Monday , November 20 2017
Home / ہندوستان / عبادت گاہوں سے لاؤڈاسپیکرس کے استعمال پر امتناع کا مطالبہ

عبادت گاہوں سے لاؤڈاسپیکرس کے استعمال پر امتناع کا مطالبہ

مساجد سے اذانوں کی گونج پر اعتراض ، سونونگم کے اشتعال انگیز ٹوئیٹس
ممبئی ۔ 17 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) گلوکار سونونگم نے مندروں اور گردواروں میں اشلوک کے جاپ اور مسجدوں سے اذانوں کیلئے لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کو غنڈہ گردی قرار دیا ہے۔ سونونگم نے ایک ٹوئیٹر پوسٹ میں لکھا کہ ’’غنڈہ گردی ہے بس!‘‘ ۔ 43 سالہ گلوکار نے کہاکہ وہ نہیں سمجھتے کہ عبادت گاہیں لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کے ذریعہ لوگوں کو جگائیں۔ اور مطالبہ کیا کہ اس جبری مذہب پرستی‘‘ کو ختم کیا جائے ۔ نگم نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’خدا ہر کسی پر کرم کرے ۔ میں مسلم نہیں ہوں لیکن صبح کی اذان پر مجھے بھی بیدار ہونا پڑتا ہے ۔ ہندوستان میں یہ جبری مذہب پرستی آخر کب ختم ہوگی ‘‘ ۔ سونونگم نے دوسرے ٹوئیٹ میں لکھا کہ ’’اور ویسے بھی اُس زمانہ میں برقی نہیں تھی جب ( حضرت ) محمد ( صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم ) ، اسلام لائے تھے ۔ (لیکن ) ایڈیسن ( برقی کے موجد) کے بعد مجھ پر یہ شور شرابہ کیوں ہو‘‘۔ سونونگم نے مزید لکھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ’’مندروں اور گردواروں میں ان لوگوں کو جگانے کیلئے کوئی برقی استعمال نہیں کی جاتی جو ان کے مذہب کی پیروی نہیں کرتے ۔ تو پھر یہ کیوں … ؟ دیانتداری ؟ سچ ؟ ‘‘ ۔ فلمساز ویویک اگنی ہوتری نے سونونگم کی تائید میں ٹوئیٹ پر لکھا کہ ’’لاؤڈ اسپیکرس پر مختلف مذاہب کے کلمات اور اذانوں کی غیرقانونی گونج کے خلاف ایک مہم اسپانسر کرنے کیلئے میں تیار ہوں‘ ۔ ’’علیگڈھ راز ‘‘ اپوروا اسرانی نے ٹوئٹر پر پوسٹ کردہ پیغام میں لکھا کہ ’’طلوع پر اذاں سننا نہیں چاہتی ۔ نہ ہی غروب کے وقت چکنی چنبیلی کی دھن پر گنیش آرتی سننا چاہتی ہوں۔ تمام مذاہب کے لاؤڈ اسپیکروں پر امتناع عائد کیا جائے ‘‘۔

TOPPOPULARRECENT