عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کی مذمت

وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ : محمد علی شبیر کا ردعمل

وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی سے معذرت خواہی کا مطالبہ : محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : کانگریس کے ڈپٹی فلور لیڈرکونسل مسٹر محمد علی شبیر نے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ پر پولیس لاٹھی چارج کی سخت مذمت کی ۔ وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی کی جانب سے توہین آمیز ریمارکس کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس سے دستبردار ہوجانے اور طلبہ سے معذرت خواہی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ طلبہ کے احتجاج کو حق بجانب قرار دیا ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ جن طلبہ نے تلنگانہ تحریک میں اہم رول ادا کیا ان پر ٹی آر ایس حکومت میں پولیس لاٹھی چارج قابل مذمت ہے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل میں طلبہ کی قربانیاں ناقابل فراموش ہے ۔ طلبہ نے تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کو یقینی بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔ طلبہ کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو مستقل کرنے کی صورت میں ملازمتوں سے محروم ہونے کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں ان میں پائی جانے والی الجھن درست ہے ۔ گذشتہ تین دن سے طلبہ احتجاج کررہے ہیں اور ان پر پولیس مسلسل لاٹھی چارج کرتے ہوئے زخمی کررہی ہے ۔ ان کے خلاف مقدمات درج کررہی ہے اور حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے ۔ پولیس لاٹھی چارج کی مذمت کرنے کے بجائے ریاستی وزیر داخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی نے غیر ذمہ دارانہ بیان دیتے ہوئے پہلے طلبہ کی جانب سے پولیس پر سنگباری کرنے اور جوابی کارروائی کے طور پر پولیس لاٹھی چارج کرنے کا دعویٰ کیا ہے جو مضحکہ خیز اور طلبہ کی توہین کرنے کے مترادف ہے ۔ ریاستی وزیر داخلہ اپنے الفاظ سے فوری دستبردار ہوجائیں اور طلبہ سے غیر مشروط معذرت خواہی کریں کانگریس پارٹی کو طلبہ اور ان کے مسائل سے پوری ہمدردی ہے ۔ صرف نئی حکومت ہونے کی وجہ سے خاموش ہے ۔ ورنہ کانگریس پارٹی طلبہ کے احتجاج کی مکمل تائید کرتی تھی وہ بھی طلبہ سے اظہار معذرت کرتے ہیں ۔ مسٹر محمد علی شبیر نے کہا کہ اقتدار حاصل ہونے کے بعد ٹی آر ایس تحریک میں طلبہ کی حصہ داری اور ان سے کئے گئے وعدوں کو فراموش کررہی ہے ۔ طلبہ اپنے جائز حقوق کے لیے احتجاج کررہے ہیں ۔ حکومت ان سے بات چیت کرنے کے بجائے پولیس پر لاٹھی چارج کررہی ہے ۔ اگر طلبہ احتجاج نہیں کرتے تو مسٹر کے چندر شیکھر راؤ چیف منسٹر نہیں بنتے ، ہریش راؤ ، کے ٹی آر اور مسٹر این نرسمہا ریڈی وزارت پر فائز نہیں ہوتے ۔ قلیل عرصہ میں ٹی آر ایس پر اقتدار کا نشہ طاری ہوگیا ہے اور ٹی آر ایس تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کو نشانہ بنا رہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT