Tuesday , June 19 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی بلندی پر نصب 88 سالہ قدیم اردو تختی گرنے کے قریب

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی بلندی پر نصب 88 سالہ قدیم اردو تختی گرنے کے قریب

حیدرآباد ۔ 19 ۔ مارچ : ہوا ، پانی ، دھوپ ، چھاؤں ، موسم ، غربت ، مصیبت ، محبت ، مروت ، ہمدردی ، انسانیت ، زبان اور بیماریوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ لیکن فرقہ پرست چاہیں تو ان سب کو کسی بھی مذہب سے جوڑ کر انسانوں اور انسانیت سے دشمنی کرنے لگتے ہیں ۔ 1926 میں 25 لاکھ روپئے کی لاگت سے آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں صدیقی بہادر نے عظیم الشان عث

حیدرآباد ۔ 19 ۔ مارچ : ہوا ، پانی ، دھوپ ، چھاؤں ، موسم ، غربت ، مصیبت ، محبت ، مروت ، ہمدردی ، انسانیت ، زبان اور بیماریوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ لیکن فرقہ پرست چاہیں تو ان سب کو کسی بھی مذہب سے جوڑ کر انسانوں اور انسانیت سے دشمنی کرنے لگتے ہیں ۔ 1926 میں 25 لاکھ روپئے کی لاگت سے آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں صدیقی بہادر نے عظیم الشان عثمانیہ جنرل ہاسپٹل تعمیر کروایا تھا اور اس زمانے میں اسے ایشیا کا سب سے بڑا ہاسپٹل کہا جانے لگا تھا ۔ آصف سابع نے یہ ہاسپٹل صرف اور صرف اپنی رعایا کی طبی ضروریات کے پیش نظر قائم کیا تھا ۔ ان کا یہی نظریہ تھا کہ بیماری، غربت اور مصیبت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی زبان کو مذہب سے جوڑا جاسکتا ہے ۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی اس انداز میں تعمیر کی گئی کہ اس عمارت کا شمار ایشیاء میں فن تعمیر کی شاہکار عمارتوں میں ہونے لگا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سقوط حیدرآباد کے بعد عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو صرف اس لیے تعصب کا نشانہ بنایا گیا کیوں کہ یہ آصف جاہی حکمرانوں کی انسانیت نوازی کی علامت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حکومتوں اور عہدیداروں نے اس ہاسپٹل کو ہمیشہ نظر انداز کیا ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس تاریخی ہاسپٹل کی بلندی پر نصب کردہ اردو تختی کو تباہی کے لیے چھوڑ دیا گیا ۔ آج ہم نے اس تختی کا جائزہ لیا جس پر اندازہ ہوا کہ متعصب ذہنوں نے جس طرح ’ اردو ‘ کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کی اہمیت کو گھٹانے کی کوشش کی ہے اسی طرح عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی قدیم اردو تختی کو بھی صفحہ ہستی سے مٹانے کا تہیہ کرلیا ہے

اس تختی کو پیپل کے درخت کے جڑوں نے اس طرح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس طرح آج ہمارے ملک کی گنگا جمنی تہذیب کو کمزور کرنے کے لیے فرقہ پرستوں نے ماحول کو تعصب و جانبداری کی لپیٹ میں لے رکھا ہے ۔ آپ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی اردو تختی کو ہائی کورٹ اور نیاپل کی جانب سے اچھی طرح دیکھ سکتے ہیں ۔ وہاں سے یہ تختی واضخ دکھائی دیتی ہے ۔ اس کا سائز 2×4 فٹ ہے ۔ سنگ مرمر کی تختی پر عثمانیہ دواخانہ لکھا ہوا ہے ۔ ساتھ ہی تاریخ بھی درج ہے ۔ ہمیں افسوس متعصب عہدیداروں کی فرقہ پرستی پر نہیں بلکہ ان لوگوں کے رویہ پر ہورہا ہے جو اردو اور حیدرآبادی تہذیب و تاریخی آثار کے تحفظ کے دعوے کرتے ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ یہ تختی کبھی بھی کسی بھی وقت منہدم ہوسکتی ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی ابتداء افضل گنج سے ہوئی اس میں پہلے میڈیکل کالج قائم تھا ۔ اس عمارت کا ایک حصہ 1908 کی طغیانی کی زد میں آکر تباہ ہوگیا تھا اور اس حصہ کی دوبارہ تعمیر کے بعد اسے آصف جاہ پنجم افضل الدولہ بہادر سے موسوم کردیا گیا ۔ اس طرح وہ افضل گنج ہاسپٹل بن گیا ۔ پھر 1925 میں موجودہ عمارت میں اس ہاسپٹل کی منتقلی کے بعد اسے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کا نام دیا گیا ۔

آج جہاں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی اردو تختی گرنے کے قریب آچکی ہے وہیں رود موسیٰ کے کنارے 26.5 ایکڑ اراضی پر پھیلے اس ہاسپٹل کی دیواریں چھت فرش گنبدیں ہر چیز شکستہ ہوگئی ہیں حالانکہ ہر سال اس عظیم ہاسپٹل میں 8 لاکھ آوٹ پیشنٹ اور 52000 ان پیشنٹ رجوع ہوتے ہیں ۔ اس میں پہلے 400 بستر تھے ۔ جن کی تعداد بڑھا کر 1400کردی گئی ہے ۔ اگرچہ اس میں 11 بلاکس ہیں لیکن 8 بلاکس استعمال کے قابل ہی نہیں ہیں ۔ بنیادی سہولتوں کا بھی فقدان پایا جاتا ہے ۔ اس ہاسپٹل کی عظمت رفتہ بحال کرنے کے لیے حکومت اور اعلیٰ حکام و عوامی نمائندوں کو خصوصی توجہ دینی ہوگی ۔ ورنہ یہ ہاسپٹل جہاں بیمار تندرستی کے لیے رجوع ہوتے ہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غفلت بے حسی تعصب اور فرقہ پرستی جیسے سماجی امراض کہنہ میں مبتلا ہوجائے گا ۔۔

TOPPOPULARRECENT