Saturday , January 20 2018
Home / اضلاع کی خبریں / عام انتخابات میں تلگودیشم اور بی جے پی میں مفاہمت

عام انتخابات میں تلگودیشم اور بی جے پی میں مفاہمت

عادل آباد /20 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عنقریب منعقد ہونے والے پارلیمانی و اسمبلی کے عام انتخابات میں تلگودیشم اور بی جے پی اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع میں لوک سبھا نشست کے علاوہ زیادہ سے زیادہ اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار عادل آباد رکن لوک سبھا مسٹر راتھوڑ رمیش نے مستقر عادل آباد کے تلگودیشم دفتر

عادل آباد /20 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) عنقریب منعقد ہونے والے پارلیمانی و اسمبلی کے عام انتخابات میں تلگودیشم اور بی جے پی اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع میں لوک سبھا نشست کے علاوہ زیادہ سے زیادہ اسمبلی حلقوں پر کامیابی حاصل کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار عادل آباد رکن لوک سبھا مسٹر راتھوڑ رمیش نے مستقر عادل آباد کے تلگودیشم دفتر میں میڈیا سے مخاطب ہوکر کیا۔ علحدہ تلنگانہ بل پارلیمنٹ میں منظوری کے بعد وہ پہلی مرتبہ پرہجوم میڈیا سے مخاطب تھے ۔ سیما آندھرا قائدین کی جانب سے پارلیمنٹ ہاوز میں ہنگامہ آرائی پر سخت مذمت کرتے ہوئے آندھرا قائدین پر سخت تنقید کی اور کہا کہ آئندہ منعقد ہونے والے عام انتخابات میں تلگودیشم اور بی جے پی مفاہمت کے ذریعہ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ۔ ضلع تلگودیشم پارٹی صدر مسٹر جی ناگیش جو ضلع عادل آباد کے یوتھ حلقہ سے اسمبلی میں نمائندگی کرتے ہیں ۔ پارٹی صدارت اور تلگودیشم پارٹی سے آج اپنا استعفی پیش کرتے ہوئے مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی صدارت میں ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی ترجیح دے رہے ہیں ۔ جس کے پیش نظر مسٹر راتھوڑ رمیش نے جاریہ ماہ کی 22 تاریخ کو ایک اہم اجلاس کے بعد ضلع تلگودیشم پارٹی صدر مقرر کرنے کا ارادہ ظاہر کیا جبکہ عادل آباد حلقہ اسمبلی انچارج و اسمبلی انتخابات میں پارٹی امیدوار کا مقام رکھنے والے مسٹر پاپل شنکر چند دنوں سے تلگو دیشم سے دوریاں اختیار کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں ۔

اس ضمن میں ایک روز قبل مستقر عادل آباد کے ایک ہوٹل میں مسٹر پاپل شنکر Jainad، Bela عادل آباد کے حامیوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کرچکے ہیں ۔ اس اطلاع کو بھی عادل آباد رکن لوک سبھا نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسٹر پاپل شنکر کو تلگودیشم پارٹی سے وابستگی کا اظہار کیا ۔ واضح رہے کہ ضلع تلگودیشم پارٹی صدر مسٹر جی ناگیش حلقہ اسمبلی یوتھ کے بازار ہتنور منڈل کے جانبدار موضع میں جو ان کا آبائی مقام ہے جہاں ایک دن قبل مقامی افراد سے سیاسی تبادلہ خیال کرنے کے بعد تلگودیشم سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کیا ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ ریاست میں تلگودیشم پارٹی قائم ہونے کے بعد آنجہانی چیف منسٹر مسٹر این ٹی راما راؤ کی عوام دوست ، غریبوں کی فلاح و بہبودگی پالیسی کے پیش نظر ضلع عادل آباد میں کانگریس کے مقابل زیادہ اہمیت حاصل ہوئی تھی ۔ ضلع عادل آباد میں 1984 تا 2014 مسلسل 30 سال تک تلگودیشم کے امیدواروں نے کانگریس پر سبقت حاصل کرتے رہے 1984 میں تلگودیشم کے تحت ضلع عادل آباد سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرنے والے آنجہانی مسٹر سی مادھوریڈی کو جہاں پہلا مقام حاصل ہے وہیں مسٹر راتھوڑ رمیش کو آخری تصور کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ تلگودیشم پارٹی سے منتخب ہوکر پارلیمنٹ ہاوز میں ضلع سے نمائندگی کرنے والے مسٹر سی مادھوریڈی کے بشمول چھ مرتبہ اراکین لوک سبھا ہیں جن میں مسٹر اے اندرا کرن ریڈی 1991 میں منتخب ہونے کے بعد 1992 میں کانگریس میں شمولیت حاصل کرتے ہوئے آنجہانی وزیر اعظم مسٹر پی وی نرسمہا راؤ کو مستحکم کیا تھا

جبکہ مسٹر ایس وینوگوپال چاری 1996، 1998، 19999 کے تین انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکزی وزیر بھی رہے ۔ بعد ازاں 2009 کے انتخابات میں مسٹر راتھوڑ رمیش نے کامیابی حاصل کیا تھا ۔ علحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہونے کے بعد منعقد ہونے والے عام انتخابات میں کس پارٹی کا امیدوار کامیابی حاصل کرے گا یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کرے گا لیکن آندھراپردیش ریاست منقسم ہونے کے ساتھ ہی ضلع میں تلگودیشم کا صفایا سمجھا جارہا ہے ۔ بغیر فوج کی کمانڈنگ کرنے والے مسٹر راتھوڑ رمیش کے بارے میں بھی سیاسی بصیرت رکھنے والے افراد کا خیال ہے کہ موصوف کانگریس میں شمولیت کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ کانگریس کے اعلی قائدین سے گفت شنید کا سلسلہ جاری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT