Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب ، محکمہ اقلیتی بہبود سے پروگراموں کو قطعیت

عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب ، محکمہ اقلیتی بہبود سے پروگراموں کو قطعیت

مشاعرہ ، قوالی ، سمینارس ، ڈرامہ شامل ، ہریتا پلازا مقام کا انتخاب
حیدرآباد۔ 15 مئی (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کے سلسلہ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے تین روزہ پروگراموں کو قطعیت دی گئی ہے۔ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل پہلے مرحلہ کے تحت دو روزہ سمینار اور شام غزل کا اہتمام کیا جائے گا۔ جبکہ رمضان المبارک کے بعد تمثیلی مشاعرہ، سنجیدہ مشاعرہ، مزاحیہ مشاعرہ، داستان گولکنڈہ کے عنوان سے پلے، عثمانیہ یونیورسٹی پر ڈرامہ اور قوالی جیسے پروگراموں کی تجویز ہے۔ ملک کی پہلی اردو میڈیم یونیورسٹی کی صدی تقاریب کے موقع پر محکمہ اقلیتی بہبود نے اردو اکیڈیمی کے ذریعہ ان پروگراموں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مشاہرین عثمانیہ کی خدمات کا اعتراف اور ان سے نئی نسل کو واقف کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ 22 تا 24 مئی دو دن کے لیے سمینار منعقد کیا جائے گا جس میں نامور عثمانین اور ماہرین تعلیم مختلف موضوعات پر مقالے پیش کریں گے۔ دو روزہ سمینار کے لیے بیگم پیٹ کی ہریتا پلازا ہوٹل کا انتخاب کیا گیا ہے جو محکمہ سیاحت کی ہے۔ عام طور پر اردو پروگراموں کے انعقاد کے لیے شہر کے مرکزی مقام پر جگہ کا تعین بہتر ہوتا ہے لیکن عہدیداروں نے نامعلوم وجوہات کی بناء پر بیگم پیٹ کی اس ہوٹل کا انتخاب کیا جہاں اردو والوں کی شرکت آسان نہیں اور اگر کوئی شریک ہونا چاہے تو اس پر کافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ اردو سے متعلق پروگراموں کے لیے پرانا شہر یا پھر نامپلی کے علاقے میں آڈیٹوریم کا انتخاب کیا جانا چاہئے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ 25 مئی کو للت کلا تھورنم پبلک گارڈن میں شام غزل کا اہتمام کیا جائے گا جس میں ملک کے نامور گلوکار پنکج اُدھاس اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو انہوں نے اس تاریخ کی توثیق کردی ہے۔ پہلے مرحلہ کے پروگراموں کے اخراجات کی پابجائی اردو اکیڈیمی کے بجٹ سے کی جائے گی تاہم دوسرے مرحلہ کے لیے امکان ہے کہ حکومت مزید فنڈس جاری کرے گی۔ واضح رہے کہ عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کے سلسلہ میں سرکاری سطح پر جو کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اس نے اردو زبان اور اردو کے پروگراموں کو یکسر نظرانداز کردیا تھا۔ اہم تقاریب کے دوران اردو میں پوسٹرس اور بیانرس تک نہیں لگائے گئے تھے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود نے نظام حیدرآباد کے کارناموں کو اجاگر کرنے اور عثمانیہ یونیورسٹی کی خدمات سے عوام کو واقف کرانے کے لیے پروگراموں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT