزی اختیارات کو روبہ عمل لانے اور گھناونا منصوبہ بنانے کا ناپاک ارادہ بخشا ہے تو عام آدمی پارٹی کو کمزور کرنے والی یہ کارروائی ہی اس کا ایک حصہ معلوم ہوگی۔ الیکشن کمیشن کو کسی ایک سیاسی طاقت کی ترجمانی کرنا نہیں ہوتا۔ اس ادارہ کو پی ایم او کا لیٹر باکس نہیں ہونا چاہئے لیکن آج یہ بات حقیقت میں تبدیل ہوچکی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دینے صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند سے سفارش کی ہے اور صدرجمہوریہ بھی الیکشن کمیشن کی سفارش کو تسلیم کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر صدرجمہوریہ نے عام آدمی پارٹی کے 20 ارکان اسمبلی کو نااہل قراردینے کی سفارش پر اپنی دستخط یا منظوری دیدی تو پھر عام آدمی پارٹی دہلی اسمبلی میں اقلیت بن جائے گی اور ضمنی انتخابات کروائے جائیں گے۔ 67 رکنی عام آدمی پارٹی کی اکثریت گھٹ کر 47 ہوجائے گی۔ یہ ایک افسوسناک کارروائی ہے۔ دنیا میں کہیں بھی اگر تحقیقات کی جاتی ہیں تو ملزم کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے لیکن عام آدمی پارٹی کی شکایت ہے کہ الیکشن کمیشن نے آج کی تاریخ تک بھی عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کو اپنا موقف پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔ الیکشن کمیشن ایسا معلوم ہوتا ہیکہ بی جے پی حکومت کی ایماء پر یہ کام کررہا ہے۔ اس نے اپنا اعتبار کھودیا ہے۔ دہلی میں عام آدمی پارٹی کا موقف مضبوط ہے۔ عام آدمی پارٹی نے فبروری 2015ء میں دہلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اب اگر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو یہ عام آدمی پارٹی کی حکومت کی کارکردگی سے متعلق دہلی کے رائے دہندوں کے احساس کا امتحان ہوگا۔ عام آدمی پارٹی کو گذشتہ سال مارچ میں ہی سب سے بڑا دھکہ لگا تھا جب اس کو دہلی بلدی انتخابات میں ناکامی ہوئی تھی لیکن بی جے پی نے دہلی کے بلدی انتخابات کو کس طرح کامیاب کیا ہے یہ ایک پراسرار بات ہے۔ دہلی ہائیکورٹ نے بھی ان ارکان اسمبلی کو راحت فراہم نہیں کی۔ مرکزی طاقت کے ساتھ کچھ سیاسی کھلاڑی بھی کھل کر اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان سیاسی پارٹیوں کی سوچ انتہائی محدود ہوچکی ہے کیونکہ آج اگر دستوری ادارہ الیکشن کمیشن کو استعمال کیا جاتا ہے تو اس ادارہ اور دستور پر زخم لگانے کے مترادف بات ہوگی۔ جو طاقتیں ملک کے دستور کو کمزور اور مجبور بنانا چاہتے ہیں وہ لوگ دستوری اداروں کا من مانی طریقہ سے استعمال و استحصال کریں گی۔ اس طرح کے قابل مذمت ماحول میں اگر مرکزی سیاسی قوت نے اپنی انا کی تسکین کرتی ہے تو اس ملک کی خدمت قطعاً غیرتشفی بخش ہوگی۔ عام آدمی پارٹی نے اپنے ارکان اسمبلی کو نفع بخش عہدہ دیا ہے تو اس کی اصلاح کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے تھا لیکن براہ راست نااہلی کی سفارش کی گئی۔ اگر 20 ارکان کو نااہل قرار دیا جائے تو عام آدمی پارٹی کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں کیونکہ 70 رکن اسمبلی میں عام آدمی پارٹی کے 46 ارکان ہیں جبکہ سادہ اکثریت کیلئے صرف 36 ارکان ہی کافی ہیں۔ بعض طاقتیں اپنے مقاصد کیلئے الیکشن کمیشن کے اعتبار کو دھکہ پہنچا رہی ہیں تو یہ ایک افسوسناک کوشش ہے۔ عام آدمی پارٹی کیلئے بھی یہ واقعہ غور طلب ہے اور اسے اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ دہلی کے رائے دہندوں کے سامنے جوابدہ ہیکہ آخر الیکشن کمیشن کے اس سخت اقدام کے پس پردہ کن خرابیوں نے پارٹی کو دھکا پہنچایا ہے۔
عالمی قائدین اور وزیراعظم کا پروٹوکول
وزیراعظم نریندر مودی حال ہی میں وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو کے دورہ ہندوستان کے موقع پر ایرپورٹ پر ان کا خیرمقدم کرنے کیلئے بہ نفس نفیس پہنچے اور وزارت عظمیٰ کے پروٹوکول کو بالائے طاق رکھا۔ ان کے اس جذبہ خیرسگالی پر تنقیدیں کی جارہی تھیں۔ اس کا جواب دیتے ہوئے مودی نے اپنے اس اقدام کی مدافعت کی۔ ان کا کہنا ہیکہ وہ ایک عام آدمی ہیں۔ وہ پروٹوکول کو نہیں جانتے۔ مودی کا یہ احساس ایک عام آدمی کے وقار کو ضرور بلند کرے گا مگر انہیں یہ خیال بھی رکھنا ضروری ہیکہ وہ ملک کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہیں تو اس کے آداب بھی ہوتے ہیں۔ وہ جب بھی اندرون ملک یا بیرون ملک ہوتے ہیں تو عالمی قائدین سے ملاقات کے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ 130 کروڑ عوام کے نمائندے ہیں۔ بغلگیر ہونے، ادھر ادھر دیکھنے اور اپنے جسم کو نچا کر بے خیالی میں ایسی حرکتیں کرتے ہیں کہ عالمی قائدین کے علاوہ ہندوستان میں ہر ایک کو وزیراعظم ہند کے مرتبہ و وقار کی عظمت کو پامال ہوتے دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ کانگریس پارٹی نے مودی کی ان حرکتوں پر تنقید کی ہے۔ جلیل القدر عہدہ پر فائز شخص کو ایک عام آدمی ہونے کا احساس ہونا فطری طور پر اچھی بات ہے مگر عہدہ اور مرتبہ کا خیال رکھنا اس عہدہ کے تقدس کا احترام کرنا بھی اس عہدہ پر فائز شخص کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ جہاں تک پروٹوکول کا سوال ہے اگر مودی کو عالمی قائدین سے ملاقات میں پروٹوکول کو فراموش کرنے میں دلچسپی ہے تو پھر انہیں عالمی قائدین کی طرززندگی اور عوامی خدمت کیلئے ان کی روزمرہ مصروفیات کا بھی جائزہ لینا چاہئے کیونکہ دوسرے ملک کے وزیراعظم کے بارے میں بتایا جاتا ہیکہ وہ اپنی کار خود چلاتے ہیں۔ ٹریفک سگنل پر رکتے ہیں، نہ کوئی پروٹوکول نہ کوئی پولیس موبائیلس، نہ پائلیٹ گاڑی نہ سیکوریٹی وہ اپنے ملک میں ایک عام آدمی کی طرح رہتے ہیں مگر تعجب تو یہ ہیکہ مودی ایک عام لیڈر سے ملنے کو پروٹوکول ترک کرتے ہیں اور خود کو عادم آدمی کہتے ہیں جبکہ وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز رہ کر تمام مراعات سے استفادہ کرتے وقت عام آدمی کو بھول جاتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT