Wednesday , July 18 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے او پی خدمات متاثر

عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے او پی خدمات متاثر

کاؤنٹر کی کشادگی میں تاخیر سے مریضوں کو مشکلات ، خستہ حال ہاسپٹل پر ڈاکٹرس کا احتجاج
حیدرآباد ۔ /5 اپریل (سیاست نیوز) عثمانیہ جائنٹ ایکشن کمیٹی گزشتہ دو ماہ سے جدید عمارت کی تعمیر کے مسئلہ پر احتجاج کررہی ہے اور حکومت کی جانب سے تاحال مثبت جواب نہ ملنے کی وجہ سے کمیٹی نے او پی کاؤنٹرس ایک گھنٹے کی تاخیر سے کھولا جارہا ہے ۔ جبکہ عام طور سے روزانہ صبح 9 بجے سے او پی کاؤنٹرس کھول دیئے جاتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے سینکڑوں مریض بغیر علاج کے ہی واپس لوٹنے پر مجبور ہیں ۔ واضح ہو کہ دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت خستہ حالی کا شکار ہوگئی ہے اور وزیر اعلیٰ کے سی آر نے اس عمارت کے قریب دو بڑے ٹاور تعمیر کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن عملی اقدام نہ کئے جانے پر ڈاکٹرس ، فرمس اور دواخانہ کے دیگر عملہ پر مشتمل عثمانیہ جائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ مختلف انداز سے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے ۔ حالیہ دنوں میں کمیٹی نے وزیر اعلیٰ کو یادداشت بھی پیش کیا ۔ اور عملی اقدامات میں تاخیر پر ایمرجنسی خدمات کو معطل کرنے کا انتباہ دیا تھا ۔ واضح ہو کہ دواخانہ عثمانیہ نے نہ صرف حیدرآباد بلکہ ریاست کے مختلف مقامات کے علاوہ پڑوسی ریاستوں آندھراپردیش ، کرناٹک اور مہاراشٹرا سے بھی مریض علاج کیلئے رجوع ہوتے ہیں ۔ دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کی پہلی منزل خستہ حالت میں ہے تو دوسری منزل بے حد خستہ حالی کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس منزل کو خالی کرکے گراؤنڈ فلور پر ہی مریضوں کو رکھا جارہا ہے اور یہاں بیڈس بچھانے کیلئے جگہ نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو زمین پر ہی لٹا کر علاج کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کے علاوہ ڈاکٹرس کو بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ قبل ازیں عثمانیہ سے پیٹلہ برج دواخانے میں مریضوں کو منتقل کیا گیا تھا مگر وہاں علاج کے معاملہ میں درپیش مسائل کی وجہ سے فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا ۔ جس کی وجہ سے قدیم عمارت میں ہی ڈاکٹر مریضوں کا علاج کرنے پر مجبور ہورہے ہیں اور بارش کے وقت عمارت کی چھت سے مٹی وغیرہ گرتی رہتی ہے اور ڈاکٹرس نے احتجاج کے طور پر ہیلمٹ لگاکر بھی دواخانے میں ڈیوٹی انجام دی ہے اور چند دن قبل ہی ایک ڈاکٹر کے ی روم میں سیلنگ فیان چھت سے گرگیا اور اس وقت وہاں کوئی بھی نہ ہونے کی وجہ سے بڑا حادثہ ٹل گیا ۔ ماضی میں وزیر اعلیٰ نے دواخانہ کا دورہ کرتے ہوئے مسائل سے جانکاری حاصل کی تھی ۔ اس کے بعد فوری طور پر عثمانیہ کیلئے 100 کروڑ کا بجٹ مختص کرتے ہوئے کہا کہ قدیم عمارت کو منہدم کرتے ہوئے جدید عمارت کی تعمیر کا اعلان کیا تھا مگر آثار قدیمہ کی جانب سے اعتراض کے بعد وزیر صحت نے بذات خود اعلان کیا تھا کہ قدیم عمارت کے بازو خالی جگہ پر عمارت تعمیر کی جائے گی اور اس تعلق سے رپورٹ بھی تیار کی گئی تھی مگر تاحال اقدام نہ کرنے پر مریضوں ، ڈاکٹرس ، نرسیس اور دیگر عملہ کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ ان مسائل کے مدنظر ڈاکٹرس ، نرسیس اور دواخانہ عملہ کے ساتھ ساتھ مریضوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر دواخانہ عثمانیہ کی جدید عمارتوں کے تعمیری کاموں کا آغاز کرے ۔

TOPPOPULARRECENT