Wednesday , September 26 2018
Home / سیاسیات / عاپ نے بی جے پی کو دہلی انتخابات میں ’کچرا‘ بنادیا

عاپ نے بی جے پی کو دہلی انتخابات میں ’کچرا‘ بنادیا

ممبئی ۔ 11 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی انتخابی نتائج میں تحقیر کے زخموں پر آج شیوسینا نے نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ جھاڑو اٹھائی ہوئی عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو ’’کچرے‘‘ میں تبدیل کردیا اور عملی اعتبار سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اس کی ذمہ داری قبول کریں۔ لوک سبھا انتخابات میں شاندار اکثریت حاصل کرنے والی بی جے پی جھاڑو لہ

ممبئی ۔ 11 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) دہلی انتخابی نتائج میں تحقیر کے زخموں پر آج شیوسینا نے نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ جھاڑو اٹھائی ہوئی عام آدمی پارٹی نے بی جے پی کو ’’کچرے‘‘ میں تبدیل کردیا اور عملی اعتبار سے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم نریندر مودی اس کی ذمہ داری قبول کریں۔ لوک سبھا انتخابات میں شاندار اکثریت حاصل کرنے والی بی جے پی جھاڑو لہرانے والی عام آدمی پارٹی کے ہاتھوں کچرے میں تبدیل ہوکر رہ گئی ہے۔ بی جے پی قائدین کو اب اپنی کامیابی والی نشستوں کو شمار کرنے کیلئے انگلیوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ کرن بیدی پر ناکامی کی ذمہ داری رکھنا ناانصافی ہے۔ پارٹی کے ترجمان ’’سامنا‘‘ طنزیہ اداریہ میں کہا گیا ہیکہ بی جے پی ناکامی کیلئے مودی کو ذمہ دار قرار دینے کے مطالبہ پر کان دھرنا نہیں چاہتی۔

پارٹی کو واضح کرنا چاہئے کہ اس کا ذمہ دار کون ہے۔ پوری انتخابی مہم مودی کے نام پر چلائی گئی۔ انا ہزارے کہہ چکے ہیں کہ یہ مودی کی شکست ہے۔ ہمارا بھی یہی احساس ہے جس انداز میں پارٹی نے دیگر ریاستوں میں کامیابی کا سہرا مودی کے سر باندھا ہے، اسی طرح دہلی میں بھی انہیں یہی کرنا چاہئے۔ شیوسینا نے کہا کہ بی جے پی ثابت قدمی سے شکست پر تنقید کے خلاف مودی کا دفاع کررہی ہے جس کا کہنا ہیکہ دہلی اسمبلی انتخابات ان کے بارے میں استصواب عامہ نہیں تھے۔ منفی انتخابی مہم کیلئے بی جے پی قائدین بشمول مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ مودی کے ساتھ تمام بی جے پی قائدین راہول گاندھی اور اروند کجریوال کی تقریروں کو مذاق کا نشانہ بنا چکے تھے۔ آخرکار بی جے پی کو منفی انتخابی مہم کا نتیجہ بھگتنا پڑا۔ اداریہ میں کہا گیا ہیکہ کیا دہلی کے انتخابی نتائج ایک نئے سیاسی دور کا آغاز ہے۔ عوام نے بی جے پی کو کیوں چھوڑ دیا؟ بیروزگاری کی شرح کم نہیں ہوئی۔ افراط زر برقرار ہے۔ بے گھروں کو گھر نہیں ملے۔ انتخابی وعدوں کی تکمیل نہیں کی گئی۔ انتخابات صرف تقریروں اور انتخابی وعدوں کے ذریعہ نہیں کھیچے جاسکتے۔ ان انتخابات نے پارٹی کے اندر بے چینی کو منظرعام پر لایا ہے۔

امیت شاہ عوام پر اپنا جادو نہیں چلا سکے اور مودی جو ان کا آخری ہتھیار تھے، نتائج فراہم کرنے سے قاصر رہے۔ کل ادھو ٹھاکرے نے عام آدمی پارٹی کی کامیابی کو ’’سونامی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ’’مودی لہر‘‘ سے زیادہ طاقتور ثابت ہوئی جس پر برہم بی جے پی کارکنوں نے احتجاج کیا تھا۔ صدر ممبئی بی جے پی اشیش شیلر نے کہا تھا کہ شیوسینا کو مودی کو نشانہ بنانے سے پہلے مخلوط حکومت سے علحدہ ہوجانا چاہئے۔ ہندوتوا کی حامی دو پارٹیوں میں تکرار سے ان کے تعلقات میں پوشیدہ بے چینی منظرعام پر آگئی ہے۔ پہلے بی جے پی کی مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات سے پہلے نشستوں کی تقسیم کے مسئلہ پر شیوسینا سے تعلقات منقطع کرلئے تھے اور علحدہ طور پر مقابلہ کیا تھا۔ مختصر وقفہ کیلئے شیوسینا اسمبلی میں اپوزیشن جگہ پر بیٹھی تھی لیکن شیوسینا مخلوط حکومت کے درمیان میں ہی علحدہ ہونا نہیں چاہتی۔ دونوں کے تعلقات میں دراڑیں ضرور پیدا ہوگئی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT