Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی حالت زار کیلئے حکومتیں ذمہ دار ، تزئین نو حکومت کا فریضہ

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی حالت زار کیلئے حکومتیں ذمہ دار ، تزئین نو حکومت کا فریضہ

چیف منسٹر کو ہٹ دھرمی سے گریز اور تاریخی آثار کے تحفظ کا مشورہ
99سالہ اگاریڈی ، پریتم سنگھ اور ڈاکٹر حیدر خاں سے بات چیت
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے تاریخی شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد میں حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں بہادر نے رعایا کے لیے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل تعمیر کروایا ۔ تقریبا 27 ایکڑ اراضی پر محیط اس ہاسپٹل کا شمار فن تعمیر کی شاہکار عمارتوں میں ہوتا ہے ۔ فن تعمیر ، کے لحاظ سے اس طرح کے ہاسپٹل صرف برطانیہ وغیرہ میں ہی نظر آئیں گے ۔ اگر عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کا غور سے جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ حضور نظام نے اس دواخانہ کو بہت ہی کشادہ وسیع و عریض ہوا دار سرسبز و شاداب بنایا تھا ۔ اس کے صحن ، دالان ، ورانڈے ، راہداریاں ، گنبدیں سب کے سب آصف جاہی حکمرانوں کی رعایا پروری ، وسیع القلبی ، بیماروں کے مکمل علاج کے لیے ان کے دلوں میں موجود تڑپ کے پیام دیتی ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ آصف سابق نواب میر عثمان علی خاں کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن تلنگانہ کو حضور نظام نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی شکل میں جو نادر و نایاب تحفہ دیا ہے وہ ( چیف منسٹر ) اسے بوسیدگی کا بہانہ بناتے ہوئے منہدم کرنے بضد ہیں ۔ عثمانیہ دواخانہ کو منہدم کرانے سے متعلق چیف منسٹر کے منصوبہ کے منظر عام پر آنے کے ساتھ ہی نہ صرف تلنگانہ اور حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ ساری دنیا میں مقیم تلنگانہ کے شہریوں نے شدید برہمی ظاہر کی ہے ۔ ہم نے حیدرآبادی تہذیب کی بعض نمائندہ شخصیتوں سے اس سلسلہ میں بات کی ۔ ریاستی لوک ایوکت جسٹس سبھاشن ریڈی کے والد جن کی عمر عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے صرف 8 سال بڑی ہے ۔ اس تاریخی ہاسپٹل کو منہدم کئے جانے کے منصوبوں کی شدید مخالفت کی اور کہا کہ ایسے تاریخی ہاسپٹل کو منہدم نہیں کیا جانا چاہئے کیوں کہ وہاں پر روز ہزاروں مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ تاریخی آثار کی حفاظت اور ان کی دیکھ بھال کی جانی چاہئے ۔ 99 سالہ اگاریڈی کے مطابق تاریخی آثار عوام کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں ۔ حیدرآباد تہذیب کی ایک اور نمائندہ شخصیت و ماہر امراض قلب ڈاکٹر حیدر خاں کے خیال میں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی عمارت سے کہیں زیادہ قدیم عمارتیں شہر اور اس کے اطراف و اکناف میں موجود ہیں ۔ جہاں تک عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کا سوال ہے یہ بڑی خوبصورت اور مریضوں کے علاج و معالجہ کے لیے موزوں عمارت ہے ۔ اس کی تزئین نو کی جاسکتی ہے ہاں اگر عمارت اس قدر بوسیدہ اور شکستہ ہوگئی ہے کہ وہ گرنے کے قریب ہو تو وہ ایک مجبوری ہے ورنہ تزئین نو کے قابل ہو تو اس کی تزئین نو کی جانی چاہئے ۔ ڈاکٹر حیدر خاں کے مطابق آج عثمانیہ دواخانہ کو بوسیدہ و شکستہ قرار دے کر منہدم کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں ۔ کل آندھرا پردیش ہائی کورٹ کا نمبر آسکتا ہے ۔ دوسری جانب عام شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک منصوبہ بند انداز میں کے سی آر شہر کی قدیم عمارتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ آج عثمانیہ دواخانہ کو منہدم کرنے کی باتیں کررہے ہیں کل اسمبلی جوبلی ہال کو بھی مخدوش قرار دے کر زمین دوز کرنے کے منصوبوں کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ چیف منسٹر کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ قوموں کی شناخت ان کی پہچان میں تاریخی آثار کا اہم کردار ہوتاہے جو قوم اپنے تاریخی آثار کی حفاظت نہیں کرسکتی وہ خود کی حفاظت میں بھی ناکام ہوجاتی ہے ۔ بہر حال ہم نے شہر حیدرآباد کے ایک سابق اعلیٰ پولیس عہدیدار جناب پریتم سنگھ سے بات کی اور اس بارے میں ان کے خیالات جاننے کی کوشش کی ۔ انہوں نے بنا کسی مصلحت پسندی و ہچکچاہٹ کے واضح اور پر زور انداز میں کہا کہ عثمانیہ دواخانہ کی عمارت سے سابقہ حکومتوں نے جان بوجھ کر غفلت برتی ۔ اس کی دیکھ بھال نہیں کی اور اب اسے بیمار ( شکستہ حال ) بتا کر منہدم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 1921 میں تعمیر کردہ اس بے مثال عمارت کی دیکھ بھال پر توجہ کیوں نہیں دی گئی ۔ اس کی شکستگی کو دور کرنے کے لیے اقدامات سے گریز کیوں کیا گیا ؟ مسٹر پریتم سنگھ کے خیال میں سابقہ حکومتوں کے ذمہ داروں نے اپنے عزیز و اقارب کے کارپوریٹ ہاسپٹلوں کو فروغ دینے کی خاطر جان بوجھ کر عثمانیہ دواخانہ کو تباہ ہونے کے لیے چھوڑ دیا ۔ پریتم سنگھ نے جو سپرنٹنڈنٹ پولیس کی حیثیت سے یادگار خدمات انجام دیں بتایا کہ حیدرآباد میں انہوں نے برسوں کام کیا ۔ حکومتوں کے باعث ہی گلزار حوض تباہ ہوگیا ۔ اسے کوڑے دان میں تبدیل کردیا گیا ۔ چارمینار کے اطراف غیر قانونی ڈھانچہ وجود میں آیا یہ سب حکومتوں کی کارستانی ہے حضور نظام نے ہمیشہ اپنی رعایا کی فکر کی اور کئی ہاسپٹل تعمیر کروائے آج جتنے بھی بڑے سرکاری ہاسپٹل ہیں ان میں آصف جاہی دور کا ہی دخل ہے ورنہ آج کے حکمران اس طرح کی عمارتیں بنا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے دلوں میں رعایا پروری کا جذبہ ہے ۔ یہ دواخانہ اور اس کی عمارت حیدرآباد کی پہچان ہے اس کی حفاظت تمام شہریوں اور سب سے بڑھ کر حکومت کا فریضہ ہے اگر مریض بیمار ہوجائے تو اسے مرنے کے لیے نہیں چھوڑا جاتا بلکہ اس کا علاج کرایا جاتا ہے ۔ ایسے ہی اگر عثمانیہ دواخانہ کی عمارت مخدوش ہوگئی ہے تو اس کی مرمت اور تزئین نو کی جانی چاہئے ۔۔

TOPPOPULARRECENT