Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹیز کے واقعات افسوسناک : چیف منسٹر کے سی آر

عثمانیہ اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹیز کے واقعات افسوسناک : چیف منسٹر کے سی آر

اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج، وی سی ایچ سی یو و خاطی پولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی پر زور
حیدرآباد۔/26مارچ، ( سیاست نیوز) حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی میں طلباء پر پولیس لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے خلاف تلنگانہ اسمبلی میں اپوزیشن نے متحدہ طور پر احتجاج کیا۔ کانگریس، مجلس، تلگودیشم، سی پی آئی، سی پی ایم اور وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے دلت طلباء پر پولیس مظالم کی مذمت کرتے ہوئے خاطی عہدیداروں کے خلاف کارروائی اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن جماعتیں اس مسئلہ پر تحریک التواء کو قبول کرنے کی مانگ کررہی تھیں تاہم حکومت کے انکار پر ایوان میں کافی ہنگامہ آرائی اور شور و غل کے مناظر دیکھے گئے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے سبب تین مرتبہ ایوان کی کارروائی ملتوی کی گئی اور ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی کو صورتحال پر قابو پانے میں کافی دشواری ہورہی تھی۔اپوزیشن کے احتجاج کے سبب وقفہ سوالات نہیں چل سکا اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی مداخلت کے بعد وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے ان واقعات پر بیان دیا۔ صبح 10 بجے جیسے ہی کارروائی کا آغاز ہوا کانگریس اور دیگر اپوزیشن ارکان نے احتجاج شروع کردیا اور حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی میں پولیس مظالم پر مباحث کی مانگ کی۔ بی جے پی ارکان نے خود کو احتجاج سے دوررکھا۔ کانگریس کے ارکان سیاہ بیاچس اور سیاہ کھنڈوے پہن کر ایوان پہنچے تھے۔ کانگریس اور مجلس کے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے جس پر وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار ہے تاہم وقفہ سوالات کے بعد اس مسئلہ کو پیش کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں یونیورسٹیز کے واقعات پر حکومت جواب دے گی۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیز میں ماحول کشیدہ ہے اور دلتوں کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مجلس کے رکن احمد پاشاہ قادری نے کہا کہ طلباء کا مستقبل خطرہ میں ہے لہذا فوری مباحث ہونے چاہیئے۔ وقفہ سوالات کے آغاز پر ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرہ بازی کرنے لگے۔ ڈپٹی اسپیکر نے 10منٹ کیلئے کارروائی ملتوی کردی جب دوسری مرتبہ کارروائی شروع ہوئی تو صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں تھی۔ قائد اپوزیشن نے حکومت سے وضاحت طلب کی۔ کانگریس کے ارکان ایوان کے وسط میں نعرہ بازی کرنے لگے جس پر ڈپٹی اسپیکر نے صرف 5 منٹ میں ایوان کو دوسری مرتبہ ملتوی کردیا۔ تیسری مرتبہ جب کارروائی کا آغاز ہوا تو احتجاج کے دوران مختلف محکمہ جات کے مطالبات زر پیش کئے گئے۔ کانگریس نے حکومت کو مخالف دلت، مخالف طلباء اور پولیس ظلم روکنے میں ناکام حکومت جیسے نعرے لگائے۔ ڈپٹی اسپیکر نے کانگریس، مجلس، سی پی آئی، سی پی ایم، بی جے پی، تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کی تحریکات کو نامنظور کرنے کا اعلان کیا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں رکن اسمبلی سمپت کمار کی کار پر سنگباری کا واقعہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں طالب علم کی موت پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیزمیں پیش آئے واقعات افسوسناک ہیں اور تمام کو اس کی مذمت کرنی چاہیئے۔ رکن اسمبلی پر حملہ کے جو بھی ذمہ دار ہیں ان کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے کیونکہ جب رکن اسمبلی کو تحفظ حاصل نہیں تو پھر کسے حاصل ہوگا۔ انہوں نے وقفہ سوالات کے بعد وزارت داخلہ کے مطالبات زر پر مباحث کے دوران اس مسئلہ کو پیش کرنے کی صلاح دی۔ قائد اپوزیشن جانا ریڈی نے کہا کہ طلباء میں کافی بے چینی پائی جاتی ہے اور کئی طلباء جیل میں بند ہیں۔ بی جے پی کے ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ بعض افراد یعقوب میمن کے حامیوں کی طرح کام کررہے ہیں جس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے فوری ڈاکٹر لکشمن کے ان ریمارکس پر اعتراض جتایا اور کہا کہ اس طرح کے ریمارکس صورتحال کو مزید بگاڑ سکتے ہیں۔ اسی دوران مباحث کی عدم اجازت پر کانگریس کے ساتھ مجلس، تلگودیشم، سی پی آئی، سی پی ایم اور وائی ایس آر کانگریس کے ارکان احتجاج میں شامل ہوگئے اور اسپیکر کے پوڈیم کے پاس پہنچ کر نعرہ بازی کرنے لگے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ جس رکن اسمبلی کی کار پر حملہ کیا گیا انہوں نے آج تک پولیس میں شکایت درج نہیں کی ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کو مسئلہ کی سنگینی سے انکار نہیں لیکن ایوان کے وسط میں 10افراد کا پہنچ کر گڑبڑ کرنا کہاں تک درست ہے، ہم بھی ایوان کا حصہ ہیں اور تعداد کے اعتبار سے ہم بھی گڑبڑ کریں تو پھر کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی فائدہ کیلئے اس مسئلہ کو اٹھانا مناسب نہیں ہے۔ اسی دوران چیف منسٹر کے سی آر اور مجلسی فلور لیڈر اکبر اویسی کے درمیان لفظی تکرار ہوئی اور ایوان میں شوروغل اور ہنگامے میں اضافہ ہوگیا جس پر اسپیکر نے ایوان کو تیسری مرتبہ 10منٹ کیلئے ملتوی کیا لیکن اجلاس تقریباً دیڑھ گھنٹہ بعد شروع ہوا اور وزیر داخلہ نے دونوں یونیورسٹیز کے واقعات پر بیان دیا۔

TOPPOPULARRECENT