Thursday , January 18 2018
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ اور پولیس میں جھڑپ کے بعد کشیدگی

عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبہ اور پولیس میں جھڑپ کے بعد کشیدگی

حیدرآباد ۔ 17 نومبر ۔ ( این ایس ایس) عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں پھر ایک مرتبہ آج اُس وقت زبردست کشیدگی پھیل گئی جب پولیس اور طلبہ نے ایک دوسرے پر حملہ کردیا۔ برہم طلبہ نے وہاں تعینات ملازمین پولیس پر شدید سنگباری کی ، جس کے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج کے ذریعہ اُنھیں منتشر کردیا۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو

حیدرآباد ۔ 17 نومبر ۔ ( این ایس ایس) عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں پھر ایک مرتبہ آج اُس وقت زبردست کشیدگی پھیل گئی جب پولیس اور طلبہ نے ایک دوسرے پر حملہ کردیا۔ برہم طلبہ نے وہاں تعینات ملازمین پولیس پر شدید سنگباری کی ، جس کے جواب میں پولیس نے لاٹھی چارج کے ذریعہ اُنھیں منتشر کردیا۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے اعلان کے خلاف عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چلو اسمبلی جلوس کا اہتمام کیا تھا جس کے پیش نظر یونیورسٹی کیمپس میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کرتے ہوئے پولیس کی بھاری جمعیتیں تعینات کردی گئی تھیں۔ پولیس نے بعض ناخوشگوار واقعات کے پیش نظر یونیورسٹی کیمپس کے اطراف ٹرافک کی آمد و رفت کے راستوں کا رخ موڑ دیا تھا۔ طلبہ نے جب کے سی آر حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے چلو اسمبلی جلوس کا آغاز کیا تو پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے کیمپس کے باب الداخلہ کو بند کردیا ۔ جس کے ساتھ ہی طلبہ کی برہمی میں زبردست اضافہ ہوگیا اور طلبہ کا ایک گروپ تشدد پر اُتر آیا۔ ہڑتالی طلبہ نے کہا کہ انھوں نے سوچا تھا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ میں مناسب ملازمتوں کے حصول کے ساتھ ان کی زندگی میں بہتری آئے گی لیکن ٹی آر ایس حکومت نے اپنے وعدوں کے برخلاف تلنگانہ کے اُن طلبہ کو ملازمت کی فراہمی سے انکار کررہی ہے جنھوں نے علحدہ ریاست کے لئے قربانیاں دی تھیں اور کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ نے تلنگانہ ریاستی پبلک سرویس کمیشن کے قیام اور بھرتیوں کیلئے اعلامیوں کی اجرائی کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT