Tuesday , December 11 2018

عام انتخابات سے قبل ملک کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کی کوشش

ایک ہفتہ میں دوسری مرتبہ ہندی ریاستوں میں گائے کے نام پر قتل ، مسلمانوں کو گھیر گھیر کر مارڈالنے کی مہم

میرٹھ ۔ /20 جون (سیاست ڈاٹ کام) ملک میں عام انتخابات سے قبل فرقہ پرستی کی آگ بھڑکانے کی سازش رچائی جارہی ہے ۔ جموں و کشمیر میں پی ڈی پی سے اتحاد توڑنے کے بعد اس ریاست کے عوام کو پھر ایک بار ظلم و زدیاتیوں کا شکار بنایا جارہا ہے ۔ جبکہ سارے ملک میں گھناؤنی سازش کے ساتھ مسلمانوں کو چن چن کر مارڈالنے کی مہم چلائی جارہی ہے ۔ گائے کے نام پر آئے دن مسلمانوں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ یو پی کے اسمبلی انتخابات سے قبل مظفر نگر میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکائے گئے ۔ ہندو ووٹ بینک کو مضبوط کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا گیا ۔ جھارکھنڈ اور دیگر ریاستوں مدھیہ پردیش ، راجستھان ، چھتیس گڑھ میں بھی اسمبلی انتخابات ہونے جارہے ہیں ۔ ڈسمبر میں ہونے والے ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات کے ساتھ بیک وقت عام انتخابات کی تیاری کرنے والی مرکزی حکمراں پارٹی کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے فرقہ پرست طاقتیں کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں ۔ مظفر نگر حصہ دوم کا ملک کے ہر مقام پر احیاء کرنے کی سازش دکھائی دے رہی ہے ۔ گائے سے متعلق معاملے کو سنگین بناکر ہاپور مقام پر گنے کے کھیت میں ایک ہجوم کی جانب سے مویشیوں کے تاجر 45 سالہ قاسم کو زدوکوب کرکے مارڈالا گیا جبکہ 65 سالہ دوسرے مسلمان کو زخمی کیا گیا ۔ ایسا ہی واقعہ چند دن قبل جھارکھنڈ کے ضلع گوڈا میں پیش آیا تھا جہاں دو مسلمانوں کو مویشیوں کے سرقہ کے الزام میں موت کے گھات اتار دیا گیا ۔ متوفی قاسم کے بھائی محمد سلیم نے بتایا کہ میرے بھائی کو زدوکوب کیا گیا وہ زخمی حالت میں پانی پانی مانگتا رہا لیکن ظالموں نے اسے پانی دینے سے انکار کردیا ۔ ہجوم میں سے کسی نے کہا کہ یہ مسلمان ہے اسے پانی مت دو ۔ یہ واقعہ پیر کے دن 12 بجے سے 1 بجے کے درمیان پیش آیا ۔ پلکھوا (ہاپوڑ، اترپردیش) کوتوالی کے گاؤں بجھوڑا خرد میں گاؤں والوں نے گئو کشی کا الزام لگاتے ہوئے لاٹھی،ڈنڈوں سے ایک آدمی کو زدوکوب کرکے ہلاک کرڈالا جبکہ دوسرا شدید طور پر زخمی ہے۔روزنامہ ہندوستان کے مطابق اس معاملے پر پولیس انتظامیہ میں افراتفری کا ماحول ہے۔ گئو کشی کا الزام لگا کر حملہ کرنے والوں میں تقریباً دو درجن لوگ شامل تھے۔ معاملے پر دونوں فریقوں میں کشیدگی کا ماحول ہے، جس کی وجہ سے گاؤں میں پولیس (پی اے سی) تعینات ہے۔حالانکہ پولیس اس کو بائیک کی ٹکر لگنے کے بعد ہوئی مارپیٹ کا معاملہ سمجھ رہی ہے۔ پولیس نے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ پولیس نے اس معاملے میں 25 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔قاسم کے کھیت میں ایک گائے اور اس کا بچھڑا گھس گیا تھا ،جس کو قاسم بھگا رہا تھا ،لیکن اس بیچ کچھ لوگوں نے گئو کشی کی افواہ پھیلا دی اور موقع پر پہنچ کر لوگوں نے قاسم کے ساتھ مارپیٹ کی۔ علاج کے دوران قاسم کی موت ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس میں گاؤں والوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پیر کی دوپہر کو انہوں نے کچھ لوگوں کو گاؤں مدا پور کی طرف گائے لے جاتے دیکھا تھا۔ ایک کھیت پر کام کر رہے ایک کسان نے گئوکشی کی اطلاع گاؤں میں دے دی۔اس کے بعد درجنوں لوگ جمع ہوکر کھیتوں کی طرف دوڑ پڑے۔ گاؤں مدا پور پہنچ کر وہاں موجود قاسم (45) باشندہ صدیق پورہ اور ایک کھیت میں موجود بوڑھے سمیع الدین (72) کو پکڑ لیا اور لاٹھی ڈنڈوں سے ان کی پٹائی کر دی۔ اطلاع ملتے ہی سی او پون کمار اور کوتوال اشونی کمار موقع پر پہنچ گئے اور مارپیٹ میں زخمی دونوں لوگوں کو فوری طور پر پبلا روڈ کے ایک نجی ہاسپٹل پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں نے قاسم کی موت کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ایس پی ہاپوڑ سنکلپ شرما، اے ایس پی رام موہن سنگھ، ایس ڈی ایم ہنومان پرساد کوتوالی پہنچ گئے۔ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ ملک کی شمالی ریاستوں میں گائے کے نام پر قتل کیا گیا ہے ۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے ۔

TOPPOPULARRECENT