Wednesday , September 19 2018
Home / شہر کی خبریں / عام آدمی کی خاص بات

عام آدمی کی خاص بات

کار نما ’دکان ‘، چل رہا ہے اظہر کا مکان

کار نما ’دکان ‘، چل رہا ہے اظہر کا مکان
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جنوری : ( نمائندہ خصوصی ) : یہ ایک بہت پرانی کہاوت ہے ’ کر محنت کھا نعمت ‘ یوں تو دیکھنے میں یہ مختصر سی کہاوت ہے لیکن اس میں زندگی کی بہت بڑی حقیقت پوشیدہ ہے ،جو اس کہاوت کی حقیقت کو سمجھ گیا کامیابی اس کے قدم یقینا چوم لیتی ہے ۔ ہمیں یہ دیکھ کر بڑا افسوس ہوتا ہے کہ ہماری نئی نسل خاصی آرام طلب ہوگئی ہے ۔ غالبا وہ سوچتے ہیں کہ غیب سے ایسا کچھ کرشمہ ہوجائے کہ وہ بیٹھے بٹھائے لاکھوں کروڑوں میں کھیلنے لگیں اس بیمار ذہنیت کی وجہ سے ہمارے نوجوان کوئی ترقی نہیں کر پارہے ہیں جب کہ حیدرآباد میں دوسری ریاستوں سے آنے والے نوجوان نئے نئے کاروبار کے ذریعہ اپنے پاؤں پرکھڑے ہورہے ہیں ۔ جو یقینا ایک خوش آئند بات ہے ۔ دراصل ایک ایسے نوجوان سے ملاقات ہوئی جو روایتی طریقہ کاروبار سے ہٹ کر ایک نئے اور انوکھے انداز سے کاروبار کرتے ہوئے خوشحال زندگی گذار رہے ہیں ۔ ان کا نام محمد اظہر الدین ہے ۔ جن کا تعلق میرٹھ یو پی سے ہے وہ حیدرآباد میں پچھلے 15 سال سے کاروبار کررہے ہیں اور افضل ساگر ملے پلی میں 15 سال سے کرایہ کے مکان میں مقیم ہیں ۔ ان کے ساتھ دو رشتہ دار ہیں جو کاروبار میں مدد کرتے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اصل کاروبار کمپیوٹر اسکراپ کا ہے ۔ تاہم اتفاق سے جوتوں کا ایک بڑا لاٹ انہیں مل گیا تو وہ ان کے ایک دوست کی کار لے کر جوتوں کو کو اس کے اوپر سجا کر فروخت کررہے ہیں جس سے باآسانی یومیہ 1000 روپئے آمدنی ہوجاتی ہے ان کے دو ساتھی بھی مدد کررہے ہیں ۔ اظہر الدین نے کہا کہ وہ محنت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے ۔ انہیں جو بھی مال مل جاتا ہے وہ اسے خرید کر نئے انداز میں فروخت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں کاروبار کا ماحول بنا ہوا ہے اور میں ہر کاروبار میں کامیاب بھی ہوجاتا ہوں ۔ اظہر الدین نے مزید بتایا کہ ان کے گاؤں میں ایک ’’ یواسیوا سمیتی ‘‘ قائم کی ہے جس میں ہم چند دوست مل کر اپنی سالانہ آمدنی کا 25 فیصد حصہ مذکورہ سمیتی کے حوالے کردیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسی سمیتی کے نام پر 2 ایمبولنس رکھے ہیں جو گاوں کے مریضوں کو شہر میں موجود ہاسپٹل تک لے جاتے ہیں ۔ یہ سمیتی دیگر فلاحی کام بھی انجام دیتی ہے ۔ ان کی محنت اور ان کا جذبہ یقینا قابل ستائش ہے کہ وہ اپنے گھر سے دور آکر محنت و مشقت کرتے ہوئے بھی گاوں کے غریب اور بے سہارا لوگوں کے لیے اپنی آمدنی کا 25 فیصد فلاحی کاموں پر صرف کرتے ہیں ۔ نوجوان تاجر نے کہا کہ کوئی بھی کاروبار چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا بس آدمی محنت کرنے کی ٹھان لے تو اسے کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمارے نوجوان بھی اظہر الدین سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی اور اپنے ارکان خاندان کی کفالت کا کامیاب ذریعہ بن کر دکھائیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT