Thursday , August 16 2018
Home / شہر کی خبریں / عام انتخابات 2019 کانگریس کے لیے ’ کرو یا مرو ‘ کے مماثل

عام انتخابات 2019 کانگریس کے لیے ’ کرو یا مرو ‘ کے مماثل

کامیاب ہونے والے امیدواروں کا انتخاب ، جنوری سے انتخابی تیاریوں کا آغاز
حیدرآباد ۔ 25 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی 2019 کے عام انتخابات کو ’ کرو یا مرو ‘ تصور کرتے ہوئے کامیاب ہونے والے امیدواروں کو ہی انتخابی مقابلے میں اتارنے کی حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔ مسلسل 3 مرتبہ شکست سے دوچار ہونے والے قائدین یا 2014 کے عام انتخابات میں 35 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست ہوجانے والے امیدواروں کو دوبارہ ٹکٹ نہ دیتے ہوئے ان کی جگہ نئے چہروں کو انتخابی میدان میں اتارنے کا جائزہ لے رہی ہے ۔ راہول گاندھی نے پارٹی صدارت قبول کرنے کے بعد پارٹی کو تنظیمی سطح پر مستحکم کرنے کے ساتھ ہر ریاست میں کانگریس کی کامیابی کے لیے طاقتور امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارنے کے خدوخال تیار کئے ہیں ۔ تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی ہائی کمان سے تلنگانہ کانگریس کو چند احکامات وصول ہوچکے ہیں جس میں 2019 کے عام انتخابات کی تیاری جنوری 2018 سے شروع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ کانگریس ہائی کمان جنوبی ہند میں تلنگانہ اور کرناٹک پر خصوصی توجہ مرکوز کرچکی ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹکٹ اجرائی کے معاملے میں پہلے تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ریاست کے 119 اسمبلی اور 17 لوک سبھا حلقوں کے لیے ہر حلقہ سے تین امیدواروں کے نام کی پارٹی ہائی کمان سے سفارش کیا کرتی تھی کانگریس پارٹی ہائی کمان ، انچارج تلنگانہ کانگریس امور کے علاوہ پارٹی کے سینئیر قائدین سے تبادلہ خیال کرنے کے بعد امیدواروں کا قطعی اعلان کیا کرتی تھی ۔ راہول گاندھی کی صدارت قبول کرنے کے بعد پارٹی میں نئے اصول اپنائے جارہے ہیں ماضی میں قائدین کی سیناریٹی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹکٹ دیا جاتا تھا ۔ اس مرتبہ مسلسل تین مرتبہ شکست سے دوچار ہونے والے امیدواروں بالخصوص 2014 کے عام انتخابات میں 35 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست کھانے والے امیدواروں کو دوبارہ ٹکٹ دینے کے بجائے نئے امیدواروں کے بارے میں غور کرنے یا دعویداروں کے درمیان عوامی مقبولیت کا اندازہ کرنے کے لیے سروے رپورٹ کو ترجیح دینے پر غور کیا جارہا ہے ۔ ٹکٹ کے دعویدار تمام قائدین کو اپنے اپنے حلقوں میں سرگرم ہوجانے عوامی مسائل پر ردعمل کا اظہار کرنے گروپ بندی کا خاتمہ کرتے ہوئے پارٹی کے تمام قائدین کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہوجانے کے احکامات جاری کئے گئے ۔ ریاست میں کانگریس پارٹی کو تنظیمی سطح پر مستحکم بنانے کے لیے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کو بھی پارٹی کے تمام محاذی تنظیموں کو سرگرم کردینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ پنجاب میں اختیار کردہ پالیسی کو تلنگانہ میں کامیاب بنانے کے لیے ایس سی ، ایس ٹی طبقات کے لیے محفوظ 31 اسمبلی حلقوں پر کسی بھی حال میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے خصوصی مہم کا آغاز کردیا ہے ۔ ان حلقوں میں 1,15,630 پارٹی کارکنوں کو متحرک کرتے ہوئے گھر گھر پہونچنے اور عوام سے ملاقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور ان حلقوں میں پارٹی کارکن کا عوام سے ملاقات کا سلسلہ پارٹی کے لیے مثبت ردعمل ثابت ہورہا ہے ۔ نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دینے کے اشارے ملنے کے بعد پارٹی کے نوجوان قائدین میں کافی جوش و خروش پیدا ہوگیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT