Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / عام آدمی کی خاص بات

عام آدمی کی خاص بات

حیدرآباد ۔ 12 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : شہر حیدرآباد محنت و مشقت اور جدوجہد کرنے والوں کے لیے ایک سازگار مقام تصور کیا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی محنت اور جدوجہد کے ذریعہ اپنے معاشی حالات کو سنوارنے میں مصروف ہیں ۔ جہاں تک حیدرآبادی باشندوں کا تعلق ہے ان کے حوالے سے یہ عام تصور ہے کہ وہ چھوٹے موٹے کاروبار کرنے یا سخت محنت سے جی چراتے ہیں ۔ مگر یہ خیال ہر فرد پر صادق نہیں آتا کیوں کہ بہت سارے حیدرآبادی نوجوان بھی چھوٹے چھوٹے کاروبار کرتے ہوئے اور محنت و مشقت کرتے ہوئے اپنے اور اپنے ارکان خاندان کی کفالت کے ساتھ ساتھ اپنے ذریعہ معاش کے استحکام میں مصروف ہیں ۔ ہماری ملاقات دو ایسے ہی نوجوانوں سے ہوئی جو چارمینار کے دامن میں اپنے آپ کو چلتی پھرتی دکان میں تبدیل کرلیا ہے اور اپنی اس محنت کے ذریعہ ایک معقول آمدنی حاصل کرلیتے ہیں ۔ دو سگے بھائی 24 سالہ شیخ حنیف اور 22 سالہ شیخ عظیم سے جن کا تعلق علاقہ تالاب کٹہ سے ہے ۔ ایک حیدرآبادی نوجوان کو اسی قدر محنت کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی جب ان سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے والد شیخ سرور مرحوم فروٹ تاجر تھے مگر 3 سال قبل ان کا انتقال ہوا ۔ جس کی وجہ سے گھر کی ذمہ داری چار بھائی میں سے ان دو بھائیوں کے ذمے آگئی ۔ شیخ حنیف نے بتایا کہ غربت کے سبب وہ لوگ کبھی اسکول نہیں گئے ۔ تاہم اب وہ اپنی بہن کو تعلیم سے آراستہ کرانے کے لیے اسکول میں تعلیم دلا رہے ہیں ۔ بچپن سے ہی محنت و مشقت کے عادی شیخ حنیف اور شیخ عظیم نے بتایا کہ وہ بیگم بازار سے مصنوعی جویلری لاکر چارمینار کے پاس فروخت کرتے ہیں ۔ دونوں بھائی تھرماکول کے ایک بڑے بورڈ پر خواتین کے سجنے سنورنے کے زیورات کو بڑے ہی سلیقے سے سجا کر اپنے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے تھے ۔

دونوں بھائی صبح 10 بجے سے شام 8 بجے تک یہ کاروبار کرتے ہیں اور کوئی چھٹی نہیں ہفتے کے ساتوں دن کاروبار کرتے ہیں ۔ یہ دونوں بھائی نماز کے بھی پابند ہیں ۔ اور نماز کا وقت ہوتے ہی ایک ایک کر کے قریبی مسجدوں میں نماز ادا کرتے ہیں وہ اپنے گھر سے ٹفن لالیتے ہیں ۔ بس اپنی ساری جستجو اور توجہ کاروبار پر مرکوز کر رکھا ہے ۔ ان کی ساری محنت اور مشقت کا بس ایک ہی مقصد ہے اور وہ ہے مکان کی تعمیر اور بہن کی تعلیم اپنے انہی دو اہم مقاصد کے تحت کاروبار کرتے ہوئے وہ گھر بھی چلا رہے ہیں اوراس میں بچت کرتے ہوئے مذکورہ مقاصد کی تکمیل کے لیے دن رات کوشاں ہیں ۔ شیخ حنیف اور شیخ عظیم کی محنت ، مشقت ان کی جدوجہد اور جستجو کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ عجب نہیں کہ وہ ایک دن کسی جویلری شوروم کے مالک بن جائیں کیوں کہ سڑکوں پر کاروبار کرنے والے دیگر نوجوانوں اور لڑکوں کے مقابل یہ دونوں بھائی ، غیر معمولی سنجیدہ ، محنتی ، نماز کے پابند ، اور اپنے سامنے ایک نصب العین مقرر کرتے ہوئے زیادہ بہتر انداز میں اپنی زندگی کو بہتر بنانے مسلسل کوشاں ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT