Saturday , December 15 2018

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں 90 فیصد طبی آلات فرسودہ

صفائی کے بھی ناقص انتظامات ، تاریخی ہاسپٹل میں رشوت کا چلن عام

صفائی کے بھی ناقص انتظامات ، تاریخی ہاسپٹل میں رشوت کا چلن عام
حیدرآباد ۔ 12 ۔ دسمبر : ( نمائندہ خصوصی ) : حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں نے اپنے دور حکمرانی میں بلا لحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل اور ذات پات مریضوں کے مفت علاج کے لیے دواخانہ عثمانیہ یا عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی تعمیر عمل میں لائی ۔ اس سے قبل افضل گنج میں نظام ہاسپٹل کام کررہا تھا لیکن 1908 کی طغیانی میں ان کے بہہ جانے کے بعد عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا ۔ اس طرح اپریل 1910 میں اس تاریخی ہاسپٹل کا قیام عمل میں آیا ۔ سٹی امپرومنٹ بورڈ مختلف مراحل میں شہر میں عمارات تعمیر کررہا تھا اور ممتاز آرکیٹکٹ Vincent Esch کی ڈیزائن کردہ عمارتیں اس دور میں اپناجواب نہیں رکھتی تھیں چنانچہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی تین منزلہ وسیع و عریض عمارت فن تعمیر کا شاہکار ثابت ہوئی ۔ اس عمارت کے اطراف و اکناف سر سبز و شاداب ماحول کو یقینی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر شجرکاری کی گئی ۔ غرض ماحول کو اس قدر صاف ستھرا رکھا گیا کہ کبھی بھی نہیں لگتا تھا کہ یہ کوئی ہاسپٹل ہے اس کے برعکس اب زائد از 1200 بستروں پر مشتمل آندھرا پردیش تلنگانہ کا یہ سب سے بڑا اور ہندوستان کے قدیم ہاسپٹلوں میں سے ایک ہاسپٹل اپنی خستہ حالی کی درد ناک کہانی سناتا نظر آتا ہے ۔ ہاسپٹل میں کتوں اور بندروں کی بہتات ہوگئی ہے ۔ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو جہاں ہمیشہ کتوں کے کاٹ لینے کا خوف رہتا ہے وہیں وہ اس بات کی فکر میں رہتے ہیں کہ کہیں کوئی بندر اچانک ان کے ٹفن باکس ، کپڑے ، ادویات اور دیگر سامان لے کر نہ بھاگے ۔ نمائندے نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کا دورہ کرتے ہوئے مریضوں اور ان کی عیادت کے لیے آنے والوں سے بات کی ۔ یہ دیکھ کر بڑی تکلیف ہوئی کہ کسی زمانے میں نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیا کا عصری ہاسپٹل رہے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے ۔ جابجا کچرے کے سیاہ پالی تھین پاکٹس پڑے ہوئے ہیں ۔ تمام بیت الخلاء بند کردئیے گئے ہیں صرف آوٹ پیشنٹس کے لیے ٹائلٹس کھلے رکھے گئے ہیں ۔ جہاں جاکر مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو افسوس ہی ہوتا ہے ۔ مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں سے لے کر نیم طبی عملہ درجہ چہارم کے ملازم وارڈ بوائز نرسیس وغیرہ کا سلوک ہمدردانہ نہیں ہوتا ۔ ہر معاملہ میں رشوت دینی پڑتی ہے ۔ لیکن چند ڈاکٹرس میں انسانیت کا غیر معمولی جذبہ پایا جاتا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈپٹی چیف منسٹر ڈاکٹر راجیہ کے دورہ کے موقع پر 12 گھنٹوں تک دواخانہ کی حالت بدلی بدلی نظر آئی تاہم ہاسپٹل تباہی و بربادی کی روش پر رواں دواں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مریضوں کی زندگیاں بچانے کے لیے قائم کردہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں زندگی بچانے والے اہم طبی آلات ہی موجود نہیں ہیں ۔ ایم آر آئی ، سٹی اسکیان ، ایکسرے ، ڈرپلر ایفکٹ اور دیگر آلات و مشینس فرسودہ ہوچکے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے اور آلات کی خریدی کے لیے 100 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں ۔ لیکن طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ہاسپٹل میں تمام ضروری طبی آلات کافی پرانے ہوچکے ہیں ۔ اگر کارپوریٹ سیکٹر کے ہاسپٹلوں کی لوٹ کھسوٹ روکنا ہو تو عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے لیے کم از کم 500 کروڑ روپئے مختص کئے جائیں جس کے نتیجہ میں آروگیہ شری کے تحت علاج کرانے والے مریضوں کو خانگی دواخانوں کا رخ کرنا نہیں پڑے گا ۔ مریضوں ، ان کے رشتہ داروں اور خود دواخانہ کے ذرائع نے بتایا کہ ملک کے اس تاریخی ہاسپٹل میں مریضوں کے لیے کھانے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے ۔ وہیل چیرس تک نہیں ہیں اور جہاں مریضوں کو علاج کے لیے چٹھی دی جاتی ہے وہاں بھی کوئی نظام نہیں ہے ۔ گیٹ کیپر مٹھی گرم کرنے پر ہی اندر جانے کی اجازت دیتا ہے ۔ اس کے علاوہ اسٹاف کی بھی شدید قلت ہے ۔ بیڈ شیٹس بھی مریضوں کو سپلائی نہیں کی جاتی ہیں ۔ دواخانہ کے باہر مریض ایک طرح سے سڑ رہے ہیں ۔ انہیں دیکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ وارڈ بوائز اپنی من مانی کرتے ہیں ۔ ایمرجنسی شعبہ میں جو طبی آلات ہیں وہ خراب ہوچکے ہیں یا پھر فرسودہ ہوچکے ہیں ۔ ان شکایات پر کارروائی کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ 2 پرائیوٹ میڈیکل شاپس کام کرتے ہیں جہاں عوام کو 50 روپئے کی ایڈز اسٹرپس 150 روپئے میں دی جاتی ہے ۔ اگر ہاسپٹل میں جیون دھارا کے میڈیکل شاپس میں سرجیکل ایٹمس فروخت کرنے کی اجازت دی جائے تو مریضوں کو زبردست راحت ملے گی ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نرسیس ڈیوٹی اچھی طرح انجام نہیں دیتی ہیں تقریبا 300 ڈاکٹروں اور 100 سے زائد نیم طبی عملہ ہونے کے باوجود دواخانہ مسلسل اپنی زبوں حالی کی شکایت بیان کررہا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نہ صرف اس تاریخی ہاسپٹل کا تحفظ کیا جائے بلکہ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ بجٹ مختص کرتے ہوئے عوام کو خانگی ہاسپٹل کے استحصال سے بھی بچایا جائے ۔ ایک ڈاکٹر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہاسپٹل میں موجود طبی آلات میں سے 90 فیصد آلات فرسودہ ہوچکے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT