Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کے ضمن محکمہ اقلیتی بہبود سے تہذیبی پروگرامس

عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کے ضمن محکمہ اقلیتی بہبود سے تہذیبی پروگرامس

اردو کی نمائندہ شخصیتوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس ، رمضان کے ساتھ پروگراموں کا آغاز
حیدرآباد ۔ /3 مئی (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کے سلسلے میں محکمہ اقلیتی بہبود نے مختلف پروگرام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اردو اکیڈیمی کے زیراہتمام سمینار اور مختلف تہذیبی پروگرام منعقد کئے جائیں گے جن کا آغاز رمضان المبارک سے قبل ہوگا ۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں نے آج اردو کی نمائندہ شخصیتوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کرتے ہوئے تجاویز حاصل کی ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید محمد جلیل اور ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی پروفیسر ایس اے شکور اس موقع پر موجود تھے ۔ اردو کی نامور شخصیتوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے مشاہرین کی خدمات کا اعتراف کرنے کیلئے بعض تجاویز پیش کی ۔ اے کے خان نے بعد میں اجلاس کو بتایا کہ حکومت اردو زبان کے فروغ میں سنجیدہ ہے اور بہت جلد ساری ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا جائے گا ۔ سابقہ 10 اضلاع میں ضلع کھمم میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں تھا اور حکومت اسے بھی فہرست میں شامل کرے گی ۔ انہوں نے بتایا کہ اردو لکچررس کی مخلوعہ جائیدادوں پر عنقریب تقررات عمل میں آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اردو اکیڈیمی کے بجٹ کا زیادہ تر حصہ عثمانیہ یونیورسٹی تقاریب پر خرچ کیا جائے گا ۔ رمضان المبارک سے قبل سمینار اور ایک تہذیبی پروگرام منعقد ہوگا جبکہ باقی پروگرام رمضان کے بعد رہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی نمائندگی پر مرکز نے نیٹ امتحان اردو میں منعقد کرنے سے اتفاق کرلیا ہے اور آئندہ سال سے اردو میڈیم طلباء کو فائدہ ہوگا ۔ اجلاس میں شریک پروفیسرس اور ریٹائرڈ پروفیسرس نے اکیڈیمی کی جانب سے عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کو خوش آئند قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے نامور فارغین کی خدمات پر سمینار منعقد کیا جانا چاہئیے ۔ اس کے علاوہ عثمانیہ شعراء کا تمثیلی مشاعرہ منعقد کیا جائے ۔ عام مشاعرہ شام غزل اور قوالی جیسے پروگراموں کی تجاویز پیش کی گئی ۔ ایم اے اردو میں ٹاپ کرنے والے طالبعلم کو نواب میر عثمان علی خاں گولڈ میڈل متعارف کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ اردو ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس تجویز کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے ۔ ایم فل اور پی ایچ ڈی کے اردو میڈیم طلباء کو اسکالر شپ یا اسٹیفائنڈ دیا جانا چاہئیے ۔ شرکاء نے یونیورسٹی کے بانی نواب میر عثمان علی خان کے نام سے یونیورسٹی میں چیر قائم کرنے اور میموریل لکچررس کے انعقاد کی تجویز پیش کی ۔ تصویری اور کتابوں کی نمائش کے اہتمام کے بارے میں بھی بعض شرکاء نے تجاویز پیش کی ۔ اس اجلاس میں پروفیسر اشرف رفیع ، پروفیسر قمر جمالی ، ڈاکٹر احمد اللہ خاں ، پروفیسر فاطمہ پروین ، رؤف خیر ، پروفیسر انور الدین ، پروفیسر بیگ احساس ، ڈاکٹر عقیل ہاشمی ، ڈاکٹر معید جاوید ڈاکٹر جاوید کمال ، ڈاکٹر مصطفی کمال ، نہیپال سنگھ ورما ، جگجیون لال آستھانہ ، بصیر افضل ، صوفی سلطان شطاری ، جلال عارف ، شفیع اقبال ، ضیاء الدین نیر ، نانک سنگھ نشتر ، محسن جلگانوی اور دوسروں نے شرکت کی ۔

TOPPOPULARRECENT