Tuesday , December 12 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی تاریکی میں غرق ، ریونت ریڈی کا شدید ردعمل

عثمانیہ یونیورسٹی تاریکی میں غرق ، ریونت ریڈی کا شدید ردعمل

حیدرآباد ۔ 26 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مسٹر اے ریونت ریڈی کارگزار صدر تلنگانہ تلگو دیشم پارٹی نے ریاست کی یونیورسٹیوں کی ابتر صورتحال پر تلنگانہ حکومت کو حدف ملامت بنایا اور کہا کہ بالخصوص عثمانیہ یونیورسٹی جو کہ عالمی سطح پر اپنی منفرد طور پر شہرت رکھتی ہے ۔ آج مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب رہی ہے ۔ سینکڑوں پروفیسرس اسسٹنٹ پروفیسر ، و لکچرارس کی جائیدادیں مخلوعہ رہنے کے باعث یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جانب سے فراہم کی جانے والی گرانٹس بھی روک دی گئیں ہیں ۔ اس کے باوجود تلنگانہ حکومت بالخصوص چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سنگین صورتحال کو بھی نظر انداز کررہے ہیں اور آج تک بھی وائس چانسلر کا انتخاب و تقرر عمل میں نہیں لایا گیا ۔ مسٹر ریونت ریڈی جنہوں نے اخباری نمائندوں سے غیر رسمی بات چیت کررہے تھے کہا کہ یونیورسٹی طلباء بھی اپنی زندگیوں کی پرواہ کیے بغیر تلنگانہ حاصل کرنے کے لیے جدوجہد میں نہ صرف حصہ لیا تھا بلکہ اپنی زندگیوں کی قربانی دی تھیں لیکن آج تک ان طلباء کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا جارہا ہے ۔ یہاں تک کہ طلباء کی کوئی شناخت بھی نہیں ہے اور نہ ہی ان کا کوئی احترام ہے ۔ مسٹر ریونت ریڈی نے یوم تاسیس تلنگانہ تقاریب ٹینک بنڈ پر منظم کیے جانے کی پر زور مخالفت کی اور مشورہ دیا کہ عثمانیہ یونیورسٹی احاطہ میں تلنگانہ تاسیس تقاریب منعقد کی جانی چاہئے ۔ علاوہ ازیں شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان کو کم از کم پانچ ایکڑ اراضی ، مکان کی فراہمی اور دس لاکھ روپئے کی مالی امداد فراہم کرنے کے علاوہ شہیدان تلنگانہ کے خاندان سے کسی ایک تعلیم یافتہ نوجوان کو ملازمت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس تعلق سے اسمبلی میں بھی قرار داد منظور کی جاچکی ہے ۔ لیکن دو سال گزرجانے کے باوجود حکومت اس طرف توجہ ہی نہیں دے رہی ہے ۔ مسٹر ریونت ریڈی نے مجوزہ راجیہ سبھا انتخابات میں شہیدان تلنگانہ کے خاندان سے نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT