Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ ہاسپٹل میں نرسنگ اسٹاف کی ہڑتال

عثمانیہ ہاسپٹل میں نرسنگ اسٹاف کی ہڑتال

مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں، کئی آپریشن روک دیئے گئے
حیدرآباد 13 نومبر (سیاست نیوز) عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں نرسنگ اسٹاف کی اچانک ہڑتال کی وجہ سے علاج معالجہ اور دیکھ بھال کا عمل مفلوج ہوکر رہ گیا۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں 230 نرسیس کام کرتی ہیں ان پر کام کا کافی بوجھ رہتا ہے۔ دواخانہ ایک ہزار چار سو بستروں پر مشتمل ہے۔ نرسیس کی کم تعداد کی وجہ سے موجودہ نرسنگ اسٹاف پر کام کا بے پناہ بوجھ ہے۔ نرسنگ اسٹاف کی عہدیداروں سے بات چیت جاری تھی کوئی پیشرفت نہ ہونے پر کل نرسنگ اسٹاف نے کام روک دیا۔ اس کے نتیجہ میں مقررہ 70 سے زائد آپریشن روک دیئے گئے۔ نرسوں کی اچانک ہڑتال سے مریض اور ان کے تیمار دار کافی پریشان ہیں۔ کل دواخانے کے کسی وارڈ میں ایک بھی نرس نظر نہیں آئی۔ بعض مریضوں کی حالت نازک ہے اور ان کے رشتہ دار پریشان ہیں۔ گورنمنٹ نرسیس اسوسی ایشن کی سکریٹری ایم جیہ اماں نے کہاکہ 230 نرسیس سے آٹھ سو نرسوں کا زائد کام لیا جارہا ہے۔ نرسیس 3 شفٹس میں کام کرتی ہیں۔ ویکلی آف اور رخصت کی صورت میں نرسنگ اسٹاف کی سنگین کمی پیدا ہوئی ہے۔ ڈیوٹی پر موجود نرسوں پر کام کا کافی بوجھ پڑتا ہے۔ ہر روز زائداز دو ہزار آؤٹ پیشنٹس اور دو سو تا 300 اِن پیشنٹس کا علاج ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر روز اوسطاً 12 سرجریز ہوتے ہیں۔ ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر جی وی ایس مورتی نے کہاکہ انھوں نے ریاستی حکومت کو نرسوں کے مطالبات سے تحریری طور پر واقف کرادیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT