Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی میں ریاستی وزیر کے ٹی راما راو کا گھیراؤ

عثمانیہ یونیورسٹی میں ریاستی وزیر کے ٹی راما راو کا گھیراؤ

کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کے فیصلہ کے خلاف طلباء کا احتجاج

کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے کے فیصلہ کے خلاف طلباء کا احتجاج
حیدرآباد 21 جولائی (سیاست نیوز)تلنگانہ حکومت کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات باقاعدہ بنانے سے متعلق فیصلہ کے خلاف عثمانیہ یونویرسٹی میں طلبہ کا احتجاج دن بدن شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ طلبہ نے حکومت کے اس فیصلہ کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے یونیورسٹی میں آج بھی احتجاج منظم کیا ۔ کابینہ کے فیصلہ کے بعد سے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ ٹی آر ایس حکومت کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اپنے فیصلے سے دستبرداری اختیار کرے کیونکہ کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بنانے سے نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع متاثر ہوجائیں گے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی میں آج طلبہ نے وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راو کے گھیراو کی کوشش کی ۔ کسی سرکاری تقریب میں ان کی شرکت کی اطلاع ملتے ہی طلبہ نے احتجاج منظم کیا اور حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ۔ احتجاجی طلبہ نے راستہ روکو احتجاج منظم کیا جس سے ٹریفک میں خلل پڑا پولیس نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے بعض طلبہ کو گرفتار کیا جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔ یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاج میں شدت پیدا کرنے کیلئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ عثمانیہ یونیورسٹی کے علاوہ تلنگانہ کی دیگر یونیورسٹیز اور کالجس میں بھی ایجی ٹیشن کا آغاز کیا جائے۔ طلبہ نے مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی تائید کے حصول کی بھی کوشش کی ہے بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ جے اے سی نے طلبہ کے مطالبہ سے اظہار یگانگت کیا ۔ کانگریس پارٹی نے بھی عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کے ایجی ٹشن کی تائید کی ہے ۔ واضح رہے کہ طلبہ نے کل سٹی کالج میں ریاستی وزراء ہریش راو اور جگدیشور ریڈی کے گھیراو کی کوشش کی تھی ۔ وزیرتعلیم جگدیشور ریڈی کے گھیراو کی کوشش کے دوران پولیس اور طلبہ کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ طلبہ کے احتجاج سے پریشان حکومت نے مصالحتی کوششوں کا آغاز کیا ہے اور پارٹی کے بعض سینئر قائدین کو طلبہ سے بات چیت کی ہدایت دی ہے ۔دو دن قبل پولیس کی جانب سے احتجاجی طلبہ پر لاٹھی چارج کے بعد سے طلبہ میں سخت ناراضگی دیکھی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT