Tuesday , September 25 2018
Home / اداریہ / عآپ ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات

عآپ ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات

دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات کی فہرست جاری کردی گئی ہے ۔ پارٹی کے 21 ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات درج ہیں ۔ ان ارکان اسمبلی میں خود چیف منسٹر اروند کجریوال ‘ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا اور اسپیکر اسمبلی رام نواس گوئل بھی شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے جس طرح سے سیاست کو پاک صاف اور مجرمانہ ریکارڈ سے پاک بنانے

دہلی میں عام آدمی پارٹی کے ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات کی فہرست جاری کردی گئی ہے ۔ پارٹی کے 21 ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات درج ہیں ۔ ان ارکان اسمبلی میں خود چیف منسٹر اروند کجریوال ‘ ڈپٹی چیف منسٹر منیش سیسوڈیا اور اسپیکر اسمبلی رام نواس گوئل بھی شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی نے جس طرح سے سیاست کو پاک صاف اور مجرمانہ ریکارڈ سے پاک بنانے اور کرپشن سے چھٹکارہ دلانے کا نعرہ دیتے ہوئے دہلی کے عوام کی تائید و حمایت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی اس کو دیکھتے ہوئے ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات حیرت کا باعث ہیں۔ اس سلسلہ میں خود اروند کجریوال کو پہل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ارکان اسمبلی کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزیاں ویسے تو ہندوستان کی تقریبا ہر ریاست میں عام بات ہے لیکن عام آدمی پارٹی سے ملک اور خاص طور پر دہلی کے عوام کو اس طرح کی خلاف ورزیوں کی امید نہیں تھی ۔ عام آدمی پارٹی کا نام آتے ہی عوام کے ذہنوں میں پاک صاف امیج رکھنے والے سیاست دانوں کا شبیہہ ابھرتی ہے ۔ ایسے میں اگر ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات ہوں اور انہیں التوا میں رکھا جائے تو اس سے پارٹی کی امیج خراب ہوسکتی ہے ۔ پارٹی کو پہلے ہی کئی مسائل کا سامنا ہے ۔ پارٹی کے باغی قائدین پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو نے پارٹی میں داخلی جمہوریت کے فقدان کا الزام عائد کرتے ہوئے دوری اختیار کرلی ہے ۔ اسی طرح پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر کمار وشواس کے خلاف ایک خاتون کے الزامات ہیں ۔اب پارٹی کے سابق وزیر سومناتھ بھارتی کے خلاف ان کی اہلیہ نے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے گھریلو تشدد کا الزام عائد کیا ہے ۔ ان تمام واقعات سے پارٹی کی امیج بگڑنی شروع ہوئی ہے اور اب ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمات کی فہرست سامنے آگئی ہے ۔ بعض ارکان اسمبلی کے خلاف جو مقدمات ہیں وہ سنگین نوعیت کے ہیں۔ چیف منسٹر کے خلاف جو مقدمات ہیں وہ سیاسی نوعیت کے اور عوامی جدوجہد کے دوران درج کئے گئے ہیں لیکن دوسرے سنگین مقدمات ایسے ہیں جن پر نہ صرف عام آدمی پارٹی اور پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کو بلکہ حکومت دہلی کو بھی تفصیلی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے ۔

دہلی پولیس نے مقدمات کی فہرست جاری کرتے ہوئے یہ واضح کردیا ہے کہ دہلی میں اقتدار رکھنے کے باوجود اس پارٹی کے ارکان اسمبلی کو مقدمات سے بچنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی ۔ عام آدمی پارٹی اس کو بی جے پی پر تنقید کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرسکتی ہے لیکن اگر مقدمات کے سلسلہ میں چند ارکان اسمبلی کو گرفتار کیا جاتا ہے ‘ جس کا دہلی پولیس نے اشارہ بھی دیدیا ہے ‘ تو پھر پارٹی کیلئے اپنی امیج کو پاک صاف بنائے رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ اروند کجریوال نے ملک کے عوام میں پاک صاف سیاست کی ایک امید پیدا کی تھی ۔ کرپشن کے خلاف انہوں نے جو جدوجہد کی تھی اس کو دیکھتے ہوئے دہلی کے عوام نے ان کی زبردست تائید کرتے ہوئے بی جے پی اور کانگریس کو چاروں شانے چت کردیا تھا ۔ دہلی اسمبلی کی تاریخ میں اتنی شاندار کامیابی کسی اور جماعت نے نہیں حاصل کی تھی جتنی عام آدمی پارٹی کو حاصل ہوئی ہے ۔ عوام کی اس زبردست تائید کو دیکھتے ہوئے اب اروند کجریوال کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی پارٹی کی صفوں میں بھی بہتری لانے پر توجہ دیں۔ جہاں وہ دہلی میں انتظامیہ کو بہتر بنانے اور کرپشن کو ختم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں اسی طرح انہیں اپنی پارٹی کی صفوں کو بہتر بنانے اور خود اپنی پارٹی کے ارکان اسمبلی اور نچلی سطح کے کیڈر میں بھی اصول و ضوابط کو پروان چڑھانے اور اقدار پر مبنی سیاست کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر کجریوا ل ایسا کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو اس سے پارٹی اور خود ان کی امیج متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پائیگی ۔

اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اگر فی الحال اس مسئلہ پر فوری کوئی کارروائی نہیں کی گئی تو آئندہ وقتوں میں بھی ارکان اسمبلی قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہوتے رہیں گے اور دہلی کے عوام نے پارٹی اور پارٹی کے ارکان اسمبلی سے جو توقعات وابستہ کی تھیں وہ ختم ہوجائیں گی اور یہ نقصان نہ صرف عام آدمی پارٹی کا نقصان ہوگا بلکہ ملک کے ان تمام عوام کا شدید نقصان ہوگا جنہوں نے ملک میں پاک صاف سیاست کو یقینی بنانے کی سمت کوشش کی تھی ۔ علاوہ ازیں یہ تاثر اور بھی مستحکم ہوجائیگا کہ ملک میں مجرمانہ ریکارڈ کے حامل اور بدعنوان سیاست دانوں نے ہر پارٹی کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے اور عام آدمی پارٹی کو بھی اس سے استثنی حاصل نہیں ہے ۔ اروند کجریوال کیلئے ضروری ہے کہ وہ وقت ان کے ہاتھ سے نکل جانے اور بہت زیادہ تاخیر ہوجانے سے قبل حرکت میں آئیں اور عوام کی توقعات کو برقرار رکھنے کی سعی کریں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT