Tuesday , December 11 2018

عثمانیہ یونیورسٹی کے اطراف رنگ روڈ کی تعمیر پر مشاورت کا آغاز

طلبہ تنظیموں سے بھی بات چیت ، چیف سکریٹری کا جائزہ اجلاس
حیدرآباد ۔ /15 مارچ (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کے اطراف رنگ روڈکی تعمیر سے متعلق اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس کا آغاز ہوچکا ہے ۔ یونیورسٹی کی اراضی کا تحفظ اور یونیورسٹی میں فضائی آلودگی سے پاک ماحول ماحول فراہم کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور چیف سکریٹری حکومت تلنگانہ ایس کے جوشی کے ساتھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر راما چندرم اور عظیم تر مجلس بلدیہ حیدرآباد کے عہدیداران نے مشاورتی اجلاس میں شرکت کی ہے اور یونیورسٹی کے اطراف 13 کلو میٹر کے احاطے میں 150 کروڑ کی لاگت سے موجودہ سڑکوں کی توسیع اور سڑکوں کی تعمیر کرتے ہوئے آؤٹر رنگ روڈ پراجکٹ سے جوڑنے کا منصوبہ ہے اور اس پر سائیکلنگ ورکنگ ٹراک کی تعمیر کو بھی شامل کیا گیا ہے اور یہ پراجکٹ مکمل ہونے کی صورت میں فی الحال موجودہ کے بی آر پارک کے سائیکلنگ ٹراک سے بڑا سائیکلنگ ورکنگ ٹراک بن جائے گا ۔ عہدیداران کے مطابق اس پراجکٹ کیلئے 30-25 ایکڑ اراضی کی ضرورت ہوگی اور اس اجلاس میں یونیورسٹی عہدیداران نے بتایا کہ باغ عنبرپیٹ کا علاقہ یونیورسٹی کیمپس کے تحت ہے جس میں موہن تالاب بھی شامل ہے ۔ وہاں سڑک کس طرح تعمیر کی جائے گی ؟ اس بات پر متعلقہ محکمہ کے عہدیداران نے بتایا کہ سڑک موہن تالاب کے حصہ کو چھوڑ کر تعمیر کی جائے گی ۔ جی ایچ ایم سی عہدیداران نے بتایا کہ حبشی گوڑہ اور رویندر نگر کی جانب سے تالاب کی تعمیر کی وجہ سے عثمانیہ یونیورسٹی کے احاطہ میں زیرزمین پانی میں اضافہ ہوگا جس سے یونیورسٹی اور اطراف کی بستیوں کو بھی بورویلس کے ذریعہ پانی حاصل کرنے میں مدد ملے گی اور ساتھ ہی پانی کے حصول کیلئے یونیورسٹی کی جانب سے سالانہ خرچ کئے جانے والے 7 کروڑ کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی اور یونیورسٹی کو حسین ساگر سے زمینی پائپ لائنوں کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جائے گا ۔ واضح ہو کہ یونیورسٹی کے اطراف رنگ روڈ کی تعمیر کے خلاف بعض طلباء تنظیمیں مخالفت کررہی ہیں جنہیں راضی کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ فی الحال یونیورسٹی کے احاطے کی مختلف بستیوں میں 5 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں اور یہ بستیاں کم و بیش 70-60 ایکر اراضی پر مشتمل ہیں اور انہیں شہر کے دیگر علاقوں میں مکانات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی مگر وہاں کے باشندوں نے خالی کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ہماری روزی روٹی کے ذرائع ہیں ۔ جس کی وجہ سے ان بستی واسیوں کو یونیورسٹی کی اراضی میں ہی ڈبل بیڈرومس مکانات تعمیر کرکے دیئے جانے سے متعلق غور کیا جارہا ہے ۔ اور ان مکانات کی تعمیر کیلئے پی جی آر آر سی ڈی ای کی جانب سے 10 ایکڑ اراضی فراہم کرنے پر مکانات تعمیر کئے جائیں اور موجودہ بستیاں خالی ہونے کی صورت میں تقریباً 70 ایکڑ اراضی یونیورسٹی کو دستیاب ہوگی اور اس مناسبت سے یونیورسٹی عہدیداران نے جواب دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ واضح ہو کہ یونیورسٹی کے اطراف اکثر اراضی تنازعات اور عدالتوں کی نظر ہوچکی ہیں جس سے اس بات کا گمان ہوتا ہے کہ پھر ایسی اراضی پر کیسے رنگ روڈ تعمیر کی جائے گی ؟ اور یونیورسٹی عہدیداران کا کہنا ہے کہ بعض افراد یونیورسٹی کی زمینات پر قبضہ کئے ہوئے ہیں ۔ اگر ان زمینات کو چھوڑکر سڑکیں تعمیر کی گئیں تو مقبوضہ اراضی کو قانونی حیثیت فراہم کرنے کے مترادف ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT