Tuesday , January 23 2018
Home / سیاسیات / عام آدمی پارٹی کے دعوے پر رام داس کا اعتراض

عام آدمی پارٹی کے دعوے پر رام داس کا اعتراض

نئی دہلی ۔ یکم اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کی جانب سے نئی لوک پال کمیٹی کے تقرر کے چند دن بعد سابق سربراہ بحریہ رام داس نے اِس فیصلہ پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ اُن کی میعاد نومبر 2016 ء میں ختم ہوگی۔ رام داس 2004 ء کے ریمن میگاسیسے ایوارڈ یافتہ برائے امن ہیں، اُنھوں نے کہاکہ یہ حیرت انگیز، مضحکہ خیز اور حیران کن ہے کہ عام آ

نئی دہلی ۔ یکم اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی کی جانب سے نئی لوک پال کمیٹی کے تقرر کے چند دن بعد سابق سربراہ بحریہ رام داس نے اِس فیصلہ پر اعتراض کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ اُن کی میعاد نومبر 2016 ء میں ختم ہوگی۔ رام داس 2004 ء کے ریمن میگاسیسے ایوارڈ یافتہ برائے امن ہیں، اُنھوں نے کہاکہ یہ حیرت انگیز، مضحکہ خیز اور حیران کن ہے کہ عام آدمی پارٹی نے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے اعتراض کیاکہ اُنھیں پارٹی کے داخلی لوک پال کی حیثیت سے اسمبلی انتخابات کے دوران کام کرنے کی اجازت کیسے دی گئی جبکہ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اُن کی میعاد پہلے ہی ختم ہوچکی تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ ایسا کوئی اشارہ دیا جاتا کہ میری میعاد ختم ہوچکی ہے تو ممکن ہے کہ میں اِن تمام ذمہ داریوں کی تکمیل نہ کرتا جو اب غیرقانونی اور ناقابل عمل قرار دی جارہی ہیں۔

رام داس نے پارٹی کے معتمد عمومی پنکج گپتا کے نام ایک ای میل میں اُن تحقیقات کا حوالہ دیا جو مختلف شکایتوں کے بارے میں کی گئی تھیں۔ اِس کارروائی میں اروند کجریوال اور قومی عاملہ کے دیگر ارکان پر جرح بھی شامل تھی۔ اُنھوں نے کہاکہ پارٹی نے کہاکہ اُن سے مشورہ کیا ہے اور تمام سوالات 25 مارچ کے اواخر تک روانہ کی جاچکی ہیں۔ صرف 4 دن بعد اُنھیں عہدہ سے برطرف کردیا گیا۔ اُنھوں نے یاد دہانی کی کہ جنوری 2015 ء میں پارٹی کے قومی سکریٹری کی حیثیت سے اُنھوں نے 12 ودھان سبھا امیدواروں کے بارے میں شکایات اُنھیں روانہ کی تھیں۔ معتمد عمومی نے لوک پال کی حیثیت سے اُنھیں اِن شکایات کی تحقیقات کی ہدایت دی تھی اور اُنھوں نے اِس بارے میں رپورٹس بھی اُنھیں اور دیگر متعلقہ افراد کو اِن امیدواروں کے بارے میں بروقت پیش کی تھی تاکہ 21 جنوری 2015 ء کو اُن کے پرچہ جات نامزدگی داخل کئے جانے والے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ تحقیقات کرتے وقت اُنھوں نے شخصی طور پر منیش سیسوڈیہ، اشیش ہیتان، آنند کمار، گوپال رائے کے علاوہ شکایت کنندہ پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو اور اروند کجریوال تمام قومی عاملہ کے ارکان کے بارے میں تحقیقات کی تھیں۔ رام داس نے اُن کی جانب سے جن شکایات کی تحقیقات کی گئیں تھیں اُن کی قانونی حیثیت پر بھی اعتراض کیا۔ یہ تمام افراد یوپی اور ہریانہ سے لوک سبھا کے امیدوار تھے اور عام انتخابات کے لئے مقابلہ کرنا چاہتے تھے جو مارچ اور اپریل 2014 ء میں منعقد کئے گئے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ بحیثیت لوک پال اُن کی میعاد پارٹی کے دستور کے مطابق جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT