Thursday , November 23 2017
Home / مضامین / عبدالکلام کیلئے تعزیتی محفل

عبدالکلام کیلئے تعزیتی محفل

کے این واصف
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز اسوسی ایشن ریاض (اموبا) نے ایک تعزیتی محفل کا اہتمام کیا جس میں سابق صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام کوبھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس تعزیتی محفل کے نگران سابق صدر اموبا محمد ضیغم خاں تھے ۔ محفل کا آغاز قاری ارشد احمد خاں کی قرات کلام پاک سیہوا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر عبدالاحد چودھری نے انجام دیئے ۔ سید محمد مطیب نے عبدالکلام کی شخصیت پرایک تفصیلی مضمون پیش کیا۔ عبدالکلام کے اقوال (QUOTES) ملک میں بیحد مقبول ہیں۔ ان کے اقوال اکثر مقررین اپنی تقاریر میں استعمال کرتے ہیں۔ ارشد احمد خاں نے عبدالکلام کے چند معروف Quotes محفل پیش کئے۔

صدر اموبا انجنیئر سہیل احمد نے اس موقع پر مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ عظیم انسان، سادگی کے  پیکر ، بلند مقام سائنسداں و سابق صدر جمہوریہ ہند اے پی جے عبدالکلام کے سانحہ ارتحال پر ہندوستان بھر اور دنیا کے کئی ممالک میں سوگ منایا جارہا ہے ۔ اموبا ریاض بھی دنیا کے ان سوگواروں میں شامل ہیں۔ عبدالکلام کا اس جہاں سے کوچ کر جانا صرف ہندوستان کا نہیں بلکہ سارے انسانی سماج کیلئے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ سہیل نے کہا کہ عبدالکلام نے ساری زندگی خدمت خلق میں گزاری ، کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی۔ اللہ رب العزت انہیں عالم بالا میں ابدی راحت و سکون عطا فرمائے ۔ انہوں نے کہا کہ عبدالکلام ہمیشہ نئی نسل کے تیئں متفکر رہتے تھے ۔ اپنے خطاب ، اپنے اقوال اور اپنے عالمانہ لکچرز سے نوجوان کے ذہنوں کو منور کرتے تھے ۔ انہوں نے امید کی کہ ہماری نئی نسل میں کئی  ایک عبدالکلام پیدا ہوں۔ سہیل احمد نے کہا کہ ہم علیگڑھ کو اس بات پر فخر ہے کہ عبدالکلام نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کی پیش کردہ اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری قبول فرمائی تھی ۔ عبدالکلام اپنے لکچرز سے نوجوانوں کو متاثر کرتے ان کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ عبدالکلام نے ساری زندگی بڑے بڑے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں لکچرز دینے میں گزارا اور انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ کے ہال میں لکچر دینے کے دوران اچانک گر پڑے اور انتقال کر گئے۔ سہیل نے اپنی تقریر کا اختتام یوں کیا۔

بڑے شوق سے سن رہا تھا زمانہ
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
اس موقع پر ا ین آر آئیز فورم کے صدر سید اکرم محی الدین نے کہا کہ عبدالکلام ایک دیانتدار ، سادہ لو اور نیک اطوار انسان تھے۔ جب وہ عہدہ صدارت سے سبکدوش ہوکر دہلی قصر صدارت (راشٹرپتی بھون) سے نکلے تو ان کے ساتھ شخصی اثاثہ کے طور پر صرف ایک بیاگ تھا جسے لیکر وہ اپنے آبائی شہر چلے گئے ۔  ایسی نظیر شائد ہمیں کبھی پھر ملے۔ انہوں نے ایک اور مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک مرتبہ عبدالکلام کے دور صدارت میں ان کے کچھ قریبی رشتہ دار چند روز راشٹرپتی بھون میں بطور مہمان ٹھہرے تھے ۔ مہمانوں کے جانے کے بعد عبدالکلام نے اپنے مہمانوں کے ٹھہرنے ، کھانے ، پینے کے اخراجات کا حساب حاصل کیا اور اپنے شخصی بینک کھاتے سے اخراجات کا ایک چیک حکومت کے اکاؤنٹ میں جمع کروادیا۔ اس موقع پر انڈین نیشنل فورم کے صدر عبدالاحد صدیقی، جامعہ مل یہ اسلامیہ المنائی اسوسی ایشن کے صدر غزال مہدی اور یاہند ویب سائیٹ کے CEO سید  ضاء الرحمن نے بھی مخاطب کیا اور اے پی جے عبدالکلام کے علمی و سائنسی کارناموں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ عبدالکلام نے یہ صرف ایٹمی شعبہ میں بلکہ شعبہ طب میں بھی اہم کارنامے انجام دیئے ہیں۔ انہوں نے ماہر امراض قلب کے تعاون سے دل کے مریضوں کیلئے اسسٹنٹ (Stunt) تیار کیا اور حادثات وغیرہ میں چلنے پھرنے سے معذؤر ہوجانے والے افراد کیلئے کم قیمت آلات بنانے کا طریقہ کار تیار کر کے حیدرآباد دکن کے ’’نظام آرتھو پیڈک‘‘ اسپتال کو دیا ۔
آخر میں محمد ضیغم خاں نے اپنے صدارتی کلمات کے ساتھ محفل کو سمیٹا۔ بابر حسین نے سارے شرکاء محفل کا مختصر نوٹس پر بڑی تعداد میں جمع ہونے کا شکریہ ادا کیا۔
مذاکرہ
جامعیہ ملیہ اسلامیہ المنائی اسوسی ایشن (ریاض) کے زیر اہتمام ’’بانیان جامعہ کا طلبہ کے تئیں ہمہ جہت ترقی کے نظریہ‘‘ پر ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے علحدہ ہوکر 1920 ء میں عمل میں آیا۔ 94 سال کا سفر طئے کرنے کے بعد یہ شائستہ شروعات آج ایک معروف اور ممتاز مرکزی یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی ہے ۔

مگر سوال یہ ہے کہ اس تبدیلی اور سفر کے دوران کیا ہم نے بانیان جامعہ کے اقدار پر مبنی تعلیم اور طلبہ کی ہمہ جہت ترقی کے نظریہ کے ساتھ کہیں کوئی سمجھوتہ تو نہیں کر ڈالا ؟ عید ملن پروگرام کے موقع پر جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی اسوسی ایشن (ریاض) کے اراکین نے خوشگوار ماحول میں اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس مذاکرہ کے پیانل میں اسوسی ایشن کے صدر غزال مہدی ، سینئر جامعی ڈاکٹر شفاعت اللہ ، سلمان اعظمی ، غفران احمد ، اسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری ظفر باری، سابق نائب صدر لئیق اعظمی اور صحافی راشد حسن شامل تھے۔ مذاکرہ کی نظامت غزال مہدی نے کی ۔ موضوع کا تعارف کراتے ہوئے غزال مہدی نے کہا کہ جامعہ کا قیام چونکہ ہندوستان کی جنگ آزادی کی دین ہے اور یہ ادارہ ہندوستان کے دیگر تعلیمی اداروں سے مختلف ہے ، اس لئے بانیان جامعہ نے آزادی ، یکجہتی ، برابری ، ہمدردی اور ایثار و قربانی جیسی اقدار کو فروغ دینا اور ان کو طلبہ کے کردار میں پیوست کرنا اپنا نصب العین قرار دیا تھا ۔ جامعہ ہندوستان کا پہلا ادارہ تھا جس نے اپنے قیام سے ہی ذریعہ تعلیم کیلئے سہ لسانی فارمولہ کو نافذ کیا ۔ ابتدائی تعلیم مادری زبان (اردو) میں دی جاتی تھی اور قومی و بین الاقوامی رابطے کیلئے ہندی اور انگریزی پڑھائی جاتی تھی ۔ بانیان جامعہ کا مقصد تھا کہ وہ جامعہ کے طلبہ کو سماج کے تئیں بیدار ، سمجھدار اور ذمہ دار شہری بنائیں۔

اسی کے پیش نظر جا معہ نے اپنی سماجی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے طلبہ کو قرب و جوار کی بستیوں میں رہنے والوں کی فلاح و بہبود کے کام میں شامل کیا اور تعلیم کو ایک وسیع مفہوم دیا۔ علاوہ ازیں وطن عزیز کی تقسیم کے دوران اور بعد میں فسادات سے متاثرین کی بازآبادکاری میں شرکت کی ، نیز فسادات سے متاثرہ بچوں کی تعلیمی کفالت بھی کی۔ غزال مہدی نے تجویز پیش کی کہ طلبہ میں جامعہ کے حقیقی نصب العین کے تئیں بیداری پیدا کرنے کیلئے ایک ایسا مختصر نصاب مرتب کیا جائے جو جامعہ کی تاریخ ، ثقافت اور بانیان جامعہ کی اقدار کا احاطہ کرے اور اس نصاب کو جامعہ میں ہر تعلیمی سطح پر لازمی قرار دیا جائے ۔ نیز تدریسی اور غیر تدریسی عملہ کیلئے بھی یہ نصاب پڑھنا اس کی اخلاقی  ذمہ داری کا ایک حصہ ہو۔
ظفر باری نے کہا کہ تعلیم کے حصول کا مقصد طلبہ میں ثقافتی اور تہذیبی تبدیلی لانا ہے ۔ تعلیم سے طلبہ میں معلومات ، مہارت اوران کے برتاؤ میں مناسب تبدیلی آنی چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ میں ابتدائی تعلیم حاصل کئے بغیر جامعہ کی تہذیب و کلچر کو پوری طرح اپنانے کا موقع طلبہ کو نہیں ملتا، اس لئے انہیں کلچرل اور لٹریری سوسائٹوں اور پرسنالٹی ڈیولپمنٹ (شخصیت سازی) کی ورکشاپوں اور پروگراموں میں پوری توانائی کے ساتھ شرکت کرنی چاہئے ۔ جامعہ کے جلسوں اور پروگراموں میں اساتذہ اور دیگر منتظمین کو چاہئے کہ بانیان جامعہ کی پیش کردہ اقدار ، جامعہ کی تاریخ اور تہذیب کو طلبہ کے سامنے پیش کریں۔

راشد حسن نے حاضرین کو بتایا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ہندوستان کا وہ منفرد ادارہ ہے جس نے اس وقت کے برطانوی تعلیمی نظام کے خلاف اپنے مرتب کئے ہوئے ویسی تعلیمی نظام کو نافذ کیا ۔ بانیان جامعہ کی اس روشن خیالی اور ترقی پسند شعور کو جامعہ المنائی کو آگے بڑ ھانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ جس خصوصی کردار کی حامل ہے ، اس سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ سماج کے پسماندہ طبقوں کی ہمہ جہت تعلیمی ترقی کے کام کرتی رہے گی۔ غفران احمد نے واضح کیا کہ جو طلبہ دوسرے اداروں سے ابتدائی تعلیم حاصل کر کے جامعہ آتے ہیں اور انجنیئرنگ و دیگر پیشہ ورانہ کورس کرتے ہیں، وہ جامعہ کے اقدار اور ثقافت کی طرف توجہ نہیں دے پاتے اور اس تاریخی ورثہ سے محروم رہتے ہیں جبکہ جامعہ اسکول سے تعلیم یافتہ طلبہ ان سے مختلف ہوتے ہیں۔
سلمان اعظمی جنہوں نے 1970 ء میں جامعہ اسکول میں تعلیم حاصل کی تھی ، ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ طالب علم کی مکمل کردار سازی پر توجہ ہونی چاہئے ۔ طلبہ کیلئے ’’ایک دن کے مدرسے‘‘ کا اہتمام کیا جاتا تھا جس میں انہیں اپنی انتظامی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملتا تھا۔ ڈاکٹر شفاعت اللہ جو طالب علم اور اسٹاف ممبر کی حیثیت سے جامعہ سے کافی دنوں تک وابستہ رہے ، انہوں نے جامعہ کی اقدار ، پابندی وقت، حسن سلوک اور خوش لباسی پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی چیزیں انسان کو ایک اچھا فرد بناتی ہیں۔ انہوں نے ریاض میں مقیم اسوسی ایشن کے ممبران سیاپیل کی کہ وہ ای میل ، فون کالوں اور دوسرے پیغامات کا جواب ضرور دیا کریں۔

حاضرین میں شامل صباح ا لدین نے اس نظریہ کی حمایت کی کہ پیشہ ورانہ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اردو بھی پڑھائی جائے تاکہ ان کے تلفظ کو درست کیا جاسکے اور بانیان جامعہ کے اردو کو فروغ دینے کے نصب العین کو آگے بڑھایا جائے۔ ہارون قاسمی نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ جامعہ کے نام کے ساتھ اسلام کا لفظ جڑا ہوا ہے اس لئے ایمانداری ، دیانتداری ، عدل و انصاف جیسی اقدار کو بھی طلبہ میں فروغ دیا جائے۔
عنایت اللہ جن کا تعلق لداخ سے ہے اورانہوں نے حال ہی میں جامعہ سے تعلیم حاصل کی ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ جامعہ نے کس طرح ان کی زندگی کو تبدیل کردیا اور نظریات میں کس طرح وسعت پیدا کردی ۔اس موقع پر محمد رہبر شبیر ندوی اور علی محتشم نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی اسوسی ایشن ریاض کے خزانچی عبدالرحمن کی تلاوت پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔ شاعری کا شوق رکھنے والے ارکان نے اشعار بھی سنائے ۔ ان میں ہارون قاسمی ، عبدالرحمن ، شبیر ندوی ، جاوید اختر ، راشد حسن ، محمد نثار، صباح الدین ، اظہار حسین ، امداد عالم ، صبا عارف، محمد رہبر اور ذبیح اللہ شامل تھے ۔ غزال مہدی نے 26 جامعی برادران کا تعارف کرایا جو حال ہی میں ریاض پہنچے ہیں۔ محمد نجیب قاسمی نے بچوں کو عید کے تحفے پیش کئے ۔

TOPPOPULARRECENT