Wednesday , January 17 2018
Home / اضلاع کی خبریں / عام انتخابات میں بی جے پی کے امکانات روشن

عام انتخابات میں بی جے پی کے امکانات روشن

بنجارہ لیڈر امر سنگھ تلاوت کی قیاس آرائی

بنجارہ لیڈر امر سنگھ تلاوت کی قیاس آرائی

کاغذ نگر ۔ 4 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کاغذ نگر کی سرزمین پر مسٹر امر سنگھ تلاوت کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ موصوف ایک کسان گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد وینکٹ رام تلاوت اپنے دور کے مشہور کسان تھے جن کا شمار بنجاروں میں ہوتا ہے۔ مسٹر امر سنگھ تلاوت کا آبائی وطن تعلقہ بوتھ کے منڈل نیرڈی گنڈہ Neradigunda کا موضع گولی گوڑہ ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم عادل آباد ضلع کے شہر نرمل میں ہوئی۔ بعدازاں انہوں نے نظام آباد کالج حیدرآباد میں داخلہ لیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے بی ایس سی، ایم اے اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ مسٹر امر سنگھ تلاوت کو طالب علمی کے زمانے سے ہی سیاست سے کافی دلچسپی رہی اور وہ کانگریس پارٹی سے وابستہ ہوگئے۔ 1969ء کی علیحدہ تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جیل کی صعوبتیں بھی انہیں جھیلنی پڑی۔ وہ سیاست کے میدان میں رہ کر غریب عوام کی خدمت کرنا چاہتے تھے۔ ان کا یہ خواب اس وقت شرمندہ تعبیر ہوا۔ جب انہوں نے 1978ء میں ضلع عادل آباد کے حلقہ اسمبلی یوتھ سے رکن اسمبلی کے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ حکومت نے انہیں 1980ء میں گورنمنٹ وہپ کے عہدہ سے نوازا۔ بعدازاں 1981ء تا 1983ء چیف منسٹر مسٹر کوٹلہ وجئے بھاسکر ریڈی کے دور حکومت میں وزیر سیاحت کے عہدہ سے بھی انہیں سرفراز کیا گیا۔ موصوف کا بہترین کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے کانگریس پارٹی کے دور حکومت میں 1976ء میں اندرا گاندھی سے کامیاب نمائندگی کرکے بنجارہ ذات کے افراد کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کروایا

اور حکومت کی جانب سے قبائیلیوں کو ملنے والی سہولتیں بھی انہیں دلوائیں جس کی وہ مسٹر سنگھ تلاوت قبائیلیوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں کیونکہ وہ آدی واسیوں کے ترقیاتی کاموں میں کافی دلچسپی دکھاتے ہیں اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچا کر دم لیتے ہیں۔ اسی لئے انہیں آل انڈیا بنجارہ سیوا سنگ کے نیشنل ورکنگ پریسیڈنٹ اور آندھرا پردیش کے ٹریبل آدی واسی وکاس پریشد کے اسٹیٹ پریسیڈنٹ کی حیثیت سے ابھی بھی بہترین خدمات انجام دے رہے ہیں۔ مسٹر امر سنگھ تلاوت نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ 1999ء میں انہوں نے کانگریس پارٹی سے چند ناگزیر حالات کی بناء پر کنارہ کشی کرلی تھی اور تلگو دیشم پارٹی میں شمولیت حاصل کرلی تھی۔ یہ سیاسی پارٹی بھی ان کے معیار پر نہیں اُتری تو ایک اور سیاسی پارٹی پرجا راجیم (جس کے بانی و صدر تلگو فلموں کے مشہور ہیرو چرنجیوی تھے) میں شامل ہوگئے۔ مسٹر امر سنگھ تلاوت کو پرجا راجیم پارٹی کا اسٹیٹ وائس پریسیڈنٹ کا عہدہ بھی دیا گیا تھا۔ موصوف کے کہنے کے مطابق تلگو دیشم پارٹی اور پرجا راجیم پارٹی میں فیملی ممبرس ہی اعلیٰ عہدوں پرفائز تھے جس کی وجہ سے ان کی طبیعت اوب گئی اور ان کا ضمیر انہیں ملامت کرنے لگا۔ اسی لئے وہ نہایت ہی قلیل عرصہ تک ان سیاسی پارٹیوں میں رہ سکے۔ آخرکار انہیں نریندر مودی کی پالیسی پسند آئی۔ وہ نریندر مودی کو ایک اچھا ایڈمنسٹریٹر تصور کرتے ہیں۔ اسی لئے انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت حاصل کرلی اور انہیں قوی امکان ہے کہ آئندہ پارلیمنٹ الیکشن میں انہیں ضلع عادل آباد کے رکن پارلیمنٹ کا ٹکٹ بھی دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT