Monday , November 20 2017
Home / شہر کی خبریں / عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب، اُردو ذریعہ تعلیم کے خاتمہ کے بعد دیگر شعبہ جات بھی نشانہ

عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب، اُردو ذریعہ تعلیم کے خاتمہ کے بعد دیگر شعبہ جات بھی نشانہ

عربی، فارسی اور اُردو شعبے شناخت کی برقراری کیلئے کوشاں، ماضی میں کئی اساتذہ کو پدم شری ایوارڈس کے اعزازات
حیدرآباد۔23اپریل (سیاست نیوز) جامعہ عثمانیہ کی صد سالہ تقاریب کے دوران نسل نو کیلئے جامعہ عثمانیہ کی تاریخ انتہائی دلچسپی کا باعث ہے کیونکہ اردو داں طبقہ کیلئے یہ اعزاز ہے کہ ملک کی پہلی جامعہ عثمانیہ یونیورسٹی ہے جہاں تمام شعبہ جات کا تعلیمی نصاب کسی زمانہ میں اردو میں ہوا کرتا تھا اور یہ جان کر اور بھی زیادہ حیرت ہوگی کہ جامعہ عثمانیہ سے ایم بی بی ایس اور انجنیئرنگ کے شعبہ جات بھی اردو میں موجود تھے اس عظیم جامعہ سے اردو زبان کے بتدریج خاتمہ کے باوجود جامعہ عثمانیہ کا شعبہ عربی ‘ فارسی اور اردو اپنی منفرد شناخت برقرار رکھے ہوئے ہے لیکن یہ شعبہ جات اب بھی اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے کوشاں ہیں کیونکہ جو یونیورسٹی اردو زبان کی تھی اس میں اب ایک شعبہ جردو کا رہ گیا ہے تو اس بات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اس شعبہ کی کیا صورتحال ہوگی لیکن اردو داں طبقہ نے جامعہ عثمانیہ کے ان شعبۂ جات کو فراموش نہیں کیاہے جس کے سبب یہ شعبہ جات اب بھی کارکرد ہیں اور عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔جامعہ عثمانیہ کے قیام کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں شعبہ اردو کا قیام عمل میں آیا اور ابتداء میں 1918میں جس وقت یونیورسٹی کا آغاز ہوا انٹرمیڈیٹ کورسس موجود تھے جبکہ ڈگری کورسس کو بعد میں1923سے متعارف کروایا گیا ۔ جامعہ عثمانیہ کے شعبہ اردو کے پہلے صدر شعبہ پروفیسر وحید الدین سلیم رہے اور اس شعبہ میں خدمات انجام دینے والے سرکردہ ناموں میں محی الدین قادری زورؒ کے علاوہ محمد عبدالقادر سروری‘ سید سجاد وغیرہ شامل ہیں۔ حکومت آصفیہ نے محی الدین قادری زور اور سید سجاد کو تحقیق کیلئے لندن و جرمنی روانہ کیا بعد ازاں دونوں احباب نے پروفیسر کی حیثیت سے جامعہ عثمانیہ میں خدمات انجام دیں۔شعبہ اردو میں 1940میں جامعہ نے تحقیقی پروگرامس کو متعارف کروایا اور سابق صدر شعبہ اردو و ڈین ‘ فیکلٹی آف آرٹس پروفیسر رفیعہ سلطانہ ملک بھر میں پہلی خاتون قرار دی گئی جنہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی واضح رہے کہ پروفیسر رفیعہ سلطانہ کو جامعہ عثمانیہ نے 1957میں پی ایچ ڈی کی ڈگری عطا کی۔ شعبہ اردو کو دکنی زبان کے تحفظ کیلئے خصوصی امداد برائے 5سال فراہمی کا فیصلہ کیا گیا اور دکنی مخطوطات ‘ زبان اور تہذیب کے تحفظ میں جامعہ عثمانیہ کے شعبہ اردو کی جانب سے جو خدمات انجام دی گئی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں ۔شعبہ اردو کی جانب سے تاحال 120 پی ایچ ڈی اور 110ایم فل کی ڈگریاں عطا کی گئی ہیں۔ ادبی دنیا سے تعلق رکھنی والی کئی اہم شخصیات و نامور ادیبوں نے اس شعبہ کے صدر شعبہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں جن میںبابائے اردو مولوی عبدالحق ‘ پروفیسر مسعود حسین خان سابق وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی‘ ڈاکٹر عقیل ہاشمی‘ پروفیسر غلام عمر خان‘ ڈاکٹر زینت ساجدہ‘ پروفیسر سیدہ جعفر‘ پروفیسر اشرف رفیع ‘ پروفیسر مغنی تبسم‘ پروفیسر یوسف سرمست‘ پروفیسر اکبر علی بیگ‘ پروفیسر غیاث متین‘ پروفیسر افضل الدین اقبال‘ پروفیسر محمد بیگ احساس ‘ پروفیسر میمونہ اور پروفیسر فاطمہ بیگم شامل ہیں۔شعبہ عربی جامعہ عثمانیہ کا قیام 1919میں عمل میںلایا گیا اوراس کے قیام کے وقت شعبہ میں جملہ تین اساتذہ تھے جن میں بحرالعلوم حضرت محمد عبدالقدیر صدیقی حسرتؒ کے علاوہ مولوی سید ابراہیم رضوی ادیب اور مولانا سیدنبی شامل تھے۔جامعہ عثمانیہ شعبہ عربی کے صدر پروفیسر عبدالستار صدیقی رہے۔ علاوہ ازیں اس شعبہ میں جید علماء نے خدمات انجام دیںجن میں 6اساتذہ کو بہترین خدمات کے عوض صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے سند عطا کی گئی۔ شعبہ عربی کی جانب سے آج بھی نوجوانوں کو عربی تعلیم کی فراہمی عمل میں لائی جا رہی ہے اور شعبہ عربی کے فارغین کو ترجمہ کا ماہر بنایا جا رہاہے جو ملٹی نیشنل کمپنیوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جامعہ عثمانیہ کے شعبہ فارسی کے پہلے صدر شعبہ مولانا سید اشرف شمسی رہے جنہوں نے 1919میں شعبہ کی صدارت سنبھالی ۔1925میں کیمبرج یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر محمد نظام الدین نے صدر شعبہ فارسی کی ذمہ داری حاصل کی۔ اسی شعبہ کی پروفیسر شریف النساء انصاری کو پدم شری ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT