Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ دواخانہ میں کتوں کی بہتات سے ہاسپٹل انتظامیہ کا اظہار لاتعلقی

عثمانیہ دواخانہ میں کتوں کی بہتات سے ہاسپٹل انتظامیہ کا اظہار لاتعلقی

بلدیہ نے بھی ہاتھ اٹھالئے ، انسانی حقوق کمیشن نے محکموں کی کارکردگی پر شدید سرزنش کی

بلدیہ نے بھی ہاتھ اٹھالئے ، انسانی حقوق کمیشن نے محکموں کی کارکردگی پر شدید سرزنش کی
حیدرآباد /17 مارچ ( سیاست نیوز ) عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں کتوں کی بہتات پر برہم انسانی حقوق کمیشن نے دونوں محکموں کی کارکردگی کا سخت نوٹ لیا ہے ۔ مریضوں کے جذبات سے کھلواڑ اور فرائض سے لاپرواہی پر سرکاری محکموں سے سخت ناراض کمیشن نے بلدیہ اور ہاسپٹل انتظامیہ کو احساس جگانے کا مشورہ دیا اور سرزنش کی اور سوال کیا کہ کیا اس عظیم دواخانہ کو انسانی دواخانے سے وٹرنری ہاسپٹل میں بدلنا چاہتے ہیں ۔ یاد رہے کہ قائد مجلس بچاؤ تحریک و سابق کارپوریٹر اعظم پورہ مسٹر امجد اللہ خان خالد نے انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوکر شکایت کی تھی کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں کتے مریضوں کے بستروں کے قریب آرام کر رہے ہیں اور بے خوف ہاسپٹل میں گھوم رہے ہیں ۔ مریضوں کو ان آوارہ کتوں سے لاحق خطرات سے بھی قائد مجلس بچاؤ تحریک نے کمیشن کو آگاہ کروایا تھا ۔ اس شکایت کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے انسانی حقوق کمیشن نے 17 مارچ کے دن حاضر ہونے کیلئے اور مکمل رپورٹ پیش کرنے کا بلدیہ اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو حکم دیا تھا ۔ تاہم آج دونوں ہی محکموں کے عہدیدار انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوئے تاہم دونوں مسئلہ پر ایک دوسرے کو قصوروار ٹھہرا رہے تھے اور آوارہ کتوں کے تعلق سے بلدیہ نے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دیا اور کہا کہ ہاسپٹل میں کتوں کی کثرت کا خود ہاسپٹل انتظامیہ ذمہ دار ہے ۔ بلکہ بلدیہ سے کمیشن میں رجوع ہوئے چیف وٹرنری آفیسر مسٹر وینکٹیشور ریڈی نے مشورہ دیا کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو چاہئے کہ وہ اپنی گیٹوںپر پہرہ سخت کردیں اور کتوں کو روکنے کیلئے جالی نصب کرلیں ۔ جبکہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل سے کمیشن میں رجوع ہونے والے ڈاکٹر ظفر ہاشمی ( آر ایم او ) نے کہا کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے آس پاس آوارہ کتوں کی کثرت کا ذمہ دار خود بلدی عملہ ہے ۔ چونکہ شہر بھر سے بلدیہ جن آوارہ کتوں کو پکڑتا ہے انہیں موسی ندی کے دامن میں چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر یہ کتے قریب عثمانیہ جنرل ہاسپٹل پہونچ جاتے ہیں ۔ کمیشن نے دونوں محکموں کے ایک دوسرے پر الزامات کو دیکھتے ہوئے سخت ناراضگی ظاہر کی اور دونوں محکموں کی سرزنش کرتے ہوئے کمیشن کی ہدایت پر اقدامات کے تعلق سے جواب طلب کیا ۔ تاہم دونوں ہی محکمے جواب دینے میں ناکام رہے ۔ کمیشن نے شکایت گذار کی درخواست پر 17 مارچ تک وقت دیا تھا اور دونوں محکموں کے عہدیداروں کی جانب سے کسی کو معطل کرنے یا پھر تبادلہ کرنے یا پھر کسی بھی قسم کے ٹھوس اقدامات کی جواب طلبی کی یہ عہدیدار کمیشن کے روبرو خاموش رہے ۔ کمیشن کے جوڈیشل رکن ایم راما راؤ نے دونوں محکموں کی کارکردگی پر سخت افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ حیدرآباد دونوں ریاستوں کا صدر مقام ہے اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل جسے ہاسپٹل کے تعلق سے لاپرواہی پر دونوں ہی محکموں کو شرم آنی چاہئے ۔ انہوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے ذمہ داروں کو حکم دیا کہ وہ 14 اپریل تک اپنی مکمل رپورٹ پیش کریں اور اقدامات کے تعلق سے کمیشن کو آگاہ کروائیں ۔ اس موقع پر درخواست گذار سابق کارپوریٹر اعظم پورہ قائد مجلس بچاؤ تحریک مسٹر امجد اللہ خان خالد نے کہا کہ انسانی صحت سے جڑے اس مسئلہ پر کمیشن کا یہ ایک خوش آئند اقدام ہے اور انہیں پورا بھروسہ ہے کہ انسانی حقوق کمیشن انصاف کرے گا اور ان محکموں کی کارکردگی اور عوامی خدمات میں بہتری آئے گی ۔

TOPPOPULARRECENT