عام آدمی پارٹی کی ابتدائی غلطیاں

اب زمانہ نہیں اصولوں کا تم بھی بہتی ہوا کے ساتھ چلو جشن جمہوریہ

اب زمانہ نہیں اصولوں کا
تم بھی بہتی ہوا کے ساتھ چلو
جشن جمہوریہ
ہندوستانی جمہوریہ کے جشن کے موقع پر عوام االناس کو یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات میں ملک پر فرقہ پرستوں کا راج ہونے والا ہے ، کانگریس کو شکست فاش کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ جشن جمہوریہ ہند کے اس عظیم الشان موقع پر عوام الناس کو یہ بھی خوشی حاصل ہوگی کہ جمہوریت نے انھیں اپنی مرضی اور پسند کی حکومت لانے کا کامل اختیار دیا ہے۔ جمہوریت کی یہی ایک بڑی خوبی ہے کہ عوام اپنی مرضی سے سرکار بناتے اور گراتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں جمہوریت کے اس آزادانہ ماحول کو مفاد پرست سیاستدانوں ، چوروں اور سازشوں کے ماہر افراد نے مکدر کردیا ہے۔ جمہوریت کے اس لطف کا کڑوا مطلب نکال کر لیڈروں نے عوام کی بڑی تعداد کو اپنا مطیع بنانا شروع کیا ان میں اب سرفہرست فرقہ پرست طاقتیں دکھائی دے رہی ہیں۔ سیکولرازم کا لبادہ اوڑھ کر برسوں سے حکمرانی کرنے والی کانگریس نے ملک کی اقتصادی ، سماجی اور قومی یکجہتی کی صورتحال کو دیمک کی طرح چاٹ کر کمزور کردیا ہے ۔ جس ملک میں زرعی پیداوار میں اضافہ ہو ، اناج کا کوئی مسئلہ نہیں ہے وہا ںعوام کو مہنگائی کا سامنا ہے ۔ سائنس و ٹکنالوجی کے شعبہ میں ہماری ترقی نے صرف انھیں فائدہ پہونچایا ہے جو دلالی کے ذریعہ بھی اپنی تجوریاں اور سوئس بنکوں کو بھر رہے ہیں۔ ٹکنالوجی کے نام پر دفاعی اشیاء طیارے اور جٹ ایرویز کی خریداری میں بہت بڑے پیمانہ کے اسکامس ہوئے ہیں ۔ جس ٹکنالوجی کے شعبہ کو ترقی دی جاتی ہے وہاں ہندوستانیوں کو زمانے کے ساتھ ہمقدم رکھنے کے بجائے اسکامس کے ذریعہ ٹکنالوجی میں ترقی کو اپنی بداعمالیوں کے وائرس سے متاثر کرچکے ہیں ۔ ملک کی ایک بڑی آبادی کو روزگار اور روٹی سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس جشن جمہوریہ کے موقع پر عوام الناس کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ حکمرانوں نے روٹی ، کپڑا اور مکان کے نام پر انھیں کتنا دھوکہ دیا ہے۔کانگریس فوڈ سکیورٹی بل لاکر بھی عوام الناس کی غذائی سلامتی کو یقینی بنانے میں ناکام ہوجائے تو پھر اس کو عوام کی ہمدردی کس طرح ملے گی ۔ ملک میں آج بھی کروڑہا افراد ایسے موجود ہیں جن کوان کی محنت کا بدل نہیں ملتا ۔ سینکڑوں خاندانوں کو ایک وقت کے کھانے پر گذارہ کرنا پڑتا ہے ، سر چھپانے کیلئے کوئی سہارا نہیں ہے ۔ سترپوشی بھی مشکل نظر آتی ہے ۔سوا سو کروڑ کی آبادی والے اس ملک کو جمہوریت کے ثمرات سے ہم آہنگ کرنے کے بجائے ذات پات، فرقہ واریت اور تنگ نظری کوتاہ ذہنی میں مبتلا کیا جارہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے کسی نہ کسی علاقہ میں فرقہ وارانہ فسادات رونما ہوتے ہیں۔ مظفر نگر کے فسادات ہوں یا آسام اور گجرات کے بھیانک مسلم کش واقعات یہ سب فرقہ پرستوں کی گہری سازشوں اور منصوبوں کا تسلسل ہیں۔ ان واقعات کے سدباب کے لئے جمہوریہ ہند کے کسی بھی قانون کا اطلاق دیانتداری سے نہیں کیا جاتا ۔ اب اس جمہوریت کی جڑں سے فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے کہ وہ ملک پر دندناتے ہوئے حکومت کرتے آرہے ہیں تو جمہوریت پسند ہندوستانیوں کو ان فرقہ پرستوں کی دوڑ کو روکنے کیلئے کیا حکمت عملی اختیار کرنی ہے یہ سوچنا ضروری ہے ۔ سیکولرازم کی نام نہاد پارٹیاں اب ملک پر اپنی گرفت مضبوط کرنے سے قاصر ہیں۔ اصل سیکولر ذہنوں کو متبادل طاقت تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ جمہوری ہندوستان کا جو تصور پیش کیا گیا تھا وہ عام آدمی ، کسانوں ، محنت کشوں کو آزادی اور مساویانہ مواقع فراہم کرنے پر مبنی تھا لیکن آج یہ سب کتابی باتیں بن گئی ہیں۔ ہمارے ملک کی عدلیہ خود دیگر باتوں کا نوٹس لے کر کارروائی کرتی ہے مگر اس نے آج تک عوام پر گرنے والے مہنگائی کے بموں اور فرقہ پرستوں کے منصوبوں کا کوئی نوٹس نہیں لیتی جس سے حکومت اور فرقہ پرست مزید شیر ہوجاتے ہیں۔ عام آدمی کا حال زار ایک منفی پہلو ہے ۔ اس عام آدمی نے اپنے درمیان کے لیڈر کو منتخب کیا تو اب اقتدار نے بھی اسے مختلف تنازعات میں گھسیٹا ہے۔ عام آدمی کے لئے بعض اثباتی پہلو ایسے ہیں جن پر غور کرکے عوام الناس کو ایک بہتر حکمرانی کی امید پیدا ہوسکتی ہے ۔ اگر عوام آج جمہوریت پسندی کو عزیز رکھتے ہیں تو ان کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے لیڈر کا انتخاب کریں لیکن اس کے ساتھ لیڈر کی خوبیاں ، اوصاف اور اہلیت کو بھی پرکھنے کی ضرورت ہے ۔ جمہوریت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ عوام الناس اندھی عیقدت میں دشمنوں یا انسانی قاتلوں کو اقتدار حوالے کردیں۔ الیکشن کمیشن کو پورے اختیارات ہونے کے باوجود وہ فرقہ پرستوں ، چوروں ، مجرموں ، قاتلوں اور لٹیروں کو انتخابی میدان سے دور رکھنے سے قاصر ہے ۔ اس کی وجہ کیا ہے یہ سیاسی بازوں کی طاقت ، دولت کا زعم اور عوام کی تائید سے اقتدار حاصل کرنے والے واقف ہیں۔ بدعنوانیوں اور خرایبوں کو روکنے کیلئے خفیہ ادارے بھی ہیں ۔ سی بی آئی کی شکل میں تحقیقاتی ادارہ بھی ہے لیکن یہ بھی ہمیشہ سیاست اور قیادت کے اردگرد گھوم رہے ہیں ۔ عوام کے سیاسی شعور کو پختہ کرنے کیلئے خفیہ شعبوں کی کرتوتوں کو بے نقاب کیا جانا ضروری ہے لیکن یہ کام کون کرے گا ۔
عام آدمی پارٹی کی ابتدائی غلطیاں

قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا درست ہے تو پھر آنے والے دنوں میں عام آدمی پارٹی کے لیڈر کی طرح قانون کا نیا روپ سامنے آنے لگے گا جو لوگ اپنی ہر حرکت کو درست مانتے ہیں انھیں بہت جلد سبق بھی سکھایا جاسکتا ہے ۔ دہلی کے عوام کے ووٹوں سے حکومت حاصل کرنے والی عام آدمی پارٹی اور اس کے قائدین خاص کر وزیر قانون سومناتھ بھارتی کا تنازعہ اس نوساختہ حکومت کو کمزور بنادے گا ۔ پارٹی لیڈر اروند کجریوال نے سومناتھ بھارتی کو بچانے نئے ویڈیوز کا سہارا لیا ہے ۔ دہلی میں ایک یوگانڈا کی خاتون کے گھر پر دھاوا کرنے والے سومناتھ بھارتی کے خلاف اور حمایت میں آنے والی خبریں عام آدمی پارٹی کیلئے خیر کا معاملہ نہیں ہیں۔ یوگانڈا کی خاتون پر فحاشی ، عیاشی اور شراب نوشی جیسے الزامات عائد کرکے شیوسینا کی طرح ایک نئی سینا بناکر گھروں میں گھس پڑنے کا واقعہ ملک میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ اپنے ابتدائی دنوں میں ہی پارٹی فاش غلطیوں کے ذریعہ قبر کھود رہی ہے ۔ سومناتھ بھارتی کے رویہ کو لاشعوری کا عمل قرار دیا جارہا ہے ۔ کجریوال نے ہر شہری کو انصاف کے نعرے کے ساتھ دہلی والوں سے ووٹ لیا تھا اب وہ اپنے ساتھی رکن سومناتھ بھارتی کی واقعہ پر ان کی حمایت کرکے دیہی علاقوں کی کھپ پنچایت کا عکس دارالحکومت دہلی میں دکھانے کی کوشش کی ہے ۔ بردہ فروشی کو روکنے پولیس اور قانون کے پاس کئی طریقے ہیں ۔ عام آدمی پارٹی نے اس ایک موضوع کو ہی اپنی حکمرانی کی مکروہ شروعات کی ہے تو طویل مدت میں پارٹی مخالفین کو خرابیاں اور برائیاں تلاش کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوگی اس لئے عام آدمی پارٹی کو عوام کی عزیز ترین پارٹی بنانے کے لئے ایسی غلطیاں نہیں کرنی چاہے جو سڑک کی لڑائی یا بھائی لوگوں کی حرکتوں سے تعبیر کی جانی لگیں اس پر تنقیدوں اور الفاظ کی سنگباری کرنے والی مخالف پارٹیوں کو موقع مل جائے گا ۔ ہر شہری کی عزت کسی پارٹی کے لیڈر کے رحم و کرم پر نہیں ہونی چاہئے ۔
عام آدمی پارٹی نے جس مقصد اور منشا سے میدان سیاست میں قدم رکھا تھا اس پر توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ اس طرح کا سلسلہ جاری رہے تو رائے دہندے ازسرنو صف آراء ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT