Friday , September 21 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ دواخانہ کے پیرامیڈیکل کورسیس کے اقلیتی طلباء کا مستقبل معلق

عثمانیہ دواخانہ کے پیرامیڈیکل کورسیس کے اقلیتی طلباء کا مستقبل معلق

ڈپارٹمنٹ آف بائیو کیمسٹری کی مبینہ لاپرواہی سے کئی طلباء اسنادات سے محروم

ڈپارٹمنٹ آف بائیو کیمسٹری کی مبینہ لاپرواہی سے کئی طلباء اسنادات سے محروم

حیدرآباد /17 مارچ ( سیاست نیوز ) عثمانیہ لفظ سے جڑنے پر تعلیمی اسنادات کی علمی سطح کو اہمیت دی جاتی ہے اور طلبہ ان اسنادات کو اپنے لئے ایک اعزاز و نعمت تصور کرتے ہیں لیکن ایسے ہی چند طلبہ ان سرٹیفکیٹ کے حصول کیلئے ان دنوں کافی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اصل امتحان میں شرکت کیلئے انہیں ہر روز ایک نئے امتحان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان طلبہ نے جن میں اکثریت اقلیتی طلبہ کی پائی جاتی ہے ۔ اپنی خواہش اور منتوں کے بعد انہیں دواخانہ کے تحت چلائے جانے والے سرٹیکفیٹ کورسیس میں داخلہ ملا لیکن اب ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ اور کیمسٹری پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف بائیو کیمسٹری کی مبینہ لاپرواہی سے ان طلبہ کے مستقبل کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ ان طلبہ کا کہنا ہے کہ انہیں کورس کے بجائے سنٹرس میں اور عملہ کی مرضی کے مطابق کام کروایا جارہا ہے ۔ یہ طلبہ میڈیکل لیاب ٹیکنیشن شعبہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک سالہ تربیتی کورس پر ہیں ۔ تاہم کورس کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی چند طلبہ کو سرٹیفکیٹ نہیں دیا جارہا ہے اور چند طلبہ کو لیاب کی صفائی پر مامور کردیا گیا ہے ۔ جب وہ استفسار کرتے ہیں تو انہیں دھمکیاں دی جاتی ہیں اور حاضر کو غیر حاضر بناکر ان کے مستقبلکو تاریک بنادینے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔ طلبہ نے اپنے مسائل بتاتے ہوئے اس بات کی خاص درخواست کی تھی کہ وہ ان کے ناموں کا انکشاف نہ کریں چونکہ ان کے چہروں کو دیکھ کر بھی ان سے مبینہ طور پر لاپرواہی کی جارہی ہے اور ایسی شکایت پر ان کے خلاف مزید کارروائیاں ہوںگی ۔ ان طلبہ کا کہنا ہے کہ ایم ایل ٹی کے طلبہ کو گاندھی جنرل ہاسپٹل میں فنڈ دیا جاتا ہے جبکہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے طلبہ ان سے محروم ہیں ۔ تاہم طلبہ کے ان مسائل کی شکایتوں اور الزامات کے تعلق سے ہیڈ آف دی ڈپارٹمنٹ سے رابطہ قائم کرنے پر ان سے رابطہ قائم نہ ہوسکا ۔ جبکہ اسسٹنٹ پروفیسر محترمہ گوری ان الزامات کو سننے کے بعد پریس میڈیا سے بات کرنے راضی ہوگئیں تاہم جب شکایتوں اور الزامات کو سننے لگیں تو ان کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا اور وہ آپے سے باہر ہوگئیں اور کہہ دیا کہ الزامات لگانے والوں کو سامنے لایا جائے کہ وہ ہم پر کیوں یہ الزام لگا رہے ہیں ۔ محترمہ وجہ یہ بتارہی تھیں کہ اچانک ایک خاتون جو سمجھا جارہا ہے کہ پی جی طالبہ تھیں انہیں روک دیا اور میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ جو کچھ بھی پوچھنا ہو ایچ او ڈی سے پوچھیں تعجب کہ ایک پی جی اسٹوڈنٹ کے ایک اشارہ پر اسسٹنٹ پروفیسر نے اپنا رویہ بدل دیا ۔ ان کی حرکت سے طلبہ کے الزامات کو کافی تقویت ملتی ہے ۔ طلبہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ایم ایل ٹی طلبہ کے مسائل کو حل کریں اور ان کے روشن مستقبل میں مسائل و رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے طلبہ کی مدد کے اپنے وعدوں کو پورا کریں۔

TOPPOPULARRECENT