Tuesday , August 14 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی عمارت خستہ حالی کا شکار

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی عمارت خستہ حالی کا شکار

ڈاکٹرس کا بطور احتجاج ہیلمٹ کا استعمال ، حکومت اور محکمہ صحت کی عدم توجہ
حیدرآباد۔30مارچ(سیاست نیوز) دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے اور ڈاکٹرس بطور احتجاج دواخانہ میں ہیلمٹ کا استعمال کرتے ہوئے خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اس مسئلہ پر حکومت اور محکمہ صحت کی جانب سے توجہ مبذول نہ کئے جانے کے سبب صورتحال انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ دواخانہ عثمانیہ کی قدیم یوروپی طرز تعمیر والی عمارت کی خستہ حالی سے متعلق متعدد مرتبہ مختلف تنظیموں اور انٹیک کی جانب سے حکومت کو رپورٹ پیش کی جا چکی ہے لیکن اس کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے بلکہ چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے دواخانہ عثمانیہ کی اس قدیم عمارت کا بہ نفس نفیس معائنہ کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ دواخانہ عثمانیہ کی جگہ وسیع و عریض دواخانہ کی تعمیر عمل میںلائی جائے گی ۔ اس دورہ کے موقع پر اس تاریخی عمارت کو مخدوش قرار دیتے ہوئے منہدم کرنے کی بھی بات کی گئی تھی لیکن اس کی شدت سے مخالفت کے بعد حکومت کی جانب سے اس عمارت کی آہک پاشی و مرمت کے اقدامات کرنے سے بھی اجتناب کیاجانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ حکومت نے دواخانہ عثمانیہ کی خوبصورت عمارت کو منہدم ہونے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ڈاکٹرس کا کہناکہ حکومت کی جانب سے اس تاریخی عمارت کو مخدوش ہونے کے باوجود مرمت کے کاموں کا آغاز نہ کیاجانا نہ صرف ڈاکٹرس کے لئے خطرہ کا باعث ہے بلکہ اس حصہ میں شریک مریضوں کیلئے بھی یہ عمارت خطرہ ثابت ہورہی ہے۔بتایاجاتاہے کہ جونئیر ڈاکٹرس اور نرسس جو اس حصہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں وہ مسلسل اس مسئلہ پر احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ صحت کی جانب سے اس مسئلہ پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق حکومت کی جانب سے تاریخی عمارت کو منہدم کرنے کیلئے ڈاکٹرس کے احتجاج کا سہارا لینے کی سازش کی جا رہی ہے اسی لئے حکومت اور حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کی جانب سے اس مسئلہ پر کوئی توجہ مبذول نہیں کی جا رہی ہے۔ محترمہ انورادھا ریڈی (انٹیک) نے بتایا کہ حکومت کی لاپرواہی کا بنیادی مقصد عمارت کو انتہائی مخدوش ہونے کیلئے چھوڑنا ہے تاکہ بعد میں مرمت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ حکومت کی جانب سے جو اعلانات کئے گئے تھے اور دواخانہ کی قدیم عمارت سے متصل اراضی پر اسکائی اسکراپر کی شکل کے دواخانہ کا اعلان کیا گیا تھا اس کا کیا ہوا؟ انہوں نے بتایا کہ اگر عثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کی فوری طور پر مرمت و آہک پاشی کے اقدامات نہیں کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں عمارت کے وجود کو خطرہ لاحق ہونے کا قوی خدشہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT