Monday , September 24 2018
Home / سیاسیات / عاپ پارلیمانی پارٹی قائد کے عہدہ سے دھرمیندر گاندھی کی علیحدگی

عاپ پارلیمانی پارٹی قائد کے عہدہ سے دھرمیندر گاندھی کی علیحدگی

نئی دہلی 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے آج خارج شدہ قائدین پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو پر قومی تادیبی کمیٹی پر تنقیدوں کے سلسلہ میں جوابی وار کرتے ہوئے کہاکہ ناراض قائدین قواعد و ضوابط اور دستوری اداروں کا کوئی احترام نہیں کرتے۔ پارٹی نے ناراض قائدین کی برطرفی کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ یہ تمام قائدین ایسی کارر

نئی دہلی 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) عام آدمی پارٹی نے آج خارج شدہ قائدین پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو پر قومی تادیبی کمیٹی پر تنقیدوں کے سلسلہ میں جوابی وار کرتے ہوئے کہاکہ ناراض قائدین قواعد و ضوابط اور دستوری اداروں کا کوئی احترام نہیں کرتے۔ پارٹی نے ناراض قائدین کی برطرفی کے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ یہ تمام قائدین ایسی کارروائیوں میں ملوث تھے جو پارٹی کے لئے نقصان دہ تھیں۔ عام آدمی پارٹی کے قومی سکریٹری پنکج گپتا نے کہاکہ یوگیندر یادو، پرشانت بھوشن اور آنند کمار کے جوابات کا تجزیہ کیا گیا اور قومی تادیبی کمیٹی نے اِس کا جائزہ لیا۔ اُس کے بعد ہی پارٹی نے انھیں برطرف کیا ہے۔ پارٹی نے سابق صحافی اشیش کھیتان کو اِس بنیاد پر برطرف کیاکہ پرشانت بھوشن نے اُن پر الزام عائد کیا تھا کہ ایک خانگی کمپنی سے استفادہ کی من گھڑت کہانی شائع کی تھی۔ گپتا نے کہاکہ ہم نے اُنھیں نوٹس کی جوابدہی کے لئے دو دن کی مہلت دی تھی۔ تمام افراد کے جواب حاصل ہوگئے سوائے آنند جھا کے۔ اِن تمام جوابات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ پتہ چلا کہ شکایات، شہادتیں پارٹی مخالف اور پارٹی کے لئے نقصان دہ کارروائیوں کا ثبوت تھیں۔

یہی وجہ ہے کہ اُن کو پارٹی سے خارج کردیا گیا۔ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو نے گپتا اور کھیتان کی تادیبی کمیٹی میں موجودگی پر اعتراض کرتے ہوئے کہاکہ دونوں نے باغیوں قائدین پر تنقیدیں کی تھیں اور شکایت کرنے والوں کو جج نہیں بنایا جاسکتا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا باغی قائدین کی برطرفی کا اقدام منصوبہ بند تھا، گپتا نے کہاکہ اگر یوگیندر یادو اِس بات کے قائل نہیں ہیں کہ اُن کی علیحدگی کا اقدام اور پرشانت بھوشن کا اخراج ثالثی کا نتیجہ نہیں تھا تو اُنھیں ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہونا چاہئے تھا۔ کھیتان کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے آشوتوش نے کہاکہ دونوں قائدین نے قواعد و ضوابط اور اداروں کی بات کہی ہے لیکن اِن میں سے کوئی بھی اِن کا احترام نہیں کرتا۔ اُنھوں نے ہر ادارہ کی توہین کی ہے جو عام آدمی پارٹی سے تعلق رکھتا تھا۔ اُنھوں نے سیاسی اُمور کمیٹی، قومی عاملہ کی اہانت کی ہے اور اب وہ تادیبی کمیٹی کی اِس کے ارکان کے ساتھ اہانت کررہے ہیں۔ دریں اثناء ناراض قائدین کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھتے ہوئے عام آدمی پارٹی نے آج دھرمیندر گاندھی کو پارلیمانی پارٹی قائد کے عہدہ سے برطرف کرد

یا اور اُن کی جگہ کجریوال کے وفادار بھگونت مان کو مقرر کیا گیا۔ چند گھنٹے قبل ہی پرشانت بھوشن، یوگیندر یادو، آنند کمار اور اجیت جھا کو رات دیر گئے پارٹی سے خارج کیا گیا تھا۔ دھرمیندر گاندھی نے پرینیت کور (پٹیالہ) کا گزشتہ سال لوک سبھا انتخابات میں مقابلہ کیا تھا اور پارٹی قیادت پر سخت تنقید کررہے تھے۔ پرشانت بھوشن اور یوگیندر یادو کے پارٹی کے اخراج کا طریقہ اُن کی تنقید کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ اُنھوں نے 14 اپریل کو پیغام روانہ کیا تھا اور باغیوں کے زیراہتمام منعقدہ کیمپ میں شرکت کی تھی۔ ممبئی سے موصولہ اطلاع کے بموجب عام آدمی پارٹی کی مہاراشٹرا شاخ کے صدر سبھاش وارے نے آج 4 باغی قائدین کے پارٹی سے اخراج کو ’’بدبختانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسی صورتحال سے گریز کیا جانا چاہئے تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ 4 قائدین کا پارٹی سے اخراج کا فیصلہ بدبختانہ ہے۔ دونوں گروپس کو چاہئے تھا کہ وہ ایسی صورتحال پیدا ہونے ہی نہ دیتے جس کی وجہ سے پارٹی میں داخلی بحران پیدا ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT