Sunday , September 23 2018
Home / جرائم و حادثات / عام شہری کیلئے بندوق کا لائسنس حاصل کرنا مشکل

عام شہری کیلئے بندوق کا لائسنس حاصل کرنا مشکل

حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : ملک میں عوام خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر کیوں دیسی ساختہ غیر قانونی اسلحہ کی فروخت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ؟

حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : ملک میں عوام خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں ؟ اگر نہیں تو پھر کیوں دیسی ساختہ غیر قانونی اسلحہ کی فروخت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ؟ ایک غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق ہندوستان بھر میں 60 لاکھ سے زائد غیر قانونی اسلحہ موجود ہے جس کو ایسے لوگ استعمال کرتے ہیں جو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا پھر عدم تحفظ کا شکار بنے ہوئے ہیں جب کبھی بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں تو اس کے فوری بعد اسلحہ سازوں کی بن آتی ہے اور دیسی ساختہ پستول اور دیگر اسلحہ فروخت ہونے لگتا ہے ۔ ملک میں اترپردیش اور بہار ایسی ریاستیں ہیں جہاں سے ملک بھر میں اسلحہ اسمگل کیا جاتا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات کے بعد پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے احساس میں مبتلا لوگ بھی اس اسلحہ کی خریدی میں ملوث ہوجاتے ہیں چونکہ انہیں بآسانی لائسنس والے ہتھیار حاصل کرنا انتہائی دشوار کن ہوتا ہے ۔ غیر قانونی ہتھیار گجرات اور مظفر نگر جیسے فسادات میں بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور یہ ہتھیار دہشت گردوں کو بھی بآسانی دستیاب ہوجاتے ہیں ۔ اسی طرح سرحد پار دہشت گردی میں ملوث دہشت گرد چینی ساختہ غیر قانونی مگر عصری ہتھیار استعمال کرنے لگے ہیں لیکن اس طرح کی سرگرمیوں کو روکنا بے انتہا ضروری ہے چونکہ چھوٹے ہتھیار خواہ کم نقصان پہنچانے والے تصور کئے جاتے ہیں لیکن ان چھوٹے ہتھیاروں سے جتنی زندگیاں تباہ ہوتی ہیں وہ ایٹم بم کے قریب پہنچ چکی ہیں ۔ ریاست آندھرا پردیش و تلنگانہ میں لائسنس والے ہتھیار کا حصول انتہائی دشوار رکن ہے اور پولیس کی جانب سے مکمل تحقیق اور ضرورت کا جائزہ لینے کے بعد ہی لائسنس دئیے جانے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ زمینات کے کاروبار میں ملوث افراد اور فوجداری مقدمات کا سامنا کرنے والے بھی ہتھیار بند ہوتے ہیں ۔ حیدرآباد میں روڈی شیٹرس اور ڈکیت غیر قانونی اسلحہ کی خریدی میں مبینہ طور پر ملوث ہیں اور اسے فروغ دے رہے ہیں ۔ شدت پسندوں کے پاس جو ہتھیار پہنچ رہے ہیں ان کی فیکٹری ریاست بہار اور اترپردیش بنی ہوئی ہیں ۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ عدم تحفظ کا شکار نوجوان ان غیر قانونی ہتھیاروں کو اپنے تحفظ کا ذریعہ تصور کرنے لگتے ہیں ۔ ڈاکٹر بالا کرشنا کوروے انڈین انسٹی ٹیوٹ فار پیس ڈسارمیمنٹ اینڈ انوائرئنمنٹ پروٹیکشن کے بموجب غیر قانونی ہتھیاروں کو نہ صرف عدم تحفظ کا شکار افراد کے بلکہ دہشت گرد بھی استعمال کرنے لگے ہیں ۔ ریاست میں حالیہ دنوں میں پیش آئے دو مشتبہ سیمی کارکنوں کی جانب سے بھی غیر قانونی اسلحہ استعمال کرنے کی اطلاعات ہیں ۔ ملک میں بسنے والے تمام شہریوں میں تحفظ و اعتماد پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے اور جب عوام میں یہ اعتماد پیدا ہوجائے تو غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جاسکتی ہے ۔ حکومتوں کو چاہئے کہ وہ فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے والوں کے علاوہ ایسے غنڈہ عناصر پر کنٹرول کرے جو آتشی اسلحہ کے استعمال کے ذریعہ عوام پر ظلم و زبردستی کرتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT